پہلے الطاف حسین کو گالی دو


اسلام میں شرک اور والدین کی نافرمانی دو عظیم گناہ ہیں۔ لیکن ان گناہوں میں لتھڑے ہوئے، اسلام کی محبت میں سرشاری کا حقیقی لبادہ اوڑھ کر ( گیٹ اپ) اور پانچ وقت مسجد کا راستہ ناپنے والے، آتے جاتے صفائی نصف ایمان کی تکرار کے ساتھ ملاوٹی گٹکے کی پیکوں سے درو دیوار رنگین کر کے، حکومت وقت اور نظام کو کوس کر اپنی ذمہ داری پوری کر تے ہیں، اوران کی عورتیں گٹکے اور گندی عادات روکنے میں ناکام ہو تی ہیں تو خود بیٹھ کر پانی پینے اوردوسروں کو جوڑوں کے درد سے نجات کی تلقین کرتے ہوئے اس پریکٹس پر زور دینے لگتی ہیں۔

ہماری قوم کے علمی شعور، فہم، اور دین سے واقفیت کا جائزہ لینا ہو تو کسی عزیز کے جنازے میں شریک لوگوں کی گفتگو سن لیں۔ ایسی روح پرور گفتگو، اور ایسے نیک لوگ آپ کو حج سے واپسی یا میت کے موقع پر ہی دستیاب ہو سکتے ہیں۔

عربی میں لوگوں کی کثیر تعداد کے حساب سے قرآن شریف کا ختم، کسی بھی دن موت ہو اسے کسی نہ کسی طرح مبارک دن سے جوڑ کر، مردے کے نیک ہونے کی دلیل اور اس کے جنت میں جانے کا سرٹیفکٹ بڑی فیاضی سے دیتے ہیں۔ یہ ہی وہ لوگ ہیں جو ماتھے پر محراب اور محب رسول کی پہچان حلیے سے کرتے ہیں۔

بیانِ جہل ہے واں اور یاں عبادتِ نفس
اسی کو کہتے ہیں منبر ہے کیا یہی محراب
میراحمد نوید

ہماری قوم کی اکثریت یوں تو اپنے ہی ہاتھ پر بیعت ہے۔ لیکن آخری نبی سے محبت اور ختمِ نبوت پر ایمان ثابت کرنے کے لیے کسی کافر کے رہنما کو گالی دینا ضروری ٹھہرا ہے۔ کافر کے رہنما کو گالی دینے کا مطلب اس کے چاہنے والوں کے دل زخمی کرنا ہے۔ کوئی حساس، قوم سے مخلص، درد مند دل رکھنے والا کیسے یہ حرکت کر سکتا ہے۔ جبران ناصر نے بھی مشتعل مجمع کے اصرار کے باوجود یہ کریہہ حرکت نہیں کی۔ تمام مذاہب اور انسانیت کا حترام کرنے والا ایسی حرکت سوچ بھی نہیں سکتا۔

جبران ناصر کے مطابق انہوں نے شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور الیکشن کمیشن آف پاکستان میں بھی اپنا عقیدہ ظاہر کیا ہو ہے۔ یہ دین کا تقاضا ہے کہ محمد ﷺ کو آخری نبی مانا جائے اور دل سے اقرار کیا جا ئے۔ جبران کی باتوں اور لہجے کی اسقامت سے صاف ظاہر ہے کہ وہ احمدی نہیں ہے۔ لیکن اس نے فتنے کو ہوا دینے والوں پر اور اپنی نیک نیتی ثابت کرنے کے لیے ان کا مطالبہ نہ مان کر عوام اور نوجوانوں اپنا گرویدہ ضرورکر لیا ہے۔

کراچی میں پچھلے الیکشنزمیں کامیاب ہو نے والے کسی کھمبے سے یہ سوال کرنے کی کسی نے جرات نہیں کی، ایک نہتے جوان کی باتوں میں ایسا کیا ہے کہ لوگ اس سے کسی اقلیتی کمیونٹی اور اس کے رہنما کو گالی دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کراچی کے ووٹرز کیا یہ ہی مطالبہ فاروق ستار یا فیصل سبز واری سے کر سکتے ہیں کہ بھا ئی تمہاری ساری باتیں اچھی اور سچی ہیں، اگر تم کہتے ہو کہ تمہارا، ایم کیو ایم لندن سے کو ئی تعلق نہیں تو پہلے الطاف حسین کو گالی دے کر دکھاؤ

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں