اویس اقبال کا مکالمہ اور صحافت اسلامیہ کے سلطانِ اول


farnood01مکالمہ ایک جگر آزما عمل ہے۔ گلاب کی پتی سے ہیرا کاٹنے کا ہنر ہے۔ پرخار پگڈنڈیوں پہ کانٹوں سے الجھتے دامن کو بچا لے جانے کا فن ہے۔ سیانے بہت پہلے کہہ گئے تھے کہ لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام۔ دیکھنا ہے کہ انیس کے آبگینوں کو کہیں ٹھیس نہ لگ جائے۔ قدم دو قدم ہی چلیئے، مگر ضروری ہے کہ درست سمت میں چلیئے۔ آواز نحیف سی سہی، دلیل کی طاقت سر چڑھ کے بولے۔ سنانے سے زیادہ یہاں سننے کا حوصلہ درکار ہے۔ خود کے غلط ہونے کا احتمال باقی رکھنا ہوتا ہے تاکہ خود کے ٹھیک ہونے کا امکان پیدا ہونا شروع ہو۔ حریف کے ٹھیک ہونے کا امکان باقی رکھنا ہوتا ہے تاکہ ارتقا کی لہر کو مطلوبہ رفتار سے گزرنے کا رستہ ملے۔ یہ سب مگر تب ممکن ہے جب علم کا پشتارا کندھوں پہ دھرا ہو۔ یہ کندھوں پہ دھرے علم کا بوجھ ہوتا ہے جو کمر جھکا دیتا ہے۔ علم ہی تو آپ کو بتاتا ہے کہ آپ کس قدر لاعلم ہیں۔ علم نہ ہو تو سب کچھ جاننے کا احساس تعاقب میں رہتا ہے۔الفاظ اور حروف کندھے اچکا اچکا کر قطعیت پہ اصرار کرتے نظر آتے ہیں۔ یعنی کوئی مانے نہ مانے بس مستند ہے میرا فرمایا ہوا۔ سوال اٹھے گا تو کف اڑیں گے۔ اعتراض ہوگا تو آستین چڑھیں گے۔ بات یہ ہے کہ محض دشنام طرازیوں اور الزام تراشیوں کا سہارا لیکر اونچی آواز میں بولنے والے لوگ دراصل اسٹین لیس اسٹیل کے برتن ہوتے ہیں، جو خالی ہونے کی وجہ سے بہت کھنکتے ہیں۔ بھرے ہوئے جام کی خاموشی بولتی ہے۔ خالی جام کا شور تو بے مائیگی کا ماتم ہوتا ہے۔ پریشانی یہ ہے کہ یہ رویہ جب بھی دیکھا، بطور خاص الہامی طبعیتوں میں ہی کیوں دیکھا۔ صاحبِ علم کچھ بھی ہوسکتا ہے، مغرور نہیں ہوسکتا۔ علم کا انتہائی غرور یہ ہے کہ سوال سننے سے انکار کردیا جائے۔

یہیں پر کہیں ایک استاد نے سازندوں کو قیمتی پند ونصائح سے نوازا تھا۔ حاصل کلام یہ تھا کہ حقیقت تو خداوند نے ہم ہی پر آشکار کی ہوئی ہے، بس اتنا سمجھ لیجیئے کہ باطل سے ہم کلام کیسے ہونا ہے۔ حد یہ رہی کہ انہیں کشف ہوچکا تھا کہ ایک سیکولر مسلمان کا اپنے رب کے ساتھ تعلق بہت سطحی ہوتا ہے۔ سیکولر مسلمان اور خدا کے بیچ اس سطحی تعلق پر وہ نہایت افسردہ تھے اور خود کے خدا کے ساتھ ٹھوس تعلقات پر کامل اطمینان کا اظہار فرما رہے تھے۔ کچھ ہی دن پہلے صحافتِ اسلامیہ کے سلطانِ اول نے اویس اقبال کے سوال کو بکواس کہہ کر میز کی ٹنڈ بجانا شروع کی تو کوئی تعجب نہیں ہوا۔ پھر اس سوال کو بلاسفیمی کہا تو بھی کچھ ایسا عجیب نہیں لگا۔ اگر کسی کے جملے کی تشریح کرنے کا اختیار سلطانِ اول کے پاس نہ ہوتا تو پھر وہ سلطانِ اول تو نہ ہوتے نا صاحب۔ مذہب کے دائرے میں سلطان اب سند کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ سلطانوں کا فرض منصبی یہ ہے کہ وہ ایمان ناپتے ہیں، باقی گردن سیانے لوگ خود ناپ لیتے ہیں۔ سپاہ صحابہ اور اس کے اکابر ایمان ناپتے ہیں، گردن لشکر جھنگوی گردن ناپ لیتی ہے۔ وحدت المسلمین ایمان ناپتی ہے، گردن ناپنے کا کام سپاہ محمد پہ چھوڑ رکھا ہے۔ مفتی حنیف قریشی نے جمناسٹک خطبے میں ایمان ہی ناپا تھا، گردن ناپنا پھر ممتاز قادری کا کام تھا۔ یہاں شیخ مظفر نے جنید جمشید کا ایمان ناپا، وہاں گردن ناپنے کو اختر منشی پہنچ گیا۔ اویس اقبال کا ایمان سلطان نے ناپ کر میز پر رکھ دیا ہے، اے ایمان والو! کوئی ہے جو اپنی ایمانی غیرت کو خون پلاکر عاقبت سنوارنا چاہتا ہو؟

سلطان اور ان کے خلفا نے فیصلہ کرنا ہے کہ انہوں نے گفتگو کرنی ہے یا داعش کی سہولت کے لیے ’’باطل‘‘ کے نمائندوں کو نشان زد کرنا ہے؟ اگر گفتگو کرنی ہے، تو پھر کیا اداکاری ڈرامہ نویسی افسر شاہی اور کالم نگاری کرنے والی ہستی کو بھی اب سمجھانا پڑے گا کہ سوال کبھی بھی غلط نہیں ہوتا۔ سوال اٹھتا ہے، اور ہر سوال اپنا جواب مانگتا ہے۔ دستیاب انسانی تاریخ میں وہ لوگ بے شمار ہیں جو سوال کرنے کے جرم میں ختم کر دیے گئے، مگر ایسا ایک بھی سوال نہیں ہے جو ختم کیا جاسکا ہو۔ آج نہیں تو کل، سوال تو اٹھے اور ضرور اٹھے گا۔ آپ نہیں تو کوئی اور، جواب تو دے گا اور ضرور دے گا۔ فکر کی دنیا میں کھسکنے کے لیے کوئی کتنی ہی پتلی گلی نکال لے، سوال اس گلی میں اپنی جگہ بنا ہی لیتا ہے۔ کسی کو ہو نہ ہو، سوال کو ہر چور دروازے کا خوب علم ہوتا ہے۔ مکالمے کی دنیا میں ظفرمند وہی ٹھہرے گا جو سوالیہ نشان کو جوابی فکر سے کھرچے گا۔ جوابی کار روائی سے سوالیہ نشان مزید گہرا ہوجاتا ہے۔ جوابی کاروائی کرنے والے شہر کے کوتوال تو ہوسکتے ہیں علم کے رکھوالے نہیں ہوسکتے۔ لکھنا ہی نہیں ہوتا، اپنے نوشتے کو سہنا بھی پڑتا ہے۔ سہہ نہیں سکتے تو اس راہ کے انتخاب پر کس نے کسی کو مجبور کیا ہے۔ جب پائپ کا کش لگا کر ایک باپ اپنی بیٹی کو گھر میں بٹھا کر کہے گا کہ تمہاری جسمانی ساخت کا تقاضا ہے کہ تم گھر میں قید رہو، تو بیٹی سوال تو اٹھائے گی کہ اے پدرِ من ! کیا میری ماں کی جسمانی ساخت آلٹر کروالی گئی تھی جو وہ بلوچستان یونیورسٹی میں نوکری فرماتی رہیں؟ جب میرے ابا حضور عوام کے جم غفیر میں کھڑے ہوکر انگریزی زبان اور مغربی علم گاہوں پہ نفرین کریں گے، اور پھر مجھے ویزہ تھما کر اعلی تعلیم کے لیے فرنگیوں کے دیس کو روانہ کریں گے تو کیا اس حسنِ تضاد پر سوال نہیں اٹھے گا؟ سوال تو اٹھے گا کہ بابا مجھ پہ یورپ کا دروازہ آپ نے کیا اس لیے کھول دیا ہے کہ خدا نے آپ کو میرے ایمان کی سلامتی کی تاحیات ضمانت دے رکھی ہے؟ مخلوط اجتماع کا معاملہ زیر بحث ہے، آپ اپنا ایک مقدمہ رکھتے ہیں، میں سمجھنا چاہتا ہوں، اسی تفہیم کے لیے سوال اٹھاتا ہوں اور آپ کہتے ہیں چپ کرو تم اپنی بکواس بند رکھو؟ میرا کیا جاتا ہے، میزبان اویس اقبال کا کیا جائے گا، بس سنتے کانوں کو آپ یہ تاثر دینے میں کامیاب ہوگئے کہ اٹھائے گئے سوال کا کوئی منطقی جواب آپ نہیں رکھتے۔ فقط اپنی سوچ مسلط کردینا چاہتے ہیں، مگر ٹائی لگا کر۔ اگر سوال کا جواب ہوتا تھوک اڑانے کا سوال بھی پیدا ہوتا؟ اب فرماتے ہیں کہ میں اویس اقبال کے ساتھ پروگرام نہیں کروں گا۔ کوئی بتلا دے کہ اس رویئے کو کم سے کم الفاظ میں بھی فرار کے سوا اگر کچھ کہا بھی جائے تو کیا کہا جائے؟ میری سنجیدہ رائے میں اگر ایک شخص سوال کا سامنا نہیں کرسکتا، اسے قلم اور مائک چھوڑ کر خانہ خدا کے سائے میں ایک دکان کر کے عود کی شیشی اور زیتون کی مسواک بیچ لینی چاہیے۔ محنت کرنے والا خدا کا دوست ہوتا ہے۔

جس سماج میں سوال نہیں اٹھے گا وہاں علم کو جگہ نہیں مل سکتی۔ فرسودہ خیالی کو مسترد کرنے والے ہی فکری جمود توڑتے ہیں۔ جو گئے وقتوں کی عمارت نہیں گرا سکتے، وہ تعمیر کا حوصلہ کیسے کریں گے۔ کھودیں گے نہیں تو دریافت کیا کریں گے۔ کھوجیں گے نہیں تو بازیافت کیسے ہوگی۔ کھریدیں گے نہیں، تو رسائی کیسے ملے گی۔ بھوک اگر حقیقت ہے تو کھانے سے کوئی رک سکا ہے؟ پھر جستجو اگر حقیقت ہے تو سمجھ لینا چاہیئے کہ تلوار سے لے کر توپ تک کا سفر حضرتِ انسان کو سوال اٹھانے سے کیوں نہیں روک سکا ہے۔ پھر ٹی وی میزبان کا سوال؟ میزبان کا تو فرض منصبی ہی یہ ہے کہ وہ سوال اٹھائے گا۔ اصحابِ علم سوال سونگھتے پھرتے ہیں۔ ٹی وی شو میں آئے مہمان اگر صاحب علم ہوں تو ان کی خواہش ہوتی ہے کہ مشکل سے مشکل سوال ہو کہ میری جوابی فکر کا ابلاغ ممکن ہو سکے۔ مگر وہی بات، علم کی بجائے یقین ہی سارا تلوار کی نوک پہ ہو تو فرار پہ بھی فاتحانہ تکبیر بلند ہوتی ہے۔ الہامی طبعیتوں کی بات سمجھ آتی ہے، مگر یہ پیمرا کے عالی دماغوں کو کیا ہوا جو میزبان اویس اقبال کو ہی نوٹس جاری کر دیا۔؟ فرماتے ہیں کہ میزبانی دینے سے پہلے دیکھ لیا کریں کہ میزبان اس کام کا اہل بھی ہے کہ نہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کسی کا باطن اس کے ظاہر پہ آشکار کردینے والے نوجوان بھی اگر اہل نہیں، تو پھر کیا وہ میزبان اہل ہیں جو ہر چلتی بس میں چڑھ کر لقمانی منجن بیچنا شروع کر دیتے ہیں؟ یونان کے ڈرامہ نویس یوری پی ڈیز نے کہا تھا ’’کسی کو غلام بنانا ہو تو بس اتنا کرو کہ اس سے خیال اور رائے کی آزادی چھین لو‘‘


Comments

FB Login Required - comments

4 thoughts on “اویس اقبال کا مکالمہ اور صحافت اسلامیہ کے سلطانِ اول

  • 11-05-2016 at 2:00 pm
    Permalink

    فرنود عالم، کیا خوب تحریر ہے، ایک ایک جملہ، دودوبار پڑھنے اور سوچنے کی دعوت دتیا ہے ۔ کسی ایک جملے کی نشاندھی کرکے باقی تحریر کا لطف زائل نہیں کرنا چاہتا ۔ خدا ہمیں اس غلامی سے بچائے رکھے جہاں ’’ خیال اور رائے کی آزادی چھن جائے۔‘‘

  • 11-05-2016 at 2:04 pm
    Permalink

    نہایت عمدہ تحریر ۔۔۔ جزاک اللہ ۔
    ایک فقرے میں تو آپ نے دنیا سمو دی ھے۔
    ” جس سماج میں سوال نہیں اٹھے گا وہاں علم کو جگہ نہیں مل سکتی ۔”
    یہی وجہ ھے ھماری فکری و علمی انحطاط کی اور یہی وہ راز ھے جس کو پا کر آج مغرب دنیا میں سرفرازی کے تخت پر متمکن ھے۔

  • 11-05-2016 at 4:40 pm
    Permalink

    بہت خوب۔ مگر یہ بہرے کانوں میں کڑوا تیل ڈالے سو رہے ہیں۔ ان پر ایسی صدائیں اثر نہیں کرتیں۔ لیکن اس میں صدا کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ بتانا تو ہوگا کہ ان کی اصل اوقات کیا ہے۔ وہ آپ نے خوبی سے بتا دی۔

Comments are closed.