ایک فضائی میزبان کی ڈائری


khawar jamal

بھائی آپ اسی روٹ پر ہوتے ہیں ؟
(یا الله ! میں کوئی 37 نمبر ویگن ہوں ؟ یا لاہور سے ملتان براستہ ساہیوال چلنے والی ڈائیوو بس ہوں؟ ) جی نہیں بھائی، میں دوسرے روٹس پر بھی ہوتا ہوں۔
اچھا اچھا! آپ ملک سے باہر فلاٹوں پر بھی جاتے ہیں ؟
ہاں جی جاتا ہوں۔۔
اچھا! پھر آپ کو وہاں باہر نکلنے دیتے ہیں ائیرپورٹ سے ؟
(نہیں ! وہاں ائیرپورٹ پر عملے کو بند کر دیتے ہیں ایک کمرے میں ، دو ایک دن بھوکا پیاسا رکھتے ہیں پھر وطن واپس بھیج دیتے ہیں ) جی ہاں! (بیزار سا منہ بنا کر) کیوں نہیں۔۔
اچھا اچھا ! (پھر آنکھوں میں ایک حاسد چمک اور نیم خباثتی مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا جاتا ہے ) یہ ایئر ہوسٹل بھی ساتھ جاتی ہیں آپ کے؟

خیر یہ تو روزمره کے سوالات ہیں، ایسے ایسے لوگوں سے پالا پڑتا ہیں کہ دل چاہتا ہے آدمی جہاز سے چھلانگ لگا دے۔پاکستان میں آپ کو ڈاکٹر، انجنیئر اور بینکر تو بہت ملیں گے لیکن فضائی میزبان بہت کم۔ دنیا میں بھی یہ تناسب بہت کم ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق لاکھوں لوگوں میں سے ایک فضائی میزبان ہوتا ہے۔

ہمیں کچھ مہینوں تک مخصوص تربیتی مراحل سے گزارا جاتا ہے جس میں مختلف قسم کے ہنگامی حالات سے نمٹنا شامل ہوتا ہے۔ اگر 36000 فٹ کی بلندی پر آپ کو طبی امداد کی اشد ضرورت پیش آ جاتی ہے تو خدا کے بعد فضائی میزبان ہی آپکا واحد سہارا ہوتا ہے اسی طرح اگر فضا میں بلند ہونے سے پہلے ہی آپ کے جہاز کو حادثے نے آ لیا ہے اور ہنگامی اخراج متوقع ہے، تو امید کی واحد کرن آپکا فضائی میزبان ہی ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی مسافر خاتون حاملہ ہے اور پیدائش متوقع ہے تو جب تک جہاز کسی قریب ترین مقام پر اتر نہیں جاتا جہاں ڈاکٹر اور اسپتال میسر ہوں، آپ کے یہ فضائی میزبان ہی آپ کی دائی ماں ہوتے ہیں۔

چناچہ اپنے فضائی میزبان سے بنا کر رکھیے اے نہ ہوے کدرے ایمرجنسی اچ توانو جہاز وچ ہی چھڈ جاوے “ہن پی توں پیپسی جنی مرضی” (یہ نہ ہو آپ کو جہاز میں ہی یہ کہہ کر چھوڑ جائے، اب پیو پیپسیاں جتنا دل چاہے!) ۔۔۔۔۔ معاف کیجیے گا جذبات میں آ کر دل کی بات لکھ بیٹھا ہوں۔ کہنے کا مقصد ہے ہر طرح کی صورتحال میں فضائی میزبان آپ کا دوست اور سہارا ہے۔

یہ ایک انتہائی عجیب قسم کی نوکری ہے 9 سے 5 والی نوکری کرنے والے کبھی یہ کام نہیں کر سکتے ، اور نہ کبھی ہم لوگ نو سے پانچ والی نوکری کر سکتے ہیں۔ نہ دن کا پتہ نہ رات کا۔ نہ کوئی کھانے کا وقت نہ سونے جاگنے کا۔ کبھی رات کو تین بجے روانگی تو کبھی دوپہر کو دو بجے آمد!

لیکن اس نوکری کے مثبت رخ بھی بہت ہیں۔ ملک ملک کی سیر، طرح طرح کی ثقافت دیکھنے کے مواقع، مختلف شعبہ ہاۓ زندگی سے تعلق رکھنے والے مشہور لوگوں سے ملاقات۔ میں نے بڑے لوگوں سے ملاقات کی۔ کئی کے ساتھ تصاویر بنوائیں، آٹوگراف لیے، کئی کو اگنور بھی کیا، ایک پچھتاوا ہمیشہ رہے گا کہ اسد امانت علی خان کے فلائٹ میں موجود ہوتے ہوئے بھی نہ مل سکا۔ وہ نوجوانی کا زمانہ تھا، کلاسیکی موسیقی سے خاص رغبت نہ تھی، خیر اب بہت سنتا ہوں ان کو۔

اس نوکری سے پہلے بہت سیدھی سیدھی زندگی گزاری۔ گھر سے اسکول، اسکول سے گھر، گھر سے کالج، کالج سے گھر۔ لیکن اس نوکری میں آ کر صرف دبئی ہی اتنی بار جا چکا ھوں کہ اتنی مرتبہ تو دو گلیاں چھوڑ کر رہنے والی خالہ کے گھر نہیں جا پاتا۔

2005میں پہلی مرتبہ ایک فائیو سٹار ہوٹل میں قیام کرنے کا موقع ملا۔ چابی کے نام پر ایک کارڈ تھما دیا گیا۔ لفٹ سے مقررہ فلور پر پہنچا اور کمرہ نمبر تلاش کر کے دروازے کے سامنے کھڑا ہوں، اب کے اسے کھولوں کیسے؟ مرے ذھن میں تو روایتی تالا چابی والا کانسپٹ تھا۔ راہداری میں بھی سکوت اور اندھیرا، دروازے کا بھی ہیولا ہی نظر آ رہا تھا، بندا نہ بندے کی ذات، پانچ منٹ تو کھڑا ہی رہا، کارڈ کو دروازے کے آگے گھمایا، کان لگا کے سنا کہ اندر کوئی ہے تو نہیں ، اتنے میں ایک سینئر کا ادھر سے گزر ہوا کہنے لگے ” کیا ہوا خاور؟ کی (چابی) کام نہیں کر رہی؟” میں نے بھی پر اعتماد لہجے میں جواب دیا ” جی سر خراب لگ رہی ہے ، آپ ٹرائی کریں”، تو پھر مجھے پتہ چلا کہ کارڈ کہاں لگے تو دروازہ کھلتا ہے۔ اور پھر وہی کارڈ کمرے کے اندر موجود ہولڈر میں لگے، تو لائٹ جلتی ہے، جوکہ مجھے بتانے کی ضرورت نہیں کہ یہ بھی میرے سینئر نے ہی بتایا۔

سفر پے شرط ، مسافر نواز ہی نہین، رہنما بھی ملتے ہیں


Comments

FB Login Required - comments

خاور جمال

خاور جمال پیشے کے اعتبار سے فضائی میزبان ہیں اور اپنی ائیر لائن کے بارے میں کسی سے بات کرنا پسند نہیں کرتے، کوئی بات کرے تو لڑنے بھڑنے پر تیار ہو جاتے ہیں

khawar-jamal has 18 posts and counting.See all posts by khawar-jamal

3 thoughts on “ایک فضائی میزبان کی ڈائری

  • 11-05-2016 at 2:27 pm
    Permalink

    بخدا یہ ساری جمال فیملی ہی کمال ہے

  • 11-05-2016 at 3:20 pm
    Permalink

    سبحان اللہ۔شاندار

  • 11-05-2016 at 4:15 pm
    Permalink

    پسندیدگی کا بہت بہت شکریہ. یہ بلاگ ابھی جاری ہے. 

Comments are closed.