اگر میں ”محکمہ زراعت“ ہوتا


* اگر میں ”محکمہ زراعت“ ہوتا تو مجھے اچھی طرح معلوم ہوتا کہ اس وقت خطے میں فیصلہ کن معاشی اور سیاسی فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ اس لیے میری کوشش ہوتی کہ کوئی بھی ایسی حکومت نہ آئے جو خطے میں میری پالیسیوں کو چیلنج کرے، اور میرا مقابلہ کرنے پر اتر آئے۔

* میری سب سے پہلی کوشش ہوتی کہ نواز شریف کی طرح اکثریتی حکومت نہ بنے۔ میں اس مرتبہ معلق پارلیمان کو ترجیح دیتا، کمزور حکومت مجھے فائدہ دیتی۔
* ایسا کرنے کے لیے پھر میں سوچتا کہ کیا پنجاب میں مسلم لیگ نون کو شکست فاش دی جا سکتی ہے؟ جواب ہے نہیں۔ تو کیا مسلم لیگ نون کو کمزور کیا جا سکتا ہے تو جواب ہے ہاں۔ میں پھر مسلم لیگ نون کو کمزور کرتا۔ جو لوگ میرے ساتھ ٹکراؤ چاہتے تھے میں دستانے پہن کر انہیں کھڈے لائن لگاتا۔

* پھر میں چائے کی چسکی لیتے ہوئے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کے کڑاکے نکالنے کے بعد سوچتا کہ اب حکومت کس کی ہو؟
* میرے پاس اس وقت دو آپشن ہیں ایک عمران خان اور دوسرا شہباز شریف۔ زرداری صاحب کو میں پہلی مرتبہ تیسری پوزیشن پر لاتا۔

* میں بڑے غور کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچتا کہ کمزور حکومت شہباز شریف کو دے دی جائے۔ ایک تو مسلم لیگ کے احتجاج کا توڑ ہو جائے گا اور دوسرا ہر کوئی دوبارہ سوچنے پر مجبور ہوگا کہ میں نیوٹرل رہا ہوں۔ تیسرا شہباز شریف آزمائے ہوئے بندے ہیں۔ ماضی میں دکھ سکھ کے ساتھی رہے ہیں۔ بڑھے بھائی کی طرح ”احسان فراموش“ نہیں ہیں۔ چوتھا فئیر اینڈ فری انتخابات بھی تو ضروری ہیں۔

* میں عمران خان کو اس وجہ سے نہ لاتا کہ اس وقت نیا تجربہ ٹھیک نہیں ہے۔ میں ماضی کی طرح عمران خان کو صرف نون لیگ کو کمزور کرنے اور معلق پارلیمان کی تشکیل کے لیے استعمال کرتا۔ اس ”اہم موڑ“ پر میں کبھی بھی کسی نئے اور اَن پریڈیکٹڈ بندے کو حکومت نہ دیتا۔ لہذا اگر لوگ سمجھتے ہیں کہ عمران خان آئیں گے تو میں بھی یہی چاہتا کہ لوگ اور خود عمران یہی سمجھیں۔ میں نہیں چاہتا کہ اس مرتبہ وہ دھاندلی کا نعرہ لگا کر دھرنے دیں۔

* بیرونی دباؤ کا سامنا کرنے کے لیے میں اس مرتبہ انتہائی دائیں بازو کی اور مذہبی جماعتوں کو بھی پارلیمان میں لے کر آتا اور وقت آنے پر انہیں بیرونی مطالبات کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنا کر کھڑا کر دیتا۔

* صوبوں سے مجھے کوئی خاص لینا دینا نہیں۔ میری طرف سے خیبرپختونخوا میں بے شک دوبارہ تحریک انصاف، سندھ میں دوبارہ پیپلز پارٹی اور پنجاب میں دوبارہ مسلم لیگ نون ہی آئے۔ ہاں میں ماضی کی نسبت چاہتا کہ یہ تینوں صوبائی سطح پر بھی کمزور ہوں۔ اس سے پہلے کہ یہ مجھے مرکز میں تنگ کریں۔ میں انہیں صوبوں میں ہی انگیج رکھوں گا۔

* اب پریس کانفرنس کا وقت آن پہنچا ہے۔ میری پریس کانفرنس میں وہی لوگ آئیں گے، جن کو میں بلاوں گا۔ جب پریس کانفرنس میری ہے تو آپ کو کیا تکلیف ہے؟ منہ بنانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ چلیں جی چلیں شروع کرتے ہیں۔
خواتین و حضرات میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ الیکشن فئیر اینڈ فری ہوں گے۔ میں چاہتا ہوں کہ بیلٹ سے اتنے ہی ووٹ نکلیں، جتنے ڈالے گئے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں