’تسی دھرتی‘باروں کی تہذیب کا نمائندہ ناول


saeed bhuttaزاہد حسن ، دیس پنجاب کا وہ سپوت ہے جس نے ماں بولی میں چار ناول تخلیق کیے ہیں۔ اس طرح سے اس نے اپنا نام ہی بلند نہیں کیا بلکہ ماں بولی کا بھرم بھی رکھ لیا ہے۔ ’تسی دھرتی‘ کا مطالعہ کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہ فکشن کے فن اور ہنر سے خوب واقف ہے۔اس کے پہلے تینوں ناولوں پر موضوعی اور اسلوبیاتی حوالے سے بہت بحث مباحثہ ہوا ہے ….بار، کے دو سو برسوں کے جیون اور بار میں بسنے والوں پر بیتی، گزری کو اس نے یوں فنکارانہ طور پر سنبھال لیا ہے کہ پریت محبت، تہذیب و تمدن، حسد اور غصہ اور کمزور اور طاقت ور کی یہ کہانی ہمیں پلکیں نہیں جھپکنے دیتی۔ یہی تہذیبی نقشہ پڑھنے والے کو ہاتھ بڑھا کر گلے لیتا ہے۔
ناول کی بنیادی کہانی تو وہی ہے جو صدیوں سے چلی آرہی ہے، طاقتور اور کمزور کی جنگ۔ لکھنے والے صدیوں سے اس موضوع پر لکھتے چلے آئے ہیں اور لکھتے رہیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ بنیادی انسانی مسئلے ایک جیسے رہتے ہیں۔ کسی ناول نگار یا مورخ کی انفرادیت یہی ہوتی ہے کہ وہ اس کا سرا کس سمت سے پکڑتا ہے۔ تہذیبی تصویر، لینڈ سکیپ اور انسانی جذبات کو کس طرح رچا کر سامنے لاتا ہے۔
یہ ناول انیسویں اور بیسویں صدی کے پنجاب کے کلچر اور رہن سہن کے بارے میں تخلیق کیا گیا ہے۔ پانی ہی رزق کا بنیادی سرچشمہ ہے اور حقیقت بھی۔ دریاﺅں کے کنارے پانی آسانی سے ملتا ہے اور کنوﺅں کا پانی بھی نیچے سے اونچا ہوتا ہے۔ جو خوش حالی کی ضمانت ہوتا ہے۔ اس خوش حالی کا ازلی دشمن بیرونی حملہ آور ہے جو آنکھوں دیکھتے بیٹی، بہن اور دھن دولت لوٹ لے جاتا ہے۔ یوں اپنے پیچھے منحوسی اور خودکشی کی نئی کہانیاں چھوڑ جاتا ہے۔ اور اگر اپنا آپ، اپنی عزت ، غیرت بچانے کے لیے باروں میں جا چھپنے اور یوں زندگی کرنے کا سوچیں تو رزق کے وسیلے اتنے کم ہوتے ہیں کہ ایک بار پھر سے من میں وہی لالچ انگڑائیاں لینے لگتا ہے کہ زندگی آسان ہو تاکہ جینے کا سامان بنا رہے۔ رزق وسیلوں کے اوپر پھر قبضہ کرنے اور لوگوں کو اپنا کمی بنانے کے لیے ایک بار پھر سے یہ قوتیں راستہ روکے کھڑے دکھائی دیتی ہیں۔ یوں کمزور اور بے ہمت انسان خالی ہاتھ، ایک بار پھرسے پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لیے نئی راہوں پر گامزن ہو جاتا ہے۔
ناول تاریخ کے تین زمانوں، انگریزی راج سے پہلے کے پنجاب، راج کے پنجاب اور اس کے مابعد زمانے کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہے۔ پہلے سمے میں چاہے zahidحملہ آور اور ممورے فتیانے جیسے کردار بھی ہیں جوانسانی زندگی عذاب بنائے ہوئے ہیں لیکن یہاں ایک طرح کی آزادی بھی ہے۔باپ دادا کی آباد کی گئی جگہوں کے ساتھ جذباتی واقعات کی ساجھے داری۔ یہی ساجھے داری جیون کی اعلیٰ اقدار کی ترجمان ہے۔ اگر انگریز، جوئیوں کی عورتیں پکڑتا ہے تو اس کے نتیجے میں باروں میں آگ بھڑک اٹھتی ہے اور پھر رائے احمد خان کھرل کی شہادت اس جلتی پر تیل کا کام کرتی ہے۔ نور محمد ولارا، برکلے کو قتل کرنے والے گروہ میں شامل ہوتا ہے۔ انگریزی راج کے خون چوس لینے کے علیحدہ حیلے ہیں۔ نہروں، ریلوے، تھانوں، کچہریوں اور اس کے بعد بار کے رہنے والوں کو نہروں سے پانی دینے والے ناکوں کو چھوٹا رکھنے اور مالیے اور ٹیکسوں کی مد میں ایسی سزا دی جاتی ہے کہ وہ جو پنجابی میں کہتے ہیں مار نہ کٹ تے آندرچاں گھٹ۔ (مار پیٹ بظاہر نہ کرو بس اندر سے اسے ایسی گرفت کرو کہ چیخ اٹھے) بالخصوص جن لوگوں نے 1857ءکی جنگ میں ہتھیار اٹھائے یا بعد میں عالمی جنگ کے لیے بھرتی دینے سے انکاری ہوئے ۔ آنے والی نسلیں چاہے ارد گرد کی معاشی ترقی اور اپنے بڑوں کی آئے روز کی ہجرت سے منکر ہورہ جاتی ہیں لیکن انگریزوں کے جاسوس اور ہیرو، پھر بھی انہیں اپنی نظر میں رکھتے ہیں اور ان کی سوچ پر پہرہ بٹھائے رکھتے ہیں۔ پہلی تہذیب نور محمد، تشکیل دیتا ہے اور دوسری وریام۔ لیکن سماجی طور پر روا رکھے گئے غیر انسانی رویے بے دوش وریام کو بھی نہیں چھوڑتے اور پانچویں پشت پھر سے سواہرے خاں کی صورت میں خانہ بدوش کا روپ دھارنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ یہ ہے سچائی کے بارے میں سوچنے اور اس پر عمل کرنے کا دردناک انجام۔
یہاں مجھے گارشیا مارکیز کی ایک بات یاد آتی ہے کہ جب اسے نوبل انعام ملا تو ناقدین نے اپنی اپنی نیاموں سے طرح طرح کی تلواریں نکال لیں اور اس کی تحریروں پر وار شروع کر دیے تو مارکیز نے کہا کہ یہ صاف صاف ہمارے بڑوں کے ساتھ ہونے والے استحصال کی کہانیاں ہیں جو ہماری نانیوں، دادیوں نے ہمیں سنائیں۔ یہی بات پوری طرح سے ’تسی دھرتی‘ کی بھی ہے۔ یہ ناول زاہد حسن نے اپنے بزرگوں کی یادداشتوں میں سے کھرچ کے اور ان کے سینوں پر لگے زخموں کو پڑھ کر ، ہمارے سامنے لا بیان کیا ہے۔ ان زخموں کی مہک یادوں اور حقائق، ہر دو صورتوں میں دکھائی دیتی ہے۔ چار مفاد پرست گھروں کو چھوڑ کر ، بار کے رہنے والوں پر بیتی یہ دو سو برس کی کہانی ہے۔ بار، کے بارے میں باہر سے آکر لکھنے والوں کی کہانیاں، آپ بیتیاں، یادیں، باہر بیٹھ کر دیکھنے والوں کے نکالے ہوئے نتائج ہیں۔ اس میں وہ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں، منفی کو مثبت، مثبت کو منفی بنا کر پیش کر سکتے ہیں لیکن اس استحصال اور ظلم کے بیان سے پہلو بچا کر نکل جاتی ہیں جنہوں نے ان کی جڑیں اکھاڑ دیں۔ یہ دھرتی جائے کے طور پر سوچ ہی نہیں سکتے۔ ہماری معلومات کے مطابق یہ پہلا ناول ہے جو کسی بار کے رہنے والے نے بار کے بارے میںلکھا ہے، جس پر آگ برستی ہے وہ اسے کیسے بیان کرتا ہے۔ یہی تاریخی شعور بڑے بڑے دلیروں کا پتا پانی کر دیتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments