جانے کب کون کسے مار دے کافر کہہ کے


جب پہلی بار موجودہ’ ہئیر سٹائل‘ اختیار کرنے کی غر ض سے نائی کے پاس گیا تو وہ میری ہدایات غور سے سننے کے بعد فرمانے لگا کہ اگر میں مطلوبہ سٹائل کی بجائے اُس کی مرضی کا سٹائل اور داڑھی رکھ لوں تو مجھے بھی ثواب ہوگا اور اُسے بھی۔ میں نے عرض کی۔ اگر مجھے گناہ و ثواب، خیر و شر اور جائز و ناجائز کا مسئلہ لاحق ہوتا تو میں کسی نائی کے پاس نہیں کسی مفتی صاحب یا عالم ِ دین کے پاس جاتا۔ سردست مجھے ’بال‘ بنوانا ہیں اس لئے آپ کے پاس آیا ہوں۔ آپ وہ کچھ کریں جو میں آپ سے کہہ رہا ہوں یا پھر یہ کام چھوڑیں، کسی مدرسے میں داخلہ لیں اور مفتی بننے تک ایسے مشوروں سے پرہیز کریں۔

 نائی یہ سُن کر خاموش ہوگیا اور میرے سر پر فوم لگاکر اُسترا چلانے لگا مگر جونہی میری اُس کے چہرے پر نظر پڑی تو شدید سردی کے باوجود خوف سے میرے پسینے چھوٹ گئے۔ میں سامنے شیشے میں دیکھ رہا تھا کہ وہ تیز دھار استرے سے میرے سر کی شیو کررہا ہے جبکہ اُس کے چہرے کا رنگ غصے سے لال ہو چکا ہے۔ مجھے اپنی غلطی کا احساس ہو چلا تھا کہ میں نے بات تو غلط نہیں کی مگر بات کرتے وقت زمان و مکان سے بے خبر ضرور ہوگیا تھا۔

وہ جتنی دیر میرے سر پر استرا چلاتا رہا میرا کلیجہ حلق میں اٹکا رہا کیونکہ عین ممکن تھا کہ وہ استرے کے ایک وار سے میرا سر دوٹکڑوں میں کاٹ دیتا، میرا بھیجہ سامنے شیشے پر جا گرتا اور توہین مذہب کے مرتکب کسی شخص کا قتل کر کے وہ امر ہو جاتا۔

 یہ سوچ کر میں مزید ڈر گیا کہ ابھی تو داڑھی بناتے وقت اس نے میرے گلے پر بھی استرا چلانا ہے۔

 میں نے فوراً اسے انگیج کیا، باتوں میں لگایا، سامنے پڑے موبائل پر ملک کے معروف علمائے کرام کے ساتھ اپنی تصاویر دکھائیں، اس کے کام اور سیلون کی تعریف کی اور ایک آدھ ہلکی پھلکی بات کی تب کہیں جاکر اُس کا چہرہ معمول پر آیا۔

اس سے ملتا جلتا واقعہ، جس کا شکار میں نہیں کوئی اور ہوسکتا تھا، ان دنوں پیش آیا جب میں نوجوانوں کے ہفتہ وار تربیتی ریڈیو پروگرا م میں ایک ماہر کی حیثیت سے شریک ہو اکرتا تھا۔ مجھے یاد ہے اُس روز میں مقررہ وقت سے کچھ پہلے پہنچ کر ریڈیو سٹیشن کے کچن میں رکھے ڈسپنسر سے پانی پی رہا تھا جہاں ایک نوجوان باورچی چائے بنانے میں مصروف تھا۔ صفائی کرنے والا لڑکا جو، صرف صبح کے وقت دکھائی دیتا تھا، اس سے باتیں کررہا تھا۔ میں نے پانی لے کر پیتے ہوئے سنا کہ صفائی والا لڑکا باورچی کو بتا رہا ہے کہ آج صبح جب وہ صفائی کرنے کے لئے پہنچا ہے تو سٹیشن کا ایک چپڑاسی، جو سٹیشن میں ہی سوتا تھا، قبلہ کی طرف ٹانگیں کئے سورہا تھا۔

یہ سن کر باورچی آگ بگولہ ہوگیا اور کہنے لگا :

’’ پکا جہنمی اور لعنتی ہے یہ شخص۔ تمہیں پتہ ہے قبلہ کی طرف ٹانگیں کرکے سونے کی کیا سزا ہے ؟ احادیث میں آیا ہے کہ جسے بھی قبلہ رُخ ٹانگیں کرکے سوتے دیکھو، اس کی ٹانگیں کاٹ دو ‘‘۔

اس نجی ریڈیو سٹیشن کے مالک چونکہ میرے اچھے دوست ہیں اس لئے میں نے گلاس رکھ کر ہمت کرکے باورچی پیشہ مفتی صاحب سے پوچھ لیا کہ کیا وہ مجھے اس حدیث کے الفاظ اور ریفرینس وغیرہ دیں گے جس کی روشنی میں وہ فتویٰ داغ رہے ہیں۔ اس پر وہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگا اور میں نے صفائی والے لڑکے کو سمجھایا کہ آپ محبت سے اُسے سمجھا دیں کہ قبلہ کے رُخ ٹانگیں کرکے نہ سویا کرے۔ سختی اور تشدد کی کوئی ضرورت نہیں۔

اس سے ملتا جلتا تیسرا واقعہ تب پیش آیا جب میں کراچی سے ایک تربیتی پروگرام میں تربیت کار کے فرائض سر انجام دے کر سہ پہر کو گھر پہنچنے کے بعد تھکاوٹ کی وجہ سے کچھ دیر کے لئے سوگیا۔ ابھی آنکھ لگی ہی تھی کہ گھنٹی سے میری آنکھ کھل گئی۔ اس وقت گھر میں کوئی نہیں تھا کیونکہ بیگم بچی کو ٹیوشن چھوڑنے جاچکی تھیں۔ میرا گھر بالائی منزل پر تھا اس لئے میں نے سامنے کے ٹیرس سے دیکھا تو ایک مانگنے والا شی میل دروازے پر کھڑا مجھ سے مدد کی اپیل کررہا تھا۔ میں نے نہایت احترام سے عرض کی کہ ایک رات سے جاگا ہوا ہوں گھنٹی بجا کر مانگنا کوئی اچھی بات نہیں۔ میں حیران رہ گیا کہ یہ سن کر وہ معذرت کرنے کی بجائے وہ چلا چلا کر تالیاں بجا بجا کر کہنے لگا :

’’ قرآن پڑھیں۔ حدیث پڑھیں۔ زوال کے وقت سونا کوئی اچھی بات نہیں۔ ایسا کام تو کافر کرتے ہیں۔ مشرک کرتے ہیں۔ ہندو کرتے ہیں۔ دین کے دشمن کرتے ہیں ‘‘۔

یہ سنتے ہی میں کمرے کی طرف دوڑا اور بٹوے میں قابلِ خیرات جتنی نقدی تھی ہاتھ میں لی اور اس پر وار دی جو ابھی تک گلی میں کھڑا میرے خلاف فتوے پر فتویٰ دینے میں مصروف تھا۔ مجھے خوف تھا کہ اس کے فتاویٰ سن کر گلی میں کسی کے ایمان نے بھی آگ پکڑ لی تو میری ساری تعمیر راکھ کا ڈھیر بن جائے گی۔

 یہاں اس سے ملتے جلتے واقعات ہر ایک کے ساتھ پیش آرہے ہیں کیونکہ یہاں مذہب اور اس کی تشریح پہلے امن پسند علما کے ہاتھ سے نکال کر فساد پسند وں کے ہاتھ میں دی گئی اور پھر انہوں نے یہ امانت اتنی بے دردی سے، اتنے ارزاں نرخوں پر ہر ایک میں بانٹی ہے جو کچھ بھی نہیں جانتا وہ مذہب کے سلسلے میں سب جاننے کا دعویدار ہوگیا ہے۔ جو اپنی مرضی، ارادے اور امکان سے آگاہ نہیں، وہ مشیت ایزدی کی کامل تفہیم کا زعم رکھتا ہے۔ مذہب جن سفلی جذبات اور خبائث باطنہ کے خلاف ڈھال ہونے کا دعویدار تھا آج انہیں جذبات اور خبائث کے ہاتھ میں ننگی تلوار بن چکا ہےجو کسی وقت کسی کی گردن پر چل سکتی ہے۔

کوئی ہے جو ہر ایک کے ہاتھ لگی اس تلوار کو کون نیام میں ڈالے ؟ کوئی ہے جو اسے پگھلا کر دوبارہ ڈھال میں بدل دے؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں