بھاشا ڈیم کے خلاف ایلومیناٹی کی سازش کامیاب ہو رہی ہے


چیف جسٹس کے حکم پر چھے جولائی سے دو ڈیموں کی تعمیر کے لئے اکاونٹ آپریشنل ہوا۔ چیف جسٹس کو یقین تھا کہ ان پر اعتماد کرتے ہوئے قوم جھولیاں بھر بھر کر چندے دے گی۔ خود انہوں نے آگے بڑھ کر دس لاکھ روپے کی ذاتی رقم عطیہ کی۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے پندرہ لاکھ عطیہ دیا۔ مگر باقی ذرائع سے کل سینتالیس ہزار ہی اکٹھے ہوئے تھے۔ پھر چیف صاحب نے چھان بین کی تو انہیں پتہ چلا کہ سٹیٹ بینک یہ تاثر دے رہا ہے کہ ڈیم کا اکاونٹ حکومت نے بنایا ہے اور لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت کے اکاونٹ میں پیسے نہیں دیں گے۔

خیر چیف صاحب نے افسران کی مناسب تادیب کی تو خدا کے فضل سے آج 19 جولائی کو اکاونٹ میں پورے چوبیس کروڑ اکیاون لاکھ ستر ہزار آٹھ سو چوبیس روپے جمع ہو چکے ہیں۔ یعنی تیرہ دن میں کوئی ایک کروڑ اٹھاسی لاکھ روزانہ کی اوسط سے پیسہ جمع ہوا ہے۔

آپ بخوبی واقف ہیں کہ پاکستان کے ترقی کرنے کے لئے یہ ڈیم لازم ہیں اور اسی وجہ سے بھارت، اسرائیل اور ایلومیناٹی یہ نہیں چاہتے کہ پاکستان ڈیم بنا پائے۔ لیکن وہ اتنے عیار ہیں کہ ایسا کھیل کھیلتے ہیں کہ کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہو پاتی کہ وہ دشمنی کر رہے ہیں۔ خاص طور پر صیہونی فری میسن بینکاروں کی خفیہ تنظیم ایلومیناٹی اس کھیل کے لئے مشہور ہے۔

فی الحال حساب کتاب میں آسانی کے لئے مہمند ڈیم کو ایک طرف رکھ لیتے ہیں اور دیامیر بھاشا ڈیم کی بات کرتے ہیں۔ اس ڈیم کو بنانے کے لئے بارہ ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔ یہ منصوبہ برسوں سے کھٹائی میں پڑا ہوا تھا اور پاکستان کے دشمن مطمئن بیٹھے ہوئے تھے۔ لیکن جب چیف جسٹس نے اعلان کیا کہ ان کی زندگی کا مقصد ہی ڈیم بنانا ہے تو یہ طاقتیں لرز گئیں۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ ابھی چیف جسٹس کی مدت ملازمت ختم ہونے میں بہت وقت پڑا ہے، وہ چھے ماہ بعد جنوری 2019 میں ریٹائر ہو رہے ہیں۔ اس صورت میں ڈیم بننا یقینی تھا۔ قوم کا چیف صاحب پر جتنا اعتبار ہے وہ بارہ ارب ڈالر کی رقم چند ماہ میں ہی اکاؤنٹ میں جمع کروا سکتی ہے۔

ایلومیناٹی نے اپنی چال چل دی۔ ڈیم کی قیمت چھے جولائی کو 121.62 کی ڈالر کی شرح تبادلہ کی وجہ سے کل چودہ کھرب انسٹھ ارب روپے تھی۔ لیکن آج 19 جولائی کو ڈالر کی شرح تبادلہ 128.43 روپے کر دی گئی ہے۔ نتیجہ یہ کہ آج دیامیر بھاشا ڈیم کی لاگت پندرہ کھرب اکتالیس ارب روپے ہو گئی ہے۔ یعنی محض 13 دن میں لاگت میں سوا چھے ارب روزانہ کی شرح سے بیاسی ارب کا اضافہ ہو چکا ہے جبکہ اس مدت میں چیف جسٹس کے ڈیم فنڈ میں محض چوبیس کروڑ روپے جمع ہوئے ہیں۔ چیف صاحب کے ڈیم فنڈ میں پونے دو کروڑ روز جمع ہو رہے ہیں جبکہ ڈیم کی لاگت میں روزانہ سوا چھے ارب روپے کا اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ سازش نہیں تو اور کیا ہے؟

ہم نے ڈالر کی قیمت پر تحقیق کی تو عجیب و غریب اعداد و شمار سامنے آئے۔ میاں نواز شریف کے وزیراعظم بننے کے بعد مئی 2013 میں ڈالر 98 روپے کا تھا۔ دسمبر میں 108 کا ہو گیا۔ اس پر میاں صاحب کے دوستوں نے ان کو مشکل میں پا کر مدد کی تو وہ اپریل میں 95 روپے کا ہو گیا۔ اس کے بعد ستمبر 2015 سے لے کر جولائی 2017 میں میاں نواز شریف کی معزولی تک ڈالر کی قیمت 104 پر مستحکم رہی۔ میاں صاحب کی نااہلی کے فوراً بعد ان کے دوستوں نے ڈالر کی قیمت کو اچانک 108 تک چڑھا دیا مگر پھر وہ دوبارہ 104 پر واپس آ گیا۔ 21 دسمبر کو ڈالر 110 پر چڑھ گیا۔ 29 مارچ 2018 کو اس کی قیمت 115 ہوئی۔ 24 جون کو اس کی قیمت 121 تھی اور 19 جولائی کو وہ 129 کو چھو رہا تھا۔

کیا یہ حیرت انگیز بات نہیں ہے کہ جب تک نواز شریف کی حکومت مستحکم رہی تو ڈالر بھی مستحکم رہا لیکن جیسے ہی ان کی حکومت ختم ہوئی تو ڈالر بری طرح چڑھنے لگا۔ ایک مزید دلچسپ چیز بھی نوٹ کریں۔ اگر ہم دس برس کا گراف دیکھیں تو ڈالر کی قیمت ایک ڈھلان کے انداز میں اوپر چڑھتی رہی ہے۔ میاں نواز شریف کے دور میں وہ مستحکم ہو کر سیدھی لائن بن گئی۔ لیکن جب مسلم لیگ نون کی حکومت ختم ہوئی تو اچانک اس نے ڈھلوان کی بجائے سیڑھیوں کی مانند اونچے اونچے یکلخت قدم اٹھانے شروع کر دیے۔

ہماری ناقص رائے میں عالمی مالیاتی نظام میں ایسی بڑی گڑبڑ صرف ایلومیناٹی جیسی تنظیم ہی کر سکتی ہے۔  ایلومیناٹی نے ایسا پاکستان سے اپنی فطری دشمنی کے علاوہ نواز شریف کے خاص دوست نریندر مودی کے حکم پر ہی کیا ہو گا۔ ورنہ کوئی وجہ نہیں ہے کہ ایک ملک کی سیاسی صورت حال عدم استحکام سے دوچار ہو تو اس کی کرنسی ایسے گرنے لگے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1009 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar