فاروق ہوٹل ڈوب رہا ہے


راولاکوٹ سے راولپنڈی کا سفر دل فریب اور قدرتی نظاروں سے مزین ہے۔ راستے میں کئی مقامات ایسے آتے ہیں کہ انسان مبہوت رہ جاتا ہے۔ ایک پہاڑ ختم ہوتا نہیں کہ اس سے بھی بڑا اور خوب صورت پہاڑی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ پہاڑ فلک بوس اس قدر کہ بعض اوقات نیلے آسمان کو چھو تے محسوس ہوتے ہیں۔ ہر موڑ کے نکڑ پر بکریاں اور گائیں، ڈھلان پر گھاس چرتی نظر آتی ہیں۔ گاڑی دیکھ کر راستہ چھوڑ دیتی ہیں، جیسے کہ خود کار نظام سے منسلک ہوں۔

آزاد کشمیر سے صوبہ پنجاب کی تحصیل کہوٹہ میں داخل ہونے کے لیے دریا جہلم عبور کرنا پڑتا ہے۔ دریا عبور کرتے ہیں تو بسوں، ویگنوں اور ٹرکوں کا پہلا پڑاو فاروق ہوٹل ٹھہرتا ہے جہاں مسافر دال روٹی یا گوشت چاول سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اکثر دوران سفر اس ہوٹل کی دال روٹی شوق سے کھاتا ہوں۔ گوشت چاول بھی کمال کے لذیذ ہوتے ہیں۔ آخر میں کڑک دودھ پتی، کھانے کا لطف دوبالا کردیتی تھی۔

اٹھارہ برس پہلے تک لوگ ایک تنگ سڑک پر سفر کرتے تھے، جو تھوراڑ اور منگ جیسے تاریخی چھوٹے شہروں سے گزرتی تھی۔ بل کھاتی ہوئی اس سڑک کو دور سے دیکھنے سے محسوس ہوتا کہ پہاڑ کے دامن کو چیر کر ایک مختصر سا راستہ بنایا گیا۔ تنگ موڑ تھے اور اکثر مخالف سمت سے آنے والی گاڑی کو کراس کرانے کے لیے خاصی تگ و دو کرنا پڑتی۔

اس سڑک کی تعمیر کی کہانی بھی بڑی دل چسپ جسے کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ محترمہ فاطمہ جناح نے کے ایچ خورشید کو سوا لاکھ روپیہ دیا کہ وہ آزاد کشمیر کے صدر ہوتے ہوئے کٹھارا جیپ پر گھومتے ہیں۔ کوئی ڈھنگ کی گاڑی خرید لیں۔ ایثار کیش کے ایچ خورشید نے وہ رقم سڑک کی تعمیر کے لیے عطیہ کردی۔ کہا کہ وہ پرانی گاڑی پہ ابھی گزارا کر سکتے ہیں۔

پونچھ کے لوگوں کا صدیوں سے راولپنڈی کی طرف روزگار اور سفر کا رجحان رہا ہے۔ پرانے بزرگ بتاتے ہیں کہ 1920ء کے لگ بھگ پونچھ میں زبردست قحط پڑا۔ فاقوں تک نوبت جا پہنچی۔ پلندری کے بزرگ سماجی رہنما کرنل خان محمد خان نے پونچھ کے انگریز ریذیڈنٹ کو پونچھ شہر سے لھچمن پتن (آزادی کے بعد اسے ”آزاد پتن‘‘ کے نام سے موسوم کیا گیا تک سڑک بنانے کا منصوبہ پیش کیا۔ وزیر مال نے سخت مخالفت کی کیوں کہ دریا جہلم پر عبور کرنے کے لیے پل تھا اور نہ اس سے آگے سڑک کا نام و نشان۔

سڑک پر کام شروع ہوا تو روزگار کے نئے موقع پیدا ہو گئے۔ پونچھ شہر سے نکلنے والی سڑک ہجیرہ، پلندری سے گزرتی ہوئی آزاد پتن تک پہنچی۔ سڑک کی تعمیر کے بعد لوگوں کا صوبہ پنجاب خاص کر کہوٹہ اور راولپنڈی کی طرف سفر کے رجحان میں معتدبہ اضافہ ہوا۔ آزادی سے قبل دریا پر کشتیوں کا ایک پل تھا جس سے لوگ گزرتے اور خچروں پر سامان بھی لاد کر آر پار کرایا جاتا۔

پچاس کی دہائی میں ایک مقامی نوجوان فاروق نے محسوس کیا کہ اس سڑک پر آمد و رفت کا ایک طویل سلسلہ شروع ہونے والا ہے، لہٰذا مسافروں کے خورد و نوش کے لیے ہوٹل بنایا جانا چاہیے۔ انھوں نے ایک ڈھابا نما ہوٹل اور چھوٹی سا مسافر خانہ کھول لیا۔

محمد رمضان جو ساٹھ کے پیٹے میں ہیں اور گزشتہ چالیس برس سے فاروق ہوٹل سے وابستہ ہیں‘ نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا خاندان لگ بھگ ستر برس سے اس علاقے میں کاروبار کر رہا ہے۔ گاہگ اکثر نہیں بلکہ کے سارے کے سارے پونچھ کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ دوران گفتگو اچانک بادلوں نے ہمیں گھیر لیا۔ اگر چہ ہم ہوٹل کے پچھواڑے میں نشست جمائے تھے لیکن اس کے باوجود طوفانی بارش نے گرد و نواح کو ایسا بھگویا، گویا جل تھل گیا۔ بھیگے مسافر بھاگتے بھاگتے ہوٹل میں ہجوم کیے جارہے تھے۔

محمد رمضان نے پلک جھپکتے میں ماضی کے دریچے میں جھانکا۔ بتاتے ہیں کہ جہاں آج فاروق ہوٹل ہے اس سے چند سو فرلانگ کے فاصلے پر 1951ء میں فوج نے پہلا پل بنایا۔ اس پر سے گاڑی گزارنے کی اجازت نہ تھی۔ سامان خچروں یا گدھوں پر لاد کر دوسری طرف کھڑے بیڈ فورڈ ٹرکوں پر لوڈ کیا جاتا۔ بعض اوقات لوگ گدھوں اور گھوڑوں پر بھی سامان لاد کر راولا کوٹ اور پلندری کی طرف چل پڑتے۔

محمد رمضان تیز یاداشت کے مالک ہیں۔ دوران گفتگو وہ آنکھیں موند لیتے جیسے کہ کوئی منظر دیکھنے کی کوشش میں محو ہوں اور پھر جھٹ سے دیر تک گفتگو کرتے۔ دودھ پتی کی چسکی لیتے ہوئے کہنے لگے۔ اس سڑک کی قسمت 1971ء کے بعد چمکی۔ پونچھ کے نوجوان سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ریاستوں میں ملازمتوں کے لیے جانے لگے تو پونچھیوں میں بنگلے بنانے کی دوڑ لگ گئی۔ کچھے گھروں پر ٹین کی چھٹ ڈالنا اور پکی دیواریں کھڑی کرنا ہر گھرانے کا سپنا تھا۔ لوگوں کا رہن سہن حتیٰ کہ پہناوا بھی تیزی سے بدلا۔ عرب ممالک سے نوجوان واپس آتے تو دھوپ سے ان کے گال کالے ہوچکے ہوتے لیکن ان کے سر پر سرخ اور سفید چیک والا رومال ہوتا، جیسے مقامی لوگ ”پرنا‘‘ کہتے ہیں۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ارشاد محمود

ارشاد محمود کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک سینئیر کالم نویس ہیں جو کہ اردو اور انگریزی زبان میں ملک کے موقر روزناموں کے لئے لکھتے ہیں۔ ان سے مندرجہ ذیل ایمیل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے [email protected]

irshad-mehmood has 81 posts and counting.See all posts by irshad-mehmood