پاکستان کی کہانی، پرانی، باقی آئندہ شمارے میں


بچپن کی بات ہے شاید اسی لیے اچھی طرح یاد ہے کہ ہمارے گاوں کے دو چودھری ہوا کرتے تھے، اب آپ سوال پوچھیں گے کہ ایک ہی گاوں میں دو چودھری کیسے ہو سکتے ہیں، تو جو دوست احباب تحصیل جڑانوالہ ضلع فیصل آباد یا ساندل بار کے علاقوں سے تھوڑی بہت واقفیت رکھتے ہیں، انھیں معلوم ہو گا کہ کئی ایک گاوں ایسے ہیں جو دو حصوں میں تقسیم ہیں، چک 103 گ ب شرقی، چک 103 گ ب غربی وغیرہ۔

بہت عرصہ ناچاقی کے بعدان چودھریوں میں صلح ہوئی تو مل بیٹھ کر معاملات کو بگڑنے سے روکنے کے لیے انھوں نے ایک معاہدہ کیا کہ آیندہ کچھ بھی ہو جائے، وہ گاوں کے معاملات آپس ہی میں طے کریں گے اور گاوں کی حفاظت پر مامور چوکیداروں سے مدد نہیں مانگیں گے۔ انھوں نے اس معاہدے کو میثاق جمہوریت کا نام دیا، ویسے نام میں کیا رکھا ہے؟ کچھ بھی کہہ لیں۔

حیرت کی بات ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان یہ معاہدہ اس وقت ہوا جب گاوں کی حفاظت کے ذمہ دار، گاوں پر بزور اسلحہ قبضہ کیے بیٹھے تھے۔ دونوں چودھری اس وقت کسی اور گاوں میں پناہ گزینی یا جلا وطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ خیر، دونوں نے فیصلہ کیا کہ اب ہمارے گاوں کے لوگ ہمارے ساتھ ہیں، تو کیوں نہ ایک ایک کر کے واپس لوٹا جائے، تاکہ گاوں کا نظم و نسق سنبھال سکیں۔ اب یہ بات گاوں کے چوکیداروں کو کہاں ہضم ہونی تھی؟

دونوں ایک ایک کر کے واپس آئے، چند ہی روز میں ایک کا قتل ہو گیا، اس دوران پنچایت نے فیصلہ کیا کہ جو بھی ہوا سو ہوا، چوکیداروں کو نکالنے کے لیے گاوں کے باسیوں کو ان کا حق رائے دہی استعمال کر کے آیندہ پانچ برس کے لیے گاوں کے حکمران چننے کا حق دیا جائے گا۔ جس چودھری کا قتل ہوا تھا، گاوں کی اکثریت کی ہم دردیاں اس کے ساتھ تھیں، سو نتیجتہً اسی کے خاندان کو آیندہ پانچ سالوں کے لیے حکومت کرنے کا حق حاصل ہوا۔

حکومت میں آنے کے بعد، یہ فیصلہ کیا گیا کہ قتل کا کھرا نکالنے کے لیے مقامی کھوجیوں کی بجائے غیر علاقائی کھوجیوں کی خدمات حاصل کی جائیں، نیز یہ کہ ضلع کی کونسل سے بھی مدد مانگی گئی، غیر علاقائی کھوجیوں کو تو علاقے کے چوکیداروں نے ادھر اُدھر بھول بھلیوں میں ڈالے رکھا اور کچھ ہاتھ بغیر وہ واپس گئے، ضلع کونسل نے بھی اپنے کھوجی بھجوائے تاکہ قاتل کا کھرا تلاش کیا جائے۔ انھوں نے بھی اپنی پوری کوشش کی، مگر کھوج لگاتے لگاتے جیسے ہی وہ ایسی پگ ڈنڈی پر پہنچتے، جہاں پر قاتلوں کے قدموں کے نشانات لے جاتے ہیں، وہاں آگے ایک آہنی باڑھ لگی ہوتی اور کئی اسلحہ بردار جتھے اس جگہ کی حفاظت پر مامور ہوتے اور لکھا ہوتا کہ یہ شارع عام نہیں ہے، گویا کہ وہاں ہر کس و ناکس کا داخلہ ممنوع تھا۔

بہت ہی کوششوں کے بعد جب کچھ لوگوں کو جو اس وقت مقتول کی حفاظت پر مامور تھے، ان تک رسائی ملی تو سب کے سب نے اقبال جرم کر لیا کہ جی قتل ہم نے کیا ہے، کوئی ستر کے قریب لوگ، جب قتل کا ذمہ اپنے سر لے چکے تو کھوجی نے کہا کہ ”میں یہاں کیا کروں، یہاں تو سارے کا سارا گاوں ہی قتل کی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار بیٹھا ہے“۔

وقت کا پہیا کبھی رُکتا تھوڑی ہے؛ تو دونوں فریقین نے افسردہ خاندان کی حمایت کا فیصلہ کیا، پنچایتی نظام اپنی اصل صورت میں آہستہ آہستہ بحال ہونا شروع ہو گیا، چوکیداروں کو گاوں سے باہر رکھنے کے لیے اقدامات پر غور و خوض شروع ہو گیا۔ اس دوران چوکیداروں نے دوسرے فریق کے ساتھ ساز باز کرنے کی بہت کوششیں بھی کیں، اور گاوں کے منصفوں کو بھی ساتھ ملایا گیا، یار دوستوں نے سمجھایا کہ ابھی چند ماہ قبل ہی تو آپ نے یہ معاہدہ کیا تھا ایسے کام نہیں کریں گے، یہ کیا ہو رہا ہے؟ چوں کہ ان میں دور اندیشی کا فقدان تھا سو وہ چوکیداروں اور منصفوں کی باتوں میں آتے رہے۔

لیکن ایک اچھی بات یہ ہوئی کہ دونوں فریقین نے باہمی رضا مندی سے ایک نیا قانون پاس کر لیا جس کے تحت آیندہ کے لیے چوکیداروں کو چودھری بننے سے روکنے کے تمام رستے بند کر دیے گئے۔

بہرحال، وہ پانچ برس جیسے گزرے، تیسے گزرے؛ پھر سے دیہاتیوں کو حق رائے دہی کا موقع ملا، اور اس بار دوسرے فریق کو چناو کے تحت حق حکمرانی مل گیا۔ اب دوسرے فریق کو تھوڑی بہت سمجھ بوجھ آ گئی تھی، کہ منصفوں اور چوکیداروں کو اپنے معاملات میں نہیں لانا چاہیے، لیکن جیسا کہ اوپر بیان کیا، ساز باز کے ماہر چوکیداروں نے اس بار سیدھا منصفوں کو ساتھ ملا کر حکومتی معاملات میں دخل اندازی شروع کر دی، اس بار ان کا ساتھ گاوں کا چودھری بننے کے خواہش مند، گاوں کی ’باندر کلا‘ ٹیم کے سابق کپتان نے دیا، اس کی کپتانی میں کئی دہائیاں قبل گاوں کی ٹیم ’باندر کلا‘ کا ورلڈ کپ جیت چکی تھی؛ کچھ لوگوں میں ابھی اس کی قبولیت تھی، سو اسے بھی ساتھ ملا لیا گیا۔ چناں چہ اس سازش کے نتیجے میں چودھری کو منصفوں نے چودھراہٹ کے لیے نا اہل قرار دے دیا۔ چوں کہ حق حکومت تو اسی فریق کے پاس تھا تو معاملات جیسے تیسے چلتے رہے۔

اب پانچ سال اور بیتنے کو ہیں، اور اس بار چوکیداروں، منصفوں اور باندر کلہ ٹیم کے سابق کپتان کے گٹھ جوڑ کچھ ایسے بساط بچھائی ہے کہ اوپر بیان کردہ دونوں فریقین کو حق حکومت ملنا مشکل سا نظر آرہا ہے۔ چوکیداروں کو اس بات کا بخوبی علم ہے کہ باندر کلا ٹیم کا سابق کپتان کتنا ہی ماہر کیوں نہ ہو، چودھری بننے کے قابل نہیں۔

مگر فی الوقت کوئی اور مناسب شخص نہ مل پانے کی وجہ سے وہ اس کی حمایت پر مجبور ہیں؛ تا کہ دوسرے دونوں کو باہر رکھا جا سکے۔ معاملات خاصے گھمبیر ہو رہے ہیں، اندیشہ یہی ہے کہ شاید باندر کلا ٹیم کا سابق کپتان حق حکمرانی حاصل کر لے، لیکن چوکیداروں اور منصفیوں کی سوچ کچھ اور ہی معلوم ہوتی ہے، کیوں کہ باندر کلا کپتان کی دکھتی رگیں انھیں معلوم ہیں۔ سو امید یہی ہے کہ اگر وہ حکومت میں آ بھی گیا تو چند ماہ بعد اس واپس اس کہانی کے دوسرے پیرے کی طرف دیکھنا ہو گا، اور کہانی میں تھوڑی بہت رد و بدل شاید ہو جائے، لیکن خلاصہ یہی رہے گا۔ امید ہے کہ آپ یہ کہانی اگلے پانچ سال بعد بھی پڑھیں گے تو آپ کو پرانی محسوس نہیں ہو گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں