بنگلہ دیش میں ظلم


mujahid ali

بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے امیر 73 سالہ مطیع الرحمان نظامی کو بدھ کی نصف شب پھانسی دے دی گئی۔ ملک کے متنازعہ جنگی جرائم ٹریبونل کے فیصلہ کے مطابق موت کی سزا پانے والے وہ پانچویں لیڈر ہیں۔ انہیں اکتوبر میں 1971 کی خانہ جنگی کے دوران جنگی جرائم میں ملوث ہونے کے الزام میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ گزشتہ ہفتے کے دوران سپریم کورٹ نے اس سزا کے خلاف اپیل کو مسترد کردیا تھا۔ مطیع الرحمان نے ملک کے صدر سے رحم کی درخواست کرنے سے انکار کردیا تھا۔

سولہ برس تک جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر اور پانچ برس تک حکومت کا وزیر رہنے والے مطیع الرحمان پر ملک کی ’جنگ آذادی‘ کے دوران البدر گروپ کی ایک شاخ کی قیادت کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ استغاثہ کا دعویٰ تھا اس حیثیت میں وہ قتل و غارتگری اور جنسی جرائم میں ملوث رہے تھے۔ مطیع الرحمان اور جماعت اسلامی نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔ بنگلہ دیش میں وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے 2010 میں جنگی جرائم ٹریبونل قائم کیا تھا۔ اس کی کارروائی انصاف کے عالمی تقاضوں کے خلاف ہے ۔ متعدد عالمی تنظیمیں مشکوک حالات میں یک طرفہ کارروائی کے نتیجہ میں اہم لیڈروں کو موت کی سزا دینے کو مسترد کرتی ہیں اور اسے انصاف کا قتل قرار دیا جاتا ہے۔ 2013 میں ان غیر منصفانہ مقدموں کے خلاف مظاہروں کے نتیجے میں جماعت اسلامی اور قوم پرستوں کے درمیان خوں ریز تصادم ہوئے تھے جن میں پانچ سو افراد مارے گئے تھے۔ اس کے بعد سے بنگلہ دیش حکومت نے مظاہروں کی روک تھام کے لئے سخت اقدامات کئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی حسینہ واجد اور ان کے ساتھیوں نے قوم پرستانہ جذبات کو ہوا دی ہے اور رائے عامہ کو اپنے ان جابرانہ فیصلوں کی حمایت کے لئے تیار کیا ہے۔ ملک کا نظام عدل بھی اس وقت شیخ حسینہ کے آمرانہ ہتھکنڈوں کا شکار ہے اور جنگی جرائم کے معاملات میں لوگوں کو اس نظام سے انصاف ملنے کی امید نہیں ہوتی۔

پاکستان کی طرف سے ماضی کو کریدتے ہوئے جھوٹ اور بے بنیاد شواہد کی بنیاد پر سزائیں دینے کے معاملات کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ یہ واضح کیا گیا ہے کہ ان اقدامات سے دونوں ملکوں کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔ دوسری طرف شیخ حسینہ کا کہنا ہے کہ ماضی کے مجرموں کو سزا دئے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکے گا۔ ان لوگوں کو لازمی اپنے کئے کی سزا پانا ہوگی جو ’جنگ آذادی‘ کے دوران لوگوں کو قتل کرنے اور ان پر ظلم کرنے میں ملوث تھے۔ تاہم ان کی بات سے اختلاف کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس وقت وہ لوگ اسی قوم پرستی کا مظاہرہ کررہے تھے ، جس کا نام لیتے ہوئے اب شیخ حسینہ کی حکومت سیاسی مخالفین کو ٹھکانے لگانا چاہتی ہے۔ اس طرح ملک میں اسلام پسند گروہوں اور قوم پرستوں کے درمیان خلیج گہری ہوتی جا رہی ہے۔

بنگلہ دیش حکومت نے مطیع الرحمان کی پھانسی سے پہلے سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے ہیں۔ اگرچہ جماعت اسلامی نے جمعرات کو عام ہڑتال کی اپیل کی ہے لیکن جماعت کے ہزاروں کارکنوں اور لیڈروں کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ پولیس ، الیٹ فورسز کے ساتھ مجسٹریٹ بھی سڑکوں پر متعین کئے گئے ہیں اور انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی قسم کی غیر قانونی حرکت میں ملوث افراد کو موقع پر ہی کڑی سزا دیں۔ اس دوران حکمران عوامی لیگ کے کارکن اور حامی سڑکوں پر جشن منا رہے ہیں اور انہیں سرکاری سرپرستی حاصل ہے۔

مبصرین اس بات پر متفق ہیں کہ خانہ جنگی کے 45 برس بعد جنگی جرائم میں سیاسی مخالفین کے خلاف وطن دشمنی کے مقدمے دراصل حسینہ واجد کی طرف سے انتقامی کارروائیاں ہیں۔ وہ اپنے تمام قابل ذکر مخالفین کو ختم کرکے اپنی طویل آمریت کا راستہ ہموار کرنا چاہتی ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ ہی وہ ملک کی آبادی میں سیاسی اور نظریاتی اختلاف کی ایسی خلیج وسیع کرنے کا سبب بن رہی ہیں جس کے نتیجہ میں انتہا پسندی میں اضافہ ہو گا۔ یہ سمجھا جا رہا ہے کہ ملک کی سب سے بڑی مذہبی سیاسی جماعت، جماعت اسلامی کی قیادت کو ختم کرکے اور اس کے کارکنوں کو انتقام کا نشانہ بنا کر جماعت سے وابستہ عناصر کو انتہا پسندی اور غیر قانونی راستہ اختیار کرنے کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ ملک میں گزشتہ چند برس میں کئی سیکولر بلاگرز کو قتل کیا گیا ہے اور مذہبی بنیادوں پر شدت پسندی میں اضافہ ہؤا ہے۔ حکومت ان جرائم کا ذمہ دار مذہبی انتہا پسندوں کو قرار دیتی ہے لیکن وہ اپنی حکمت عملی کے ذریعے اس انتہا پسندی کو خطرناک حد تک بڑھانے کا سبب بھی بن رہی ہے۔

وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد اقتدار کی ہوس اور انتقام کے جوش میں ملک میں ایسے حالات پیدا کررہی ہیں جوایک نئی خطرناک اور خوں ریز داخلی کشمکش کا نقطہ آغاز بن سکتے ہیں۔ دنیا میں اسلامی جہادی تحریکوں کی موجودگی کی وجہ سے اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ بنگلہ دیش کے حالات کو ’ سازگار‘ پا کر وہ اس طرف کا رخ کریں اور دہشت گردی کا ایک طوفان وہاں سے برپا ہو جائے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 414 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

One thought on “بنگلہ دیش میں ظلم

  • 11-05-2016 at 4:29 pm
    Permalink

    بہت اچھا کیا ہے۔ آپ کے لئے ہونگے یہ صاحب ہیرو، ان کے لئے تو یہ ولن ہے کیونکہ اس حقیقت سے اندھے اور بہرے یا بیوقوف ہی انکار کریں گے کہ البدر اور الشمس جماعت اسلامی کی تنظیمیں تھیں، جسطرح آجکل جمعیت طلبا اسلام اور شباب ملی کے نام پر غنڈوں کے جتھے بنے ہوے ہیں۔ البدر اور الشمس نے ہی پروفیسرز، آرٹسٹس اور دیگر افراد کو چن چن کر گولیاں ماریں۔ ڈھاکا یونیورسٹی میں خون کی جو ہولی کھیلی اس پر پردہ ڈالنے کی کوشش صرف کوئی حد درجے کا شقی القلب انسان یا پروپیگنڈسٹ ہی کر سکتا ہے۔

Comments are closed.