سمندر میں زیر آب طوفان



anis ali

سانحہ پیرس کے بعد ہم نے یہ خیال ظاہر کیا تھا کہ یوروپ والے اسے جلد بھلا نہ پائیں گے اور نہ صرف یہ بلکہ اس طرح کے دیگر تمام چھوٹے بڑے واقعات یوروپ اور مغربی دنیا کے اجتماعی حافظے کا حصہ بنتے چلے جائیں گے۔ اب اس حافظے میں نئے سال کے موقع پر یوروپ کے مختلف شہروں میں مقامی خواتین سے اجتماعی بربریت کو بھی شامل کر لیجئے اور انتظار کیجئے اس وقت کا، جب یوروپ کی اجتماعی یادداشت میں کھولتا غصے اور نفرت کا لاوا زمین پھاڑ کر ابلنے لگے گا اور امن و آشتی کے مذہب کی آڑ میں چھپنے کی کوئی تدبیر کارگر نہ ہو گی۔
ظاہر ہے اب یوروپ اور باقی دنیا اتنی آگے نکل چکی ہے کہ نازیت کی تاریخ تو نہیں دہرائی جاسکتی، لیکن جو لوگ کل تک شام اور دیگر ملکوں کی خانہ جنگی سے بھاگ کر پناہ کی تلاش میں یوروپ آنے والوں کو خوش آمدید کہنے کے لئے دیدہ و دل فرش راہ کئے ہوئے تھے ، اب ان کی آنکھوں میں، اگر کوئی دیکھ سکتا ہے، تو لپکتے شعلے بھی دیکھے۔
یہ محض اتفاق تو نہیں کہ ساحل سمندر پر جس معصوم بچے ایلان کردی کی لاش نے پورے یوروپ کے ضمیر کو جھنجوڑ کر رکھ دیا تھا، اسی کے بارے میں ایک فرانسیسی اخبار کارٹون شائع کرتا ہے کہ بلوغت کو پہنچنے پر شاید کردی بھی جنسی حملوں میں ملوث ہو جاتا۔ سو اس کا مر جانا ہی بہتر تھا۔
یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ یہاں کسی ’ میاں صاحب ‘ یا ’ بڑے صاحب ‘ کی مرضی سے تو حکومتی پالیسیاں بنتی نہیں۔ عوامی نمائندگی اور رائے سے ترتیب پاتی ہیں۔عوامی رائے میں اب ان تارکین وطن کی آواز بھی شامل ہو چکی ہے جو برسوں سے یہاں آباد ہیں اور مقامی سیاست میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ خوشی اس بات کی بھی ہے کہ اگرچہ تارکین وطن کی پہلی نسلیں زبان و کلچر کی دشواریوں کے باعث کھل کر اپنا کردار ادا نہیں کر سکیں، لیکن مقامی معاشروں میں گھل مل جانے والے ان کے تعلیم یافتہ بچے اب سیاست سمیت ہر میدان میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں اور کچھ بعید نہیں کہ کسی موقع پران میں سے کوئی ، بلند ترین سیاسی عہدے تک جا بھی جاپہنچے۔ یہ اس لئے بھی ممکن ہے کہ یہاں قانون کی حکمرانی ہے ، جس کی راہ میں مذہب، عقیدہ، مسلک یا رنگ و نسل حائل نہیں ہو سکتے۔
لیکن جو کچھ یہاں ہوا، اس کے بعد مسقبل قریب میں تو ایسا ہوتا ہمیں دکھائی دیتا نہیں۔ اور واقعات اگر اسی تسلسل سے پیش آتے رہے تو پھرآگے بڑھنا تو کجا، شاید منہ چھپا کر رہنے میں ہی عافیت سمجھی جائے۔
دکھ کی بات تو یہ ہے کہ اتنے وسیع پیمانے پر پناہ گزینوں کی آمد سے قبل ، یوروپ رفتہ رفتہ اپنی معتدل روایات کی طرف لوٹ رہا تھا جس میں تارکین وطن کو سماج کی ایک نارمل اکائی کے طور پر قبول اور برداشت کرنے کا رجحان فروغ پانے لگا تھا۔ نسل پرستی اور انتہا پسندی کے رویے کمزور پڑتے جا رہے تھے اور امکان تھا کہ اور ایک دو نسلوں تک من و تو کا تفرقہ بہت حد تک مٹ جائے گا، اور یہاں ایک ایسا کثیر الثقافتی سماج اپنی جڑیں مضبوط کر لے گا جس میں کوئی خود کو اجنبی تصور نہ کرے گا۔
لیکن پھر سب کچھ تبدیل ہو گیا۔ خانہ جنگی کے نتیجے میں تباہ و برباد ہو جانے کے بعد جان بچانے والے، مرتے کھپتے، ڈوبتے، ابھرتے،سسکیاں لیتے جب یوروپ پہنچے تو مہذب دنیا کے ان باسیوں نے اپنے دلوں کے دروازے ان پر کھول دیئے ، جنہیں ان کا داعشی ملاّ کافر قرار دیتے ہوئے ان کے ساتھ میل ملاپ نہ رکھنے کے وعظ دیتا ہے۔ جن سے نفرت کرنا اور انہیں حقارت کی نظر سے دیکھنا کار ثواب ہے۔ جو کمتر اور گمراہ ہیں اور اگر کسی طور زیر کر لئے جائیں تو بھیڑ بکریوں کی طرح مومنوں کے غلام اور کنیزیں۔ پھر ان سے جو سلوک چاہو کرو۔ بازاروں میں ان کی کھلی منڈیاں لگاو¿۔ ایک دوسرے کو تحفے میں دو۔ ذبح کردو۔ سب جائز ہے۔
صد حیف کہ یہ سوچ صرف داعش والوں تک ہی محدود نہیں۔ یوروپ میں عیش وآرام کی زندگی کے مزے لوٹتے بہت سے ملاّ بھی اسی سوچ کے حامل ہیں، لیکن شاید جنت ارضی سے نکال دئے جانے کے خوف سے کھل کر اس کا اظہار نہیں کرسکتے، اور بظاہر امن و آشتی کے درس دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن ایک بات تو طے ہے کہ ان میں سے بیشتر نے اسلام کو وقت کے کٹہرے میں منجمد کر رکھا ہے اور صدیوں پرانی قبائلی روایات کو دین کا نام دیتے ہوئے کسی بھی نوعیت کے اجتہاد سے گریزاں ہیں۔ شاید یہ اس کے اہل بھی نہیں ہیں۔
حیرت تو ان پناہ گزینوں کی احسان فراموشی پر ہوتی ہے۔
جیسے ہی جان کی امان ، سر پر چھت اور کھانے کو چپڑی روٹی ملی، انکی شہوانی حسیات بیدار ہونے لگیں۔ان کے اندر کا شیطان جاگنے لگا ، اور نئے سال کا جشن مناتی یوروپی لڑکیاں انہیں پناہ کے ساتھ ہی مال غنیمت میں ملنے والی وہ کنیزیں دکھائی دینے لگیں جن سے یہ جو سلوک چاہے کریں۔ گمراہ اور بے حیا کافر جو ہوئیں۔ ان بدمعاشوں کے رویے سے تو یہی لگتا ہے کہ خدانخواستہ اگر یہ جنت میں داخل کر دئے گئے تو وہاں حوروں پر بھی یہ شاید ایسے ہی ٹوٹ پڑیں اور پھر فوراً ہی جہنم واصل کر دئے جائیں کہ یہ بد فطرت اسی کے اہل ہیں۔
ذرا تصور میں لائیے کہ ایسا ہی کوئی واقعہ کسی اسلامی ملک میں پیش آیا ہوتا تو کیا ہوتا۔
مسجدوں سے لاو¿ڈسپیکروں پر اعلان ہونے لگتے۔ فوراً ہی بپھرے ہوئے تماش بین ہجوم کرتے۔ قصور واروں کے ساتھ ہی کئی بے گناہوں کوپکڑتے۔ انہیں سڑکوں پر لٹا کر ڈنڈے مار مار کر بے دردی سے ہلاک کرتے۔ پولیس تماشہ دیکھتی رہتی۔ کچھ کو زندہ جلا دیتے۔ کچھ اینٹوں کے بھٹوں میں جھونک دیئے جاتے۔ سرکاری و غیر سرکاری املاک کو آگ لگا دی جاتی۔ سیاستدانوں کی اچھل کود شروع ہو جاتی۔ اور ایسا ہی اور بہت کچھ۔
لیکن یہاں کیا ہو¿ا۔
کچھ پولیس والوں کے خلاف تادیبی کارروائی۔ قوانین سخت کرنے کے اعلان۔ مسلم آبادی کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت روکنے اور عوام کا غصہ کم کرنے کی تدابیر۔ ایسے مجرموں کو ملک سے نکال دینے کا عزم۔ لیکن ان میں بھی وہ مجرم نہیں نکالے جائیں گے واپس جانے پر جن کی جان کو خطرہ ہو۔
یہ ہوتا ہے مہذب اور غیر مہذب معاشروں کا فرق۔
یہ سب کچھ اپنی جگہ۔ لیکن یہ بات بھی طے ہے کہ اگر ایک بچے کی لاش پورے یوروپ کے ضمیر کو جھنجوڑ سکتی ہے تو پھرپیرس کی خونریزی اور اجتماعی زیادتی کے ایسے بھیانک واقعات انسانی ضمیر کو بے حس چٹا ن میں بھی تبدیل کر سکتے ہیں۔ یہ مت بھولئے کہ راتب کھلانے والے ہاتھ پر دانت گاڑنے والے کتے دھتکار دئے جاتے ہیں۔
افسوس اس بات کا ہے کہ مذہب کے نام پر جہالت کی جو فصل آج بوئی جا رہی ہے ، اسے ایک دن کاٹنا بھی ہو گا۔ یہ رویے ہمیں ڈبو کر رکھ دیں گے۔
اس کی سب سے بڑی قیمت تارکین وطن کی نوجوان نسل اور ان کے بعد آنے والے بچے ادا کریں گے جو یہیں پلے بڑھے ہیں۔ ان کی وفاداریاں انہی ملکوں کے ساتھ ہیں اور انہی سے یہ اپنی پہچان وابستہ کرتے ہیں۔ باپ دادا کے آبائی ملک ان کے لئے اجنبی زمینیں ہیں۔ ان سے اگر کچھ جذباتی روابط ہیں تو وہ بھی جلد یا بدیر ختم ہو جائیں گے۔ ایسا نہ ہو کہ ہمارے آج کے رویوں کے باعث کل یوروپ میں پروان چڑھنے والے ان تنآور درختوں کو اپنی مٹی سے اکھڑنا پڑے۔ یہ خدشہ بے بنیاد سہی۔ پھر بھی لمحے بھر کو سوچئے تو!


Comments

FB Login Required - comments