’’بی کلاس ‘‘


کیا آپ کو معلوم ہے پاکستان کی جیل میں کسی قیدی کو کن اوصاف حمیدہ کی بنیاد پر ’’بی کلاس‘‘ مل سکتی ہے اور کیا آپ اس حقیقت سے آ گاہ ہیں کہ کسی قیدی کو بی کلاس دینے کے بارے میں ہماری جیلوں میں جو ضابطے رائج ہیں وہ آئین، قانون اور اخلاقیات پر کس حد تک پورا اترتے ہیں؟ جیل میں قیدیوں کی درجہ بندی ایک قابل فہم بات ہے۔ تمام قیدیوں کو ایک جیسے ماحول میں نہیں رکھا جا سکتا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس درجہ بندی کا اصول کیا ہونا چاہیے تھا اور ہم نے کیا بنا رکھا ہے۔

بعض قیدی بچے ہوتے ہیں، کچھ عورتیں ہوتی ہیں، کچھ ضعیف اور بیمار بھی ہوتے ہیں، یہ اور ان جیسے چند دیگر عوامل کی بنیاد پر اگر قیدیوں کی درجہ بندی ہو یہ تو ایک قابل فہم بات ہے لیکن اگر کسی قیدی کو کسی دوسرے قیدی سے محض اس کی دولت کی وجہ سے برتر قرار دے دیا جائے اور دوسروں سے بہتر مقام پر رکھا جائے تو اس پر ضرور سوال اٹھایا جانا چاہیے۔ پاکستان میں مگر کچھ اور ہی ہو رہا ہے۔ پنجاب حکومت کے ایک مراسلے (نمبر R&P 424/10) میں اس کے لیے ماضی میں جو بنیادی اصول وضع کیا گیا ہے زرا وہ پڑھ لیجیے۔ اصول یہ ہے کہ قیدی کے پاس بی اے کی ڈگری ہونی چاہیے۔ ساتھ ہی اس کو یہ بھی ثابت کرنا ہو گا کہ وہ ایک پر تعیش اور اعلی زندگی گزارتا آیا ہے، اب وہ اس کا عادی بن چکا ہے۔ اس لیے اب اسے جیل میں بھی بہتر ماحول دیا جائے۔

اس قانون کی مضحکہ خیزی یہیں ختم نہیں ہو جاتی بلکہ اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ کیسے ثابت کیا جائے گا کہ فلاں قیدی تو بڑی پر تعیش اور اعلیٰ زندگی گزارتا آیا ہے۔ اس کے لیے قانون میں یہ اصول طے کیا گیا ہے کہ قیدی کو اپنی پر تعیش زندگی کے ثبوت کے طور پر محکمہ ریونیو سے تصدیق کروا کر یہ سرٹیفکیٹ جمع کرانا ہو گا وہ ایک سو ایکڑ بارانی زمین کا مالک ہے یا پچاس ایکڑ نہری زمین اس کی ملکیت میں ہے۔ اگر اس کے پاس زمین نہیں ہے اور وہ کاروباری شخص ہے تو پھر اسے انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ سے یہ سرٹیفکیٹ لے کر جمع کرانا ہو گا جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ اس کے اثاثوں کی ملکیت سو ایکڑ بارانی زمین یا پچاس ایکڑ نہری زمین کے برابر ہے۔

اب زرا غور فرمائیے کیا یہ تقسیم پاکستان کے آئین کے مطابق ہے؟ آئین کا آرٹیکل 25 کہتا ہے کہ قانون کی نظر میں تمام شہری برابر ہیں لیکن آپ کسی کو محض اس لیے جیل میں بی کلاس دے دیں کہ اس کے پاس سو ایکڑ بارانی یا پچاس ایکڑ نہری زمین ہے تو کیا آپ آئین کے آرٹیکل کی روح کو پامال نہیں کر رہے؟ جس کے پاس اتنے ایکڑ زمین نہیں یا اس کے برابر اثاثے نہیں اور جو عام زندگی میں پر تعیش گزارنے کا متحمل نہیں ہو سکتا کیا اس کے کوئی حقوق نہیں؟

آپ اپنے قانون سازوں کی ذہنیت دیکھیے، وہی جاگیردارانہ سوچ جو انسانوں کو اس کی ملکیت میں موجود ایکڑوں کی تعداد سے دیکھتی ہے۔ جو جتنی زیادہ زمین کا مالک ہو گا وہ اتنا ہی معتبر اور باقی اپنے اپنے درجے میں حشرات الارض۔ ایسا بے ہودہ قانون، کم از کم، میری نظر سے آج تک نہیں گزرا۔ یعنی آپ بھلے سزا یافتہ مجرم ہی کیوں نہ ہوں اگر آپ پچاس ایکڑ نہری یا سو ایکڑ بارانی زمین کے مالک ہیں تو آپ معتبر ہیں۔ آپ کو بی کلاس دے دی جائے گی اور اگر آپ ایک پر تعیش زندگی گزارے کے عادی ہیں تو جیل میں بھی آپ کی آسایش کا خیال رکھا جائے گا۔ بھلے آپ اسی لوٹ مار میں پکڑے گئے ہوں، جس لوٹ مار سے آپ پرتعیش زندگی گزارتے تھے۔

دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کیا کسی مہذب ملک میں اس طرح کی قانون سازی کا تصور کیا جا سکتا ہے؟ اول تو ساری جیلوں کا ماحول بہتر بنانے کی ضرورت ہے اور وہاں بنیادی ضروریات اور صحت کی سہولیات موجود ہونی چاہئیں۔ سیاست دان گھناونے جرائم میں سزا پا کر بھی بی کلاس لے لیں گے تو ان کی بلا سے کہ باقی جیل کے قیدی حبس سے مریں یا دوا نہ ملنے سے۔ تبدیلی تو تبھی آئے گی سب قیدیوں کے ساتھ ایک جیسا معاملہ کیا جائے۔ تبھی ان کو احساس ہو گا کہ جیلوں میں عام آدمی کیسے زندگی گزارتا ہے۔ یہ کیسی برہمن قسم کی سوچ ہے کہ حکمران طبقے کی ہر چیز عام انسان سے الگ ہے۔ ان کے بچوں کے تعلیمی ادارے باقیوں سے الگ ہیں۔ ان کے معالج الگ ہیں۔ یہ علاج بھی باہر کے اسپتالوں سے کراتے ہیں۔ اور جملہ وارداتوں کے بعد کبھی پکڑے جائیں تو جیل کے اندر بھی انھیں کبھی مچھر کاٹتے ہیں تو کبھی ان کا واش روم گندا ہوتا ہے۔ یہ دوسرے ہی دن شکایت کرتے ہیں اور بی کلاس میں جا کر بیٹھ جاتے ہیں۔ تاہم جب تک جیلوں میں سب کے لیے یکساں اور مناسب ماحول نہیں بن جاتا تب تک اگر بی کلاس رکھنا ہی ہے تو ڈھنگ کا کوئی اصول تو بنا دیجیے۔

چلیں کوئی بزرگ ہے، بوڑھا ہے، کوئی عالم دین جرم کر بیٹھا ہے، کوئی ڈاکٹر پروفیسر ہے تو بی کلاس دے دیجیے۔ یا پھر انکم ٹیکس کی ایک شرح مقرر کر دیجیے کہ جس نے اتنا ٹیکس دیا ہو گا وہ اس کا حق دار ہو گا۔ یہ پچاس ایکڑ نہری اور سو ایکڑ بارانی زمین کون سا اصول ہے جو قانون کی صورت مسلط کر دیا گیا ہے؟

بی کلاس کے لیے اس مراسلے میں جو اصول طے کیے گئے ان میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ کچھ جرائم اتنے سنگین ہیں کہ ان میں سزا یافتہ کسی بھی شخص کو بی کلاس نہیں ملے گی۔ ان جرائم میں مالی بد عنوانی، فراڈ، غبن، دھوکا دہی وغیرہ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ حتیٰ کہ اگر آپ کسی کو چیک جاری کریں اور وہ باونس ہو جائے تو ایسے مجرم کو بھی بی کلاس نہیں ملے گی۔ یہ چیز بھی واضح طور پر لکھ دی گئی ہے کہ قومی احتساب آرڈی ننس کے تحت سزا یافتہ یعنی نیب کے مجرموں کو بی کلاس نہیں دی جا سکتی۔ اس مراسلے میں یہ بھی لکھا ہے کہ بے شک کوئی مجرم ان شرائط کو پورا بھی کر لے، وہ کسی بھی صورت میں بی کلاس کو اپنا حق نہیں سمجھ سکتا۔ لازم نہیں کہ اس کو بی کلاس دی جائے۔ یعنی سپرنٹنڈنٹ جیل کو ایک چھوٹا سا آقا بنا دیا گیا ہے جو چاہے کرتا پھرے کون پوچھنے والا ہے۔

آپ جیل رولز پڑھیں آپ حیران رہ جائیں گے کہ ایسا مجموعہ لطائف موجود ہے اور کسی نے اس کو بہتر کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اب اگر نواز شریف صاحب کے اڈیالہ جیل جانے سے بی کلاس سے لے کر گندے واش روم تک مختلف معاملات زیر بحث آ ہی گئے ہیں تو کیوں نہ اس بحث کو ایک مثبت رخ دیتے ہوئے جیلوں کی مجموعی صورت احوال اور وہاں کے قوانین میں بہتری کی کوشش کی جائے۔ قیدی بھی تو آخر انسان ہی ہوتے ہیں۔ کب تک ان سے جانوروں سے بدتر سلوک کیا جاتا رہے گا؟ جیل کے عملے کی من مانیاں ایک الگ موضوع ہے۔ جیل کا ماحول نو عمر بچوں کو عادی مجرم بنا رہا ہے، کبھی کسی کو اس مسئلے پر غور کرنے کی توفیق کیوں نہیں ہوتی؟

جیلوں میں منشیات سے لے کر موبائل فون تک کیسے پہنچ جاتے ہیں؟ کیا جیل میں بھی قیدیوں سے بھتا لیا جاتا ہے؟ جیل میں قید خواتین کے مسائل کہاں سے شروع ہو کر کہاں ختم ہوتے ہیں اور ختم ہوتے بھی ہیں کہ نہیں۔ اس طرح کے بہت سارے سوالات ہیں جو ہماری توجہ کے مستحق ہیں۔ نواز شریف صاحب کا واش روم صاف ہو جائے تو ازرہ کرم ان سوالات پر بھی غور فرما لیا جائے۔

(بشکریہ روزنامہ 92)

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں