ساتواں خواب نامہ۔۔۔۔ کن نیندوں اب تو سوتی ہے اے چشم گریہ ناک


13 مئی 2018

درویش کو رابعہ کا آداب۔

وہی گرمیوں کی مختصر سی رات،جو آدھی ادھر اور آدھی ادھر ہو چکی ہے۔ رابعہ نجانے کب سے سوچا کرتی ہے کہ وہ کسی ایسے مقام پہ رہے جہاں کم از کم رات بارہ گھنٹے کی تو ہو۔

جوں جوں رات اپنا سفرکرتی ہے رابعہ کو محسوس ہوتاہے توں توں وہ آزاد ہو رہی ہے.اور جوں جوں دن چڑھنے لگتا توں توں وہ نجانے کن ان دیکھی زنجیر وں کی مقید ہوتی چلی جاتی ہے۔ یہاں گرمی کا موسم طویل ہوتا ہے اور راتیں چھوٹی چھوٹی کہ انہیں محسو س کر نے کا وقت آتا ہے تو وہ اپنے فطری نظام میں قید کسی بے وفا محبوب کی طرح بن بتائے رخصت ہو جاتی ہیں۔

درویش نے ذکر کیا دریا کا تو رابعہ کو یاد آ گیا اس کا بچپن جہاں گزرا ہے وہاں لاہور کی مشہور نہر پاس ہی تھی اور ابھی رابعہ چھو ٹی سی ہی تھی چلنا سیکھا ہی تھا تو اس کے بابا روز رات کو کھانے کے بعد اسے اپنے ساتھ لے جایا کرتے اور پورے راستے اس کو تاریخی عمارتوں لاہور کی سڑکوں اور تاریخ کا قصہ سناتے رہے۔ رابعہ نے اپنے ایک ادبی کالم میں اس حسین دور کا ذکر کیا۔

’’مجھے انہی (ابو) سے پہلی مرتبہ معلو م ہوا کہ لاہور لاہور ہے ۔ انہی نے بتایا کہ مال روڈ ٹھنڈی سڑ ک کہلاتی تھی۔ اور یہاں تانگہ بڑ ی شان سے چلا کرتا تھا۔ اْنہی سے پتا چلا کہ کنا ل روڈ اوس بھر ی راتوں میں سانس لیتی تھی اور گرمیو ں کی دوپہروں میں مسافروں کی پناہ گاہ بھی تھی۔

وہ نہر کنا رے مجھے لیے چلتے رہتے، تب گر ین بیلٹ بہت چھو ٹی نہیں ہوا کر تی تھی، ابھی یہا ں ٹر یفک کا موجیں مارتا سمند ر نہیں تھا،  جو درختو ں کی شاہ ر گ پہ نظریہ ضر ورت کے تحت کلہاڑی چلانے کا مطا لبہ کرتا۔ ہم فیروز پور روڈ پا ر کر تے تو بھی یہ انڈیا تک جا تی سڑ ک پر اِکا دْکا گاڑیاں رینگا کرتی تھیں، و ہا ں سے شاہ جمال تک جا تے، را ستے میں پی ۔سی ۔ایس۔آئی ۔آر لیب، جا مع اشرفیہ،  ایف سی کا لج آتے۔ اور ابو مجھے اِن جگہو ں کی تا ریخ بتا تے جا تے۔

سب کچھ د ھندلا دْھندلا یادو ں کے نقشے پر ر قص کر تا ہے۔ اگر چہ یہ سب اب بھی موجود ہے ۔مگر اس سب کے باہر و اندر بہت کچھ بدل چکا ہے۔تب نہر کنا رے یو ں گرلِز نہیں ہو ا کر تی تھیں۔ نہر آزادی سے اور اپنی مر ضی سے بہا کر تی تھی۔ تیز با رش میں بوندوں کی آواز فطری مو سیقی کی طر ح دور تک سْنائی دیتی تھی۔

اس کے بعد آج سے کچھ عشرے قبل بھی لاہور، لاہور ہی تھا۔ لاہور شہر کے بیچ سے گزرتی نہر اور اس کے دونوں اطراف خاموش Lavish and sensual green سڑ کیں ۔۔۔۔ ما ل روڈ کا رومان ایک طرف اور کنال روڈ کا روما ن دوسری طرف ۔۔۔۔مال روڈ کے در خت بلندیوں پر سر جوڑے با تیں کرتے تھے اور کنال روڈ کے درخت نہر کے اوپر، آسمانو ں کے نیچے سر جوڑے سرگوشیوں میں مصرو ف ہوتے تھے۔ تبھی تو شا ید ایک تخیل تخلیق میں ڈھلا اور جابجا گو نج اْٹھا

سَنو ں نیر والے پْل تے بْلا کے ۔۔۔ تے خورے ماہی،  کتھے رہ گیا

لاہوریوں کے لیے یہ نہر ’’ریور ٹیمز”  سے کم نہیں۔ خصوصاَ جنہو ں نے اس کے کنارے اپنا بچپن و نوجوانی گزاری ہو۔ اب بھی (جبکہ ٹریفک کا اک سونامی یہاں بپا رہتا ہے) صبح کاذب کے بعد یہا ں کا روما ن اپنے عروج پر ہوتا ہے۔ نیم روشنی نیم اندھیرے میں ا یک خوبصورت نظارہ اکثر صبح کو چہل قدمی کرنے والو ں کو مل جاتا ہے، مٹیالی نہر کے سینے پہ سفید کاغذوں پہ گلاب کی سرخ پتیاں ایک قطا ر میں نہر کے سینے پہ مسکراتی سفر کر رہی ہوتی ہیں۔ کوئی شخص کسی کنارے بیٹھا کاغذوں پہ پھو ل ڈال کر پا نی کے حو الے کرتا جا تا ہے۔ اور یہ پھو ل قطا ر در قطا ر کاغذو ں کی کشتیو ں میں سفر کر تے نجانے کہاں تک دعوت نظارہ د یتے ہیں۔ آنکھوں میں حسن اور لبوں پر مسکا ن بکھیرتے چلتے چلے جاتے ہیں ۔ کچھ ڈوب جا تے ہوں گے، کچھ کو منز ل مل جاتی ہو گی،  کچھ کسی کی منزل بن جاتے ہوں گے۔

نہر کا وہ حصّہ جہاں سے ایک طرف مسلم ٹائون دوسری طرف گارڈن ٹاؤن شروع ہوتا ہے۔ اور نہر کنال و یو کی طرف سفر جاری رکھتی ہے، و ہا ں ہْو کا عالم ہوا کر تا تھا۔ صبح روشن میں بھی سناٹے کا راج تھا۔ مگر آج کنال روڈ پر رواں ٹر یفک کی صورت حا ل سے سڑکو ں کے دل کانپ اْ ٹھتے ہیں حالانکہ وہا ں سے درختو ں کو کا ٹنے وا لی حماقت کر کے سڑ کو ں کو کشا دہ بھی کیا گیا ہے مگر بڑھتی آ با دی کی بڑھتی ضر و ریا ت کے لیے اب بھی شاید یہ سب نا کافی ہے ۔،،

14 اکتوبر 2015 ’’روزنامہ جناح”

تب یہ نہر اور یہ لاہور ایسا نہیں تھا جیسا اب ہے۔ اب ترقی نے مادیت پرستی کی صورت اختیار کر لی ہے۔ انسان چرند پرند جانور تک مادہ پرست ہو گئے ہیں۔ پیزا، شوارما، ڈونٹ شوق سے کھا لیتے ہیں۔ فریش پھل، سبزی، دیسی گھی سے انہیں سمیل آ تی ہے۔ مادہ پرستی نے زندگی بہت مشکل بنا دی ہے کہ مرنا آسان لگتا ہے

رابعہ کسی ایسی جگہ رہنا چاہتی ہے جہاں اس کو منرل نامی پانی نا پینا پڑے.’’ٹیپ واٹر،، ہو.

یا درویش آپ نے اپنے خواب بتائے اور ایک خطوط کا خواب بتایا۔

رابعہ کی بھی ایسی ہی ملتی جلتی ایک ادبی تمنا تھی کہ ایک بھرپور مکالمہ تحریری صورت میں ہونا چاہئے مگر ایسی کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی۔ کیونکہ فطرت کے قانون کے مطابق تخلیق مرد اور عورت مل کر کرتے ہیں تو کائنات کا نظام جاری رہتا ہے ۔اور یہ ایک ایسا آئڈیا تھا جس کے لئے اسے ایک بہت وسیع قلب وذہین انسان کے ساتھ کام کرنا تھا اور جس معاشرے کی وہ باسی ہے وہاں افسوس کے ساتھ وسیع ذہن کے انسان نہیں ہوتے، مرد ہوتے ہیں۔ عورت کو وہ صرف جسم کے مقام پہ رکھتے ہیں۔ یہاں تو مرد کا بس نہیں چلتا کہ وہ جب دفن کیا جائے تو دلی وصیت کے مطابق قبر کشادہ کر کے فلاں فلاں عورت کو اس کے ساتھ زندہ دفن کر دیا جائے۔

رابعہ ایک ایسے معاشرے میں رہتی ہے جہاں اس کو سب کے سامنے ایک منافق زندگی کے رنگین کپڑے ہر وقت ذہنی طور پہ پہنے رکھنے ہوتے ہیں۔ وہ کسی سے علمی گفتگو نہیں کر سکتی، کرے گی، اور کسی کو سمجھ آ گئی تو وہ اس کے خلاف ایک ان دیکھا ایسا جال بچھا دے گا جہاں وہ عورت ہی عورت ہو گی، جسم ہی جسم ہو گا۔

عورت جانتی ہے اسے دانائی کی بات نہیں کرنی۔ اگر انہی لوگوں میں عزت کے ساتھ رہنا ہے۔ ہاں اگر عزت کے ساتھ نہیں رہنا تو یہاں دانائی ذہنی فحاشی ہے،ادب ذہنی عیاشی ہے،اب عیاش و فاحشہ عورت کی کیا جگہ ہے؟ وہ درویش بھی جانتا ہے، رابعہ بھی رابعہ کو ہمیشہ حسن بصری اور رابعہ بصری کی روحانی دوستی ہانٹ کرتی تھی، وہ سوچا کرتی تھی کیا اب بھی مرد و عورت کی اتنی علمی و روحانی دوستی ممکن ہے۔

(I request that you kindly spare a cursory look into the relationship of Hannah Arendt and her companion Heinrich Blücher. Ed.)

رابعہ کو درویش کے خواب پڑھ کہ اچھا لگا اس سے زیادہ یہ اچھا لگا کہ درویش کے خواب تعبیر ہو گئے.

درویش نے بات کی پرواز کی۔۔۔۔اس سارے فلسفے میں رابعہ کا فلسفہ، اس کا تجربہ ہے۔ وہ بھی اڑنا چاہتی تھی، اس نے بھی کوششیں کیں مگر اسے عمر بھر یوں محسوس ہوا کوئی ان دیکھی طاقت ہے جو اسے کبھی لوہے کا بنا دیتی ہے، کبھی پانی، کبھی ہوا اور کبھی بادل مگر وہ خود کچھ بھی۔ اس کی کو ئی خواہش ویسے تعبیر نہیں ہوئی جیسے اس نے چاہا تھا۔ زندگی کی اس مسلسل جنگ نے آخر کاr اس کو اس طاقت کے سامنے سر تسلیم کرنے پہ مجبور کر دیا کیونکہ عمر گذشتہ کی لاحاصل جنگ نے اس کے نظریات بدل دیئے اور اس نے خود کو موسی کی کشتی میں ڈال کر تقدیر کے دریا کے حوالے کر دیا۔

رابعہ اگر ان حقائق کی بات کرتی ہے تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ یہ زندگی کی سفاکی کا گلہ ہے۔ نہیں ایسا نہیں ہے۔ رابعہ جو کھونے کا سوچ نہیں سکتی تھی اگر اس کو وہ سب نہیں ملا تو جو پانے کا بھی وہ سوچ نہیں سکتی تھی، دینے والے نے اسے وہ دیا بھی ہے۔ جس کا رابعہ جیسی بہت سی لڑکیاں صرف خواب ہی دیکھ سکتی ہیں۔

اور یہ سب کیسے ملا ہے اس سب پہ جب وہ غور کرتی ہے ان رازوں پہ سے جب اس کے اندر پردے اٹھتے ہیں تو اتنی روشنی ہو جاتی ہے کہ رابعہ کو یوسف اور رابعہ بصر ی یاد آنے لگتے ہیں۔

رابعہ کو محسو س ہوتا ہے۔ آزمائش لینے والا آپ سے آپ کی محبت کی آزمائش لیتا ہے۔ آزمائش لینے والا آپ سے آپ کے آئیڈیل جیسی آزمائش لیتا ہے۔ یہ دونوں محبت کی سچائی کی کسوٹی ہوتی ہیں۔ یا ان کو محبت و آئیڈیل اسی لئے بنا لیا جاتا ہے کہ آنے والا وقت آزمائش آسان و واضح ہو جائے۔

رابعہ کو لگتا ہے جسے آپ آئیڈیل بنانے لگتے ہیں اس کی سی مشترک خصلتیں لا شعور ی طور پہ آپ میں در آتی ہیں۔

رابعہ درویش سے اجازت چاہتے ہوئے پوچھتی ہے کیا ایسا ہی ہے؟

یا درویش یہاں تہجد کا تارا چمکنے والا ہے.رابعہ اس طویل اور بے کار کاموں والی زندگی سے تھک گئی ہے۔ سونا چاہتی ہے کہ شاید کوئی خواب تعبیر والا، اس کا منتظر ہو۔

فی امان اللہ

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں