25 جولائی 2018ءکو5 جولائی 1977ءنہ بننے دیں


1970 کے بعد حکومت سے باہر رہ جانے والی جماعتوں نے انتخابی نتائج کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔ بہت شوروغوغا مچانے کے باوجود مگر عملی اعتبار سے وہ 1977کے علاوہ انتخابی عمل کے ذریعے قائم حکومتوں کو کسی نہ کسی صورت برداشت کرتی رہیں۔

چند صورتوں میں انتخابی عمل میں منظم دھاندلی کے ٹھوس ثبوت پالینے کے باوجود اپوزیشن میں بیٹھی جماعتیں درگزر سے کام لیتی رہیں تو وجہ اس کی آئین کا آرٹیکل 58-2(B)تھا۔ اس آرٹیکل کے تحت صدر کو یہ اختیار میسر تھا کہ وہ جب چاہے کسی منتخب اسمبلی کی تحلیل کا اعلان کرکے نئے انتخابات منعقد کروادے۔ اس اختیار کی وجہ سے نواز شریف کو محترمہ بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت کو فارغ کرنے کے لئے کوئی عوامی تحریک چلانے کی ضرورت محسوس نہ ہوئی۔ محلاتی سازشوں کا سہارا لیا گیا۔

1990کے انتخابات کے نتیجے میں جب وہ خود اقتدار میں آگئے تو محترمہ بے نظیر بھٹو بھی غلام اسحاق خان کو نواز حکومت کو فارغ کرنے کے جواز فراہم کرتی رہیں۔اپریل 1993کی سپریم کورٹ نے مگر نواز حکومت کی برطرفی کو غیر آئینی ٹھہرایا۔ یہ حکومت سپریم کورٹ کے ذریعے بحال ہونے کے باوجود مگر کام نہ کر پائی۔ جنرل وحید کاکڑ مداخلت پر مجبور ہوئے۔ صدر اسحاق اور وزیر اعظم نواز شریف سے استعفے لئے۔ نئے انتخابات ہوئے اور محترمہ ایک بار پھر اس ملک کی وزیر اعظم منتخب ہوگئیں۔

نواز شریف نے اس حکومت کو تحریک نجات نامی تحریک کے ذریعے ٹرین مارچ جیسے اقدامات کے ذریعے فارغ کرنا چاہا۔ بات مگر بن نہیں پائی۔ بالآخر سیدہ عابدہ حسین کے لغاری خاندان کے ساتھ جاگیردارانہ مراسم کام آئے۔ شاہد حامد صدر لغاری پر اثرانداز ہوئے اور نومبر1996میں دوسری بے نظیر حکومت کو پیپلز پارٹی ہی کے بنائے صدر لغاری نے کرپشن کے الزامات لگاکر گھر بھیج دیا۔ اس دور کے چیف جسٹس نے نسیم حسن شاہ کے برعکس صدارتی احکام کو آئینی اعتبار سے جائز ٹھہرایا۔

آئین کے آرٹیکل 58-2-(B)کی وجہ سے نازل ہوئے عدم استحکام اور اس کے اطلاق کے ضمن میں سپریم کورٹ کے متضاد رویوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کو مجبور کیا کہ وہ قومی اسمبلی میں محض 18نشستوں تک محدود ہوجانے کے باوجود نواز حکومت کے ساتھ اس آرٹیکل سے آئینی ترمیم کے ذریعے نجات حاصل کرنے میں تعاون کریں۔ وزیر اعظم اس آئینی ترمیم کے سبب بہت ہی بااختیار ہوگئے تو عسکری قیادت پریشان ہوگئی۔ کارگل نے اس پریشانی میں مزید اضافہ کیا اور بالآخر اکتوبر1999ہوگیا۔

تین برس کی فوجی آمریت کے بعد جب پارلیمان بحال ہوئی تو صدر کو اسمبلیاں توڑنے کا اختیار لوٹا دیا گیا۔ 2002میں قائم ہوئی اسمبلی نے اپنی آئینی مدت مکمل کی۔ 2008میں قائم ہوئی پارلیمان نے اسمبلیاں توڑنے والے صدارتی اختیار کو دوبارہ آئین سے حذف کردیا۔ اسے حذف کردینے کے باوجود قومی اسمبلی نے آئینی مدت مکمل کی۔ 2013میں انتخابی عمل کے ذریعے نئی حکومت کو اقتدار منتقل ہوا۔

2013کے انتخابی عمل سے پیپلز پارٹی اور اے این پی جیسی جماعتیں بھی مطمئن نہیں تھیں۔ اس کے نتیجے میں قائم حکومتوں سے مگر گزارہ کرنے کا فیصلہ ہوا۔

فقط تحریک انصاف نے 2014میں حکومت کے خلاف اسلام آباد میں 126دنوں تک پھیلا دھرنا دیا۔ ”ایمپائر“ نے مگر اُنگلی نہ اٹھائی۔ جمہوری بندوبست جاری رہا۔ نواز شریف سے نجات عوامی تحریک کے ذریعے نہیں بلکہ پانامہ دستاویز کی بنیاد پر متحرک کئے عدالتی عمل کے ذریعے ممکن ہوئی۔ وزیر اعظم کی فراغت کے باوجود مگر پارلیمان کا وجود برقرار رہا۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں نے اپنی آئینی مدت مکمل کی اور اب 25جولائی کو ہم ایک اور انتخاب میں حصہ لے رہے ہوں گے۔

ہماری سیاسی تاریخ میں لیکن پہلی بار تحریک انصاف کے علاوہ تمام جماعتیں یکسو ہوکر واویلا مچارہی ہیں کہ اس ملک کی مقتدر قوتوں نے جو فقط عسکری قیادت ہی پر مشتمل نہیں ہیں عمران خان صاحب کو ”لاڈلا“ بنالیا ہے۔”پری پول رگنگ“ اور ”سیاسی انجینئرنگ“ کے ذریعے انہیں وزارتِ عظمیٰ کے عہدے تک پہنچانے کے راستے بنائے جارہے ہیں۔

شاید ان کے لگائے الزامات قطعاََ بے بنیاد ہوں گے۔ ان الزامات کو جھٹلانے کے لئے مگر ہمارے سامنے کوئی موثر بیانیہ نہیں آیا ہے۔ الیکشن کمیشن اور نگران حکومتیں کئی اقدامات کے ذریعے بلکہ انتخابی عمل کو مشکوک بنارہی۔بدقسمتی سے کئی عدالتی فیصلوں کی ٹائمنگ بھی فضا کو مزید مکدر بنارہی ہے۔

”لاڈلے“ کے بارے میں مچایا واویلا مجھے یہ سوچنے کو مجبور کررہا ہے کہ 25جولائی کے دن آئے انتخابی نتائج کے بارے میں فقط سوالات ہی نہیں اٹھائے جائیں گے۔ٹھوس شواہد بلکہ اشارہ دے رہے ہیں کہ تحریک انصاف کی جیت کا اعلان ہونے کے فوری بعد انتخابی عمل کے خلاف ایسی تحریک چلائی جاسکتی ہے جس کاتجربہ ہمیں مارچ 1977میں ہوچکا ہے۔

بھٹو حکومت کی زیر نگرانی ہوئے ان انتخابات کو تمام سیاسی جماعتوں نے یکسو ہوکر دھاندلی زدہ قرار دیا تھا۔ اپوزیشن کے وہ لوگ جو قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے رکن منتخب ہوئے انہوں نے پارلیمان میں جانے سے انکار کردیا۔

نئے انتخابات کے مطالبے کی تحریک چلی جو بالآخر ”نظام مصطفےٰ “ کا نعرہ لگاتے ہوئے متشدد رُخ اختیار کرنا شروع ہوگئی۔ اس تحریک پر قابو پانے کے لئے ذوالفقار علی بھٹو کو فوج سے مدد طلب کرنا پڑی۔ معاملات مگر سنبھل نہ پائے اور بالآخر 5جولائی 1977ہوگیا۔

یہ کالم میں فقط یہ فریاد کرتے ہوئے ختم کررہا ہوں کہ 25جولائی 2018کے بعد 5جولائی 1977کی جانب لوٹنے سے ہر صورت گریز کیا جائے۔

بشکریہ نوائے وقت

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں