ملک کا لیڈر کرپٹ ہوتو نظام کیسے ٹھیک ہو سکتا ہے : عمران خان


imran (640x480)کپتان کے وزیراعظم پر تابڑ جوڑ حملے۔ کہتے ہیں اثاثے کہاں کہاں ہیں میاں صاحب وقت آ گیا قوم کو سچ بتائیں۔ فضل الرحمان کو اپنی جماعت کا نام کرپشن بچاو¿ پارٹی رکھنے کا مشورہ بھی دے ڈالا۔
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے جلسے میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا چند دن پہلے میاں نواز شریف نے تمبو میں جلسہ کیا تھا۔ میاں صاحب کے ایک طرف اکرم درانی دوسری طرف مولانا فضل الرحمان تھا اور مجھے للکارا گیا اس لئے بنوں میں آیا۔ بنوں کے لوگ باشعور ہیں ہم ایک نیا پاکستان بنا سکتے ہیں اگر حق اور سچ کے لیے کھڑے ہو جائیں۔ جس ملک کا لیڈر کرپٹ ہو وہاں پورا نظام کرپٹ ہو جاتا ہے۔ عمران خان نے کہا کرپشن ملک کو دیمک کی طرح کھا رہی ہے۔ پاکستان وہ ملک تھا جو خطے میں تیزی سے ترقی کر رہا تھا اور پاکستان کی ڈگری کو دنیا میں مانا جاتا تھا جبکہ پی آئی اے دنیا کی بہترین ایئر لائن تھی۔ وقت آ گیا ہے میاں صاحب قوم سے سچ بولیں اور بتائیں آپ کے اثاثے کتنے اور کہاں ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا سنگا پور اور ملائیشیا کے اوپر جانے کیوجہ ان کو عظیم لیڈر شپ ملی۔ سنگا پور اور ملائیشیا کی لیڈر شپ نے ملک میں کرپشن ختم کی اور اداروں کو مضبوط کیا گیا۔ عمران خان نے کہا نواز شریف نے ایک فیکٹری سے 28 فیکٹریاں بنائیں۔ قوم غریب ہو گئی اور نواز شریف امیر ہو گئے۔ نواز شریف قوم آپ سے جواب مانگیں گی کیا آپ اقتدار میں بزنس بڑھانے کے لیے آئے ہیں۔ کیا نواز شریف نے غریبوں کے مسائل کا کبھی سوچا۔ ملک میں اس وقت پیسے والے نہیں سارا ٹیکس عوام دیتے ہیں۔ پیسے والوں سے نواز شریف ٹیکس نہیں لے سکتا کیونکہ خود کرپشن اور منی لانڈرنگ کرتا ہے۔ ہم ملک سے ٹیکس اکٹھا کریں گے۔ عمران خان نے کہا پاکستان کو بہتر کرنا ہے تو بڑے لوگوں سے ٹیکس لینا ہو گا۔ پٹواریوں کو پکڑنے سے کرپشن ختم نہیں ہو گی اوپر کے لیول سے لوگوں کو پکڑنا ہو گا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ 200 ارب ڈالر بیرون ملک پڑا ہے۔ وہ دن دور نہیں ہم 200 ارب ڈالر کو واپس لا کر دکھائیں گے۔ انہوں نے نیب چیئرمین سے مطالبہ کیا کہ وہ ذمہ دار شخص ہیں ثبوت آ گئے ایکشن کیوں نہیں لیتے کیونکہ جو نیب چیئرمین کر سکتے ہیں کوئی کمیشن نہیں کر سکتا۔ کمیشن کو دیر اور نیب فوری ایکشن لے سکتا ہے۔ نواز شریف نے اربوں کے فلیٹ کے لیے کدھر سے پیسہ آیا؟۔ نیب میں کیس جائے گا تو وزیراعظم کو ثابت کرنا پڑے گا۔ اگر نیب نے صیح احتساب کر دیا تو پھر وزرا بھی چوری کرتے ہوئے ڈریں گے۔ اگر نواز شریف بچ جاتا ہے تو مطلب کرپشن ملک میں عام ہو جائے گی۔ کپتان نے مولانا فضل الرحمان پر تنقید کرتے ہوئے کہا نواز شریف کو بچانے کے لیے مولانا فضل الرحمان آئے ہیں انہیں پہلے اپنی پارٹی کا نام تبدیل کرنا چاہئے۔ انہوں نے مولانا کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی پارٹی کے نام سے اسلام اور علما نکال دیں۔ اپنی جماعت کا نام ”نواز شریف کی کرپشن بچاو¿“ پارٹی رکھ لینا چاہیے۔


Comments

FB Login Required - comments