مسلمان بھی ہوں اور انسان بھی!

سہیل حلیم - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی


انڈیا میں کچھ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ وہ انسان بھی ہیں، اور وہ یہ دعویٰ ٹوئٹر پر کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ مسلمان بھی ہیں اور انسان بھی ہیں، اس لیے (ہندو) ان سے بات کر سکتے ہیں یا انہیں کرنی چاہیے۔ #TalkToAMuslim نامی ہیش ٹیگ ٹوئٹر پر ٹرینڈ کر رہا ہے، اور اس میں انسان ہونے کا دعویٰ کرنے والے مسلمان اور ہندو دونوں حصہ لے رہے ہیں۔

دویا سکسینا رستوگی نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر لکھا ہے کہ اس مہم میں آج وزیر اعظم نریندر مودی بھی حصہ لیں گے، وہ راہل گاندھی سے بات کریں گے! بس یہیں سے یہ پورا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ گذشتہ ہفتے مسلمان دانشوروں کے ایک وفد نے کانگریس پارٹی کے صدر راہل گاندھی سے ملاقات کی، اس ملاقات کی دعوت خود راہل گاندھی نے دی تھی۔ اردو کے اخبار انقلاب نے اس بارے میں ایک رپورٹ شائع کی جس کی سرخی تھی: ’کانگریس مسلمانوں کی پارٹی ہے: راہل گاندھی‘

خبر میں لکھا تھا کہ بات چیت کے دوران راہل گاندھی نے وفد سے کہا کہ کانگریس مسلمانوں کی پارٹی ہے کیونکہ وہ کمزور ہیں اور کانگریس ہمیشہ سے کمزوروں کے ساتھ رہی ہے۔ لیکن کانگریس اور وفد میں شامل لوگوں کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی نے ایسی کوئی بات نہیں کہی تھی۔ پارٹی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس مسلمانوں کی بھی اتنی ہی پارٹی ہے جتنی کہ دوسرے ہندوستانیوں کی۔ لیکن اس کے باوجود خود وزیر اعظم نے ایک ریلی میں کہا کہ راہل گاندھی نے کانگریس کو مسلمانوں کی پارٹی بتایا ہے۔

اس حوالے سے ٹوئٹر پر لوگ بہت دلچسپ پیغامات لکھ رہے ہیں۔ مورخ رانا صفوی نے لکھا ہے کہ: ’میں ہندوستانی مسلمان ہوں، تفریح کرتی ہوں، زندگی سے لطف اندوز ہوتی ہوں، آپ سے شیکسپیئر، غالب، میرابائی اور آزادی کی پہلی لڑائی کے بارے میں بات کرسکتی ہوں، اور آزادی کی لڑائی میں مسلمانوں کے یوگدان کے بارے میں بھی آئیے مجھ سے بات کیجیے!‘

انڈیا میں گذشتہ کچھ عرصے میں مذہبی منافرت بڑھی ہے، مسلمانوں کو کبھی گاؤ کشی تو کبھی گھر واپسی کے نام پر نشانہ بنایا گیا اور کئی لوگوں کی جانیں جاچکی ہیں، ایسے حالات میں بہت سے لوگ مانتے ہیں کہ سماجی تانے بانے کو بہت نقصان پہنچ رہا ہے، اور ہندوؤں اور مسلمانوں کو قریب لانے کی ضرورت ہے۔ ایکتا ملک نے لکھا ہے کہ ’میں ہندو ہوں، میں مسلمانوں سے بات کرتی ہوں، مجھے لگتا ہے کہ وہ بھی انسان ہیں!‘

فلمی اداکار اس طرح کی بحث سے اکثر دور ہی رہتے ہیں، لیکن سوارا بھاسکر نہیں۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’ہندوستان میں ہر نسل اور عقیدے کے لوگ رہتے ہیں، ہندوستان محبت اور امن کی علامت ہے۔‘ لیکن وینکٹ روی کا کہنا ہے کہ اس طرح کے ہیش ٹیگ قائم کر کے لوگ ایک ایسی صورتحال پیدا کرنا چاہتے ہیں جس کی (ابھی) کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ’میں اپنے پڑوسی رفیق سے بات کرتا ہوں اور اپنی زرعی پیداوار ایک مسلمان کو بیچتا ہوں کیونکہ وہ سب سے بہتر قیمت دیتا ہے۔‘

پیریاکوروپم کہتے ہیں کہ ’ہاں، ہمیں مسلمانوں سے بات کرنا چاہیے کیونکہ ہر مسلمان دہشتگرد نہیں ہوتا اور ہر برہمن گوڈسے ( گاندھی کا قاتل) نہیں ہوتا۔‘ سری کانت کا کہنا کہ ’میں پہلے ہندوستانی ہوں، پر ہندو، اور میں بھی انسان ہوں۔۔۔ ہندوؤں کو نشانہ بنانا بند کیجیے۔‘

مصنفہ نازیہ ارم کا کہنا ہے کہ ’اگر آپ کو لگتا ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ زیادتی نہیں ہو رہی، اگر آپ کو لگتا ہے کہ مسلمان اس بات سے عاجز نہیں آچکے ہیں کہ ٹی وی چینلوں پر رات رات کی ڈبیٹ مسمانوں کے بارے میں ہی ہوتی ہے، اگر آپ کو لگتا ہے کہ مسلمان الگ تھلگ اور اکیلا محسوس نہیں کرتے، تو پھر آپ کو بات کرنے کی ضرورت ہے! میں ایک ہندوستانی مسلمان ہوں، مجھ سے بات کیجیے۔‘

یہ بات چیت اصل زندگی میں ہو نہ ہو، ٹوئٹر پر پوری شدت سے ہو رہی ہے اور یہ شروعات بھی بری نہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 4902 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp