تحریک انصاف: دل اس کی محبت میں گرفتار ہوا تھا


2010 کے بعد عمران خان نے تواتر سے ٹاک شوز میں آنا شروع کیا۔ وہ ٹاک شو میں ایک مہذب انداز میں اپنا موقف قوم کے سامنے پیش کرتے، اپنی ماضی کی کارکردگی کا ٹریک ریکارڈ بتاتے، اپنے کرپشن سے دور ہونے اور مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کی کرپشن کی داستانیں سنا کر انہیں برا کہتے۔ عمران خان کا ماضی ایک پلے بوائے کا تھا مگر ہماری قوم ووٹ دیتے ہوئے بہت سی خامیوں کو نظرانداز کرتی ہے۔ ان میں ذاتی زندگی اور کرپشن کے الزامات بھی شامل ہیں۔ اس لئے عمران خان کی ذاتی زندگی کو نظرانداز کرتے ہوئے ایک بڑی تعداد نے ان کو اپنا مسیحا جانا۔ نتیجہ یہ کہ 30 اکتوبر 2011 کو عمران خان نے مینار پاکستان پر ایک بڑا جلسہ کر کے پاکستانی سیاست کو تہ و بالا کر ڈالا۔

یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ عمران خان کے اس جلسے اور بعد کی مقبولیت میں جنرل پاشا کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا واقعی کوئی بھی ایجنسی عام لوگوں کو اس طرح اپنے خاندان سمیت کسی لیڈر کے جلسے میں شرکت کرنے پر مجبور کر سکتی ہے؟ عوام میں عمران خان کی حقیقی سپورٹ پیدا ہو چکی تھی۔ ان پر لوگوں کو اعتماد بھی تھا۔ اسی وجہ سے لوگ بغیر کسی پریشانی یا خوف کے اپنی فیملی اور چھوٹے بچوں کو بھی عمران خان کے جلسوں میں لے جاتے تھے۔

اس وقت جیالے پیپلز پارٹی کی حکومت کو ایک بے بس اور راضی بہ تقدیر حکومت سمجھنے لگے تھے۔ بے نظیر کے جانے کے بعد پیپلز پارٹی نے کارکن سے اپنا ناتہ توڑ لیا تھا اور ڈرائنگ روم کی سیاست کرنے والی پارٹی بن چکی تھی۔ پہلے اس کا تشخص اسٹیبلشمنٹ کے خلاف مزاحمت کا تھا جو آصف زرداری کے اس دور میں ختم ہو گیا۔ پھر آصف زرداری کے خلاف دو دہائیوں سے چلنے والی کردار کشی کی مہم نے بھی جیالوں کی نئی نسل کو ان سے برگشتہ کر رکھا تھا۔ یہ سب نوجوان اپنے بڑوں کو بھی تحریک انصاف کے کیمپ میں کھِینچ کر لے گئے۔

نواز شریف کی حکومت سے بھی پڑھے لکھے طبقے کی ایک نمایاں تعداد بیزار تھی۔ وہ تبدیلی چاہتے تھے۔ وہ زندگی بہتر کرنے کی خاطر پاکستان چھوڑ کر جانے کی بجائے اپنی صلاحیت اور اہلیت کی بنیاد پر ادھر ہی اپنا مستقبل تعمیر کرنے کے متمنی تھے۔ نواز حکومت نے شہریوں کی روزمرہ زندگی بہتر کرنے پر کبھی توجہ نہیں دی۔ انہیں شہریوں کے لئے تعلیمی ادارے، صحت اور ملازمت کے نئے مواقع پیدا کرنے سے کہیں زیادہ دلچسپی مواصلاتی انفراسٹرکچر بنانے میں تھی۔ ان بیزار لوگوں میں سے بہت سے وہ تھے جنہوں نے اپنی تعلیم سنہ اسی اور نوے کی دہائی میں پائی تھی جب سرکاری تعلیمی ادارے بہت کم فیس لے کر امیر غریب سب طلبا کو ایک اچھی تعلیم دیا کرتے تھے۔ اس وقت آبادی کم ہونے کی وجہ سے ہسپتالوں پر بھی مریضوں کا اتنا بوجھ نہیں تھا۔ انگریزوں کے زمانے کی اقدار ابھی بیوروکریسی میں بری بھلی باقی تھیں۔

جب پیپلز پارٹی اور نواز شریف کی حکومتوں میں ان اقدار اور سہولتوں کا خاتمہ ہوا تو یہ طبقہ کسی مسیحا کا انتظار کرنے لگا اور بالآخر یہ مسیحا عمران خان کی شکل میں دکھائی دے گیا۔ ہمیں بھی یہی لگا کہ یہ پڑھ لکھا شخص ہے، اس نے دنیا دیکھی ہے، لالچی نہیں ہے، ایک عام آدمی کی یعنی ہماری بات کرتا ہے۔ یہ ضرور تبدیلی لائے گا۔ یہی وجہ تھی کہ 2013 کے انتخابات میں عمران خان کی بہت زیادہ حمایت نواز شریف کے گڑھ لاہور میں دکھائی دی۔ ہم خود ان کے جلسوں میں شریک ہوئے اور جب عین آخری دن عمران خان سٹیج سے گرے تو ہم شوکت خانم کے سامنے اکٹھے ہوئے لوگوں میں شامل تھے۔

اس کے بعد جب عمران خان نے جب دھاندلی کا شور مچانا شروع کیا تو ہمیں ان سے بھِی زیادہ غصہ نواز شریف پر چڑھ رہا تھا جس نے دھاندلی کر کے ہمارا قومی مسیحا ہم سے چھین لیا تھا۔ پھر جب چار حلقوں اور پینتیس پنکچروں کی بات بار بار ہوئی تو ہم نے سوچا کہ اگر یہ سیٹیں عمران خان کو مل بھی گئیں تو کیا فرق پڑے گا، مرکز میں حکومت تو پھر بھی نواز شریف ہی کی ہو گی۔ لیکن اس کے باوجود ہم عمران خان کی حمایت کرتے رہے اور ان کے 2014 کو مینار پاکستان میں ہونے والے جلسے میں بھی گئے۔

اس سے پہلے اگست میں عمران خان کے آزادی مارچ کے ساتھ نواز حکومت نے جو سلوک کیا تھا ہم اس پر شدید غصے میں تھے۔ ماڈل ٹاؤن میں قتل عام پر ہم نواز حکومت پر پہلے ہی تپے ہوئے تھے۔ پھر جب لاہور سے عمران خان کا قافلہ نکلا تو اس کی کم تعداد دیکھ کر مایوس ہوئے۔ گوجرانوالہ میں اس پر پونے والے پتھراؤ پر ہم نے نواز حکومت کو خوب برا بھلا کہا۔ پھر دھرنا ہو گیا۔ دھرنے کے ابتدائی دنوں میں ہم عمران خان اور طاہر القادری کی فتوحات پر خوش تھے اور جب وہ ریڈ زون پہنچ گئے تو مزید خوش ہوئے۔ لیکن اس کے بعد روزانہ تقاریر کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

ان تقاریر میں ہم نے یہ نوٹ کرنا شروع کیا کہ طاہر القادری نے خود کو عمران خان سے کہیں بہتر لیڈر ثابت کیا ہے۔ وہ ٹو دی پوائنٹ بات کرتے تھے۔ مسائل پر بات کرتے تھے۔ عمران خان کی دنیا کچھ اور تھی۔ وہ سوا سو دن تک ایک ہی تقریر کرتے رہے۔ ابتدائی دنوں میں کارکنوں کو کھلے آسمان کے نیچے چھوڑ کر خود رات گزارنے بنی گالہ چلے جاتے تھے۔ یہ بھی ناپسندیدہ بات تھی۔ لیکن ان کی ایک ہی تقریر کی بار بار تکرار، اور پھر مسلسل یو ٹرن ہمارے لئے شدید مایوسی کا باعث بنے۔ ہر بڑا اعلان چوبیس گھنٹے کے اندر واپس ہو جاتا تھا۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ جب سول نافرمانی کا اعلان کیا اور بیرون ملک پاکستانیوں کو ہنڈی کے غیر قانونی طریقے سے رقم بھیجنے کا کہا تو ہم نے اسی وقت سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا کہ پریشانی کی بات نہیں ہے، کل تک عمران خان کو پتہ چل جائے گا کہ انہوں نے کیا کہا ہے اور وہ اعلان واپس لے لیں گے۔

لیکن ہم اس وقت بھی عمران خان کے حامی تھے۔ دھرنے نے جس طرح نواز حکومت کو ہراساں کر دیا تھا وہ ہمارے لئے امید کی کرن تھی۔ ہمارا خیال تھا کہ تمام تر حماقتوں کے باوجود عمران خان اس وقت نواز حکومت سے انتخابی اصلاحات کے قوانین منظور کروا لیں گے۔ نواز شریف نے چھے مطالبات میں سے پانچ مان بھی لئے تھے مگر عمران خان بضد رہے کہ وہ نواز شریف کے استعفے والا چھٹا مطالبہ منوا کر ہی دھرنا ختم کریں گے۔ سیاست میں دباؤ ڈال کر اگلے کی ٹانگ نہیں توڑی جاتی بلکہ اپنے کچھ مطالبات ختم کر کے کچھ ایسا سودا کیا جاتا ہے جس میں ہر ایک فریق کو یہ لگے کہ اسے سمجھوتہ کرنے سے کچھ حاصل ہوا ہے۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 959 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar