انور مسعود اور صدیقہ انور ۔۔۔ کھلے دریچے میں بلبل کہانی


 

ساون کا مہینہ تھا۔ راولپنڈی اسلام آباد میں خوب بارش ہو رہی تھی۔ ٹھنڈی ہوائیں ہر سو رقصاں تھیں، بادل گرج چمک رہے تھے۔ وقت مسافروں کی طرح سب کچھ خامشی سے دیکھ رہا تھا۔

 میں نے مقررہ وقت پہ محترمہ صدیقہ انور کو فو ن کیا۔ وہ محبت بھرے لہجے میں بولیں ”مجھے لگتا ہے آ پ مجھ سے پچا س سال کی با تیں اگلوانا چاہتی ہیں”۔

یہ سنتے ہی ہم دونوں کھلکھلا کر ہنسنے لگیں۔

انور مسعود شوہر و شاعر؟ اس جملے سے ان کے لہجے میں سنجیدگی آ گئی،” میرے ہاں دونوں چیزیں اللہ نے اکھٹی رکھی ہیں، انور صاحب اچھے شوہر، اچھے انسان اور اچھے شاعر ہیں،،

 وہ ذ را ٹھہر گئیں، پھر گو یا ہو ئیں، انور صاحب نے مجھے بھی وقت دیا اور شاعری کو بھی، البتہ بچوں کے معا ملے میں عدم توجہی کا شکار ہو جاتے تھے۔ شروع میں ہم دونوں کام کرتے تھے۔ ”میر ی طبعت خراب ہو جاتی تو وہ میرے لیے کھانا بھی بناتے تھے بعض دفعہ تو میں سوچتی تھی کاش میں بیمار ہی رہوں اور وہ مجھے پکا پکا کر کھلاتے رہیں۔،،

وہ یہ بتاتے ہوئے حسین ماضی کی، رنگین یاد کی، سنہری تصویر سوچتے ہوئے کھلکھلا کر ہنس پڑیں، جیسے اس کھانے کی خوشبو انہیں آج بھی اور ابھی تک محسوس ہوتی ہو۔ محبت اور خوشی مادیت کی محتاج نہیں ہوتی۔ زندگی کتنی حسین ہوتی ہے اور شوہر کی محبت اس کو کس قدر رنگین بنا دیتی ہے۔ اس وقت یہی قوس  قزاح میر ے سامنے مسکرا رہی تھی۔

وہ خواتین مداحوں کے جھرمٹ میں رہے، آپ کے دل پہ کیا بیتتی تھی؟،، اس سوال پہ انہوں نے ہنس کر کہا ”ارے سوال اگر یہ ہو کہ ان کے دل پہ کیا بیتتی تھی تو میں کہوں گی، مجھے علم نہیں، آج تک تو کبھی کسی خاتون کی وجہ سے ہمارے درمیان لڑائی نہیں ہوئی، آ ئندہ ہو جا ئے تو کہہ نہیں سکتی۔،،

 ان کے شریر لہجے نے ہم دونوں کو ہنسنے پہ مجبور کر دیا۔

آ پ کو نہیں لگتا کہ یہ خطوط ادھوری محبت، یا یک طر فہ محبت کی کہا نی ہیں؟ ان کو دو طرفہ ہونا چاہئے تھا؟،،

ان کے لہجے میں اک انجا ن سی اداسی اتر آئی۔” میں بھی اس یک طر فی پہ پچھتا رہی ہوں۔ ہوا یہ کہ میں اپنے پرانے کاغذات نکال رہی تھی، خطو ط بھی ان کی نذر ہو گئے، مگر مجھے امید ہے کہ کچھ خط مل جائیں گے تو ان کو ایک ساتھ شا ئع کراﺅں گی۔ انشاءاللہ۔ مجھے کوئی حجاب نہیں بلکہ جب میں نے اس خواہش کا اظہار انور صاحب سے کیا تو کہنے لگے”صدیقہ کیا کرتی ہو؟ یہ کوئی شائع کرنے کی چیز ہے؟،، میں نے انہیں کہا ”آ پ سمجھ نہیں رہے، میں جس زاویے سے بات کر رہی ہوں،،۔ اصل میں یہ انور صاحب کے نثری نمونے ہیں،،

بیک وقت ان کے لہجے میں محبت و دانش کی آمیزش تھی، سانسوں کے زیر و بم میں آج بھی اک مان تھا، جو محبت پا لینے کے بعد عو رت کے سر کا تاج بن جا تا ہے۔ اور پھر بھلا عشق دستاویز بن جا ئے تو اس سا کو ئی نمونہ کہاں مل سکتا ہے۔

 میں نے اس طلسم ہوشربا کو توڑا۔” یہ بتائیے کہ ایک معروف شخص کی بیوی میں قوت برداشت زیادہ ہو تی ہے یا ایک عام شخص کی بیوی میں؟،،

عا م بیگم کا تو مجھے اندازہ نہیں،،

 ان کے لہجے کی شرارت نے ایک مر تبہ پھر بھیگی شا م میں قہقہے بکھیر دئیے اور ہنستے ہنستے کہنے لگیں

آ پ میر ی بات سمجھ گئیں ناں،،

محبت، محبوب اورشو ہر، آ پ وہ خو ش نصیب ہیں جس کے مقدر میں یہ سب کچھ اکھٹا آیا؟

 اس جملے کے ساتھ ہی ہواﺅں میں بکھری مسکراہٹوں کی خوشبو مجھے محسوس ہو ئی، وہ کہنے لگی” اس سوال کو اگر میں اس طر ح بدل دوں کہ میں ان کی محبوبہ تھی۔ کیو نکہ انور صاحب بھی کہتے ہیں کہ اگر مجھے صدیقہ نا ملتی تو آج میں اس مقا م پہ نا ہو تا، کہیں بکھر جاتا اور واقعی یہ بکھر جا تے کیونکہ ان کے جو حالات تھے، اور جو میں نے محسوس کیا کہ یا تو یہ شخص نیم پا گل ہوجا ئے گا، یا سب کچھ چھو ڑ کے جنگل میں نکل جائے گا،،

 اس وقت جو دل دھڑکا ہو گا، آ ج بھی اس کی کھنک سنا ئی دے رہی تھی۔وہ ذرا رکتے ہو ئے، بلکل یوں جیسے دل کے صاف لوگوں کو ساری دنیا شفا ف دکھائی دیتی ہے، کہنے لگیں

 ” ایک مرتبہ میں نے ان سے فارسی ادب کی کاپی مانگی، کتنے ہوشیار ہیں ناں انور صاحب، جب میں نے کاپی کھولی تو اس میں ایک شعر ہلکا سا رَب (rub) کیا ہوا تھا

ان کی نظر کی سمت ہماری نظر اٹھی

اتنا سا اقتباس تھا دنیا بدل گی

وہ شعر پڑ ھتے ہی میں کھٹک گئی، یونیورسٹی میں وہ یونین کے صدر تھے میں سوسائٹی کی وائس پریذڈنٹ تھی۔ ان کے پاس شکا یت لے کر گئی، میں سادگی میں کہتی رہی، وہ نجانے کن نظر وں سے دیکھتے رہے اور مجھے بعد میں پتا چلا کہ ” دنیا بدل گئی،،

تب میں نے گریز اختیا ر کر لیا، بے نیازی اختیار کر لی ان سے، میں انہیں اکھڑ پن میں جواب دینے لگی، جوں جوں میں ایسا کرتی رہی، شاید ان کے دل میں اور زیادہ محبت پروان چڑھتی رہی۔ اور انہیں لگا کہیں موقع ہاتھ سے نا نکل جائے۔ انہوں نے مجھے یونیورسٹی لا ئبریر ی میں روکا اور بہت ہی شائستہ الفا ظ میں حال دل کہہ دیا۔ اور مجھے فخر ہے کہ میں نے اس کے جو اب میں اقبا ل کا یہ شعر پڑھا اور آ گئی

در طلب کو ش و مدہ دامن امید زدست

دولت ہست کہ یابی سر راہے گاہے

(اگر لگن ہے تو جستجو کر تے رہو، امید کا دامن ہا تھ سے نا چھوڑو، کبھی نا کبھی یہ دولت تمہیں مل ہی جا ئے گی)

انہی دنوں کراچی کے ایک تاجر کا رشتہ بھی آیا ہوا تھا، میں سوچنے لگی اگر وہاں رشتہ ہو گیا تو زندگی تباہ ہو جا ئے گی۔ پھر میں نے حوصلہ کر کے اپنے بھا ئی شاہد سے با ت کی، وہ انور صاحب سے ملے، دونوں کی دوستی ہو گئی۔ یوں معاملہ طے ہو گیا،،

 یوں قدرت صدیقہ، صدیقہ انور ہو گئیں۔ زندگی کا سفر اپنے سا تھ کے سا تھ اپنا ہو گیا۔ جہاں محبت کی طا قت، مشکلوں کو جھیلنے کی قوت خود بخود عطا کر تی ہے۔ ان کی باتیں جاری تھیں اور وقت میرے سا منے تصویریں بن رہا تھا۔

 میں نے اس یادوں کے طلسمی تالا ب میں ایک کنکر کا اضا فہ کیا ” شادی کے بعد جب اچانک آپ کو ان پہ پیار آ گیا؟،،

 ” ایک دفعہ میں نے انور صاحب کے لیے بہت پیار سے قورمہ بنایا، مگر انور صاحب کو شوربا پسند ہے۔ کہنے لگے ”یہ کیا تم نے گھا ڑا گھاڑا شوربا بنا دیا ہے،، پا س ہی پانی کا گلا س پڑا تھا۔ وہ میں نے ان کے پیالے میں انڈیل دیا اور خود دوسرے کمرے میں آ گئی، کہ کہیں ان کو مجھ پہ غصہ آ گیا تو مجھ پر ہی نا پھینک دیں، در وازے کی اوٹ سے دیکھتی رہی، وہ نوالے اس ڈبو کر کھا تے رہے، بعد میں با قی کا شوربا پی گئے۔ اس روز میں اپنی اس حر کت پر بہت نادم ہو ئی کہ میں نے ان کو کیا سمجھی، اور وہ کیا ہیں،،

میرا ذہن پھر محبت کے فلسفے پر جا الجھا، مرد اگر عورت کی کوتاہی یا کسی ناپسندیدہ بات کو پسند کر لے تو عو رت پھلوں والا درخت بن جا تی ہے۔

 میں نے انہیں ایک مر تبہ پھر لمحے کی گر فت سے نکا ل دیا ”کبھی انور صاحب نے آپ سے چار شادیوں کی کہانی و حوروں کے قصے چھیڑے؟،،

  ”باقاعدہ تو خیر کبھی نہیں ہوا، البتہ ایک مرتبہ اِ ن کو فلو ہو گیا، تو بھاپ لیتے تھے، شوگر کی وجہ سے ری ایکشن ہو گیا کہ ان کو دو دو نظر آ نے لگے، جس دوست کا بھی فو ن آتا تو مذاق میں کہتے’ہمیں دو دو زو جہ نظر آ رہی ہیں، کچھ دیر تو میں نے ضبط کیا پھر کہا ’انور صاحب مجھے چا ر چار نظر آ رہے ہیں، اس کے بعد انہوں کبھی مذاق میں بھی یہ با ت نہیں کی،،      

  وہ بولتے بولتے ٹھہر سی گئیں۔

 مجھے گہری شام کی خوشبو محسوس ہوئی، شیشے سے با ہر دیکھا۔ دو وقت آپس میں مل رہے تھے۔ کمر ے کی کھڑ کی سے باہر رکھے رات کی رانی کے پودوں کی خوشبو ہوا کے سا تھ چاروں اور پھیل رہی تھی، بیڈ کے قر یب رکھے ٹیوب روز بھی مسکر انے اور گد گدانے لگے تھے

 انہوں نے یہ سکوت خو د ہی توڑا،ان کے لہجے میں اک انجان سی اداسی تھی

 ” جوڑے تو بے شک آسمانوں پہ ہی بنتے ہیں، اب تو یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے ہو گیا۔ میں سوچتی ہوں خدا نخواستہ اگر یہ نا ہو تا تو

گزر تو جا ئے گی تیر ے بغیر بھی لیکن

بڑ ی اداس بڑ ی سوگوار گز رے گی

  ” ساتھ ہی ان کے لہجے میں ایک توانائی آ گئی،،

 ان کے حوالے سے مجھے ان کا یہ شعر بہت پسند ہے

میری خطا ہے رات کی رانی سے کیا کہوں

اس کو تو چاہئے تھا دریچہ کھلا ہوا

 (آج پنجابی، اردو اور فارسی کے شاعر انور مسعود کی سالگرہ ہے)

 

 

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں