اگلے وزیر اعظم کا انجام


نواز شریف اور شہباز شریف میں بہت فرق ہے۔ سب سےبڑا فرق تو یہ ہے کہ نواز شریف سری پائے اور نہاری نہیں کھاتے لیکن شہباز شریف آج بھی یہ ثقیل غذائیں رغبت سے کھا لیتے ہیں بلکہ کشمیری چائے کے ساتھ سب کچھ آسانی سے ہضم بھی کر جاتے ہیں۔ ایک اور فرق یہ ہے کہ نواز شریف کو غصہ پینا نہیں آتا۔ وہ جلدی معاف بھی نہیں کرتے۔ شہباز شریف غصہ پینے میں کافی مہارت رکھتے ہیں اور ناراضیاں ختم کر کے آگے بڑھنے کے قائل ہیں۔

نواز شریف کے ساتھ جب بھی فوجی جرنیلوں اور ججوں کی محاذ آرائی شروع ہوئی تو شہباز شریف نے بیچ بچائو کرانے کی کوشش کی۔ یہی وجہ تھی کہ اکتوبر 1999ء میں نواز شریف نے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کو برطرف کرنے کا فیصلہ کیا تو شہباز شریف کو اس فیصلے کی خبر نہ ہونے دی۔ مشرف کی برطرفی کے ردعمل میں فوج نے اقتدار پر قبضہ کر لیا تو شہباز شریف وزیر اعظم ہاوس اسلام آباد میں تھے اور یہیں سے گرفتار بھی ہوئے۔

خاصے دنوں کے بعد دونوں بھائیوں کی کراچی کی ایک عدالت میں ملاقات ہوئی تو شہباز شریف نے نواز شریف سے پوچھا کہ بھائی صاحب آپ نے مجھے مشرف کی برطرفی سے لاعلم کیوں رکھا؟ نواز شریف نے کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر جواب میں کہا کہ اگر میں تمہیں بتا دیتا کہ آرمی چیف کو برطرف کیا جا رہا ہے تو تم مجھے روکنے کی کوشش کرتے اس لئے میں نے تمہیں نہیں بتایا۔ شہباز شریف کو آج بھی کوئی نہ کوئی دھڑکا لگا رہتا ہے کہ ان کے بڑے بھائی وزیر اعظم نواز شریف ان سے مشورہ کئے بغیر کوئی ایسا کام نہ کر دیں کہ جس کے ردعمل میں اکتوبر 1999ء جیسا ہنگامہ برپا ہو جائے۔

ابھی کچھ دن پہلے انہوں نے لاہور میں چند افواہیں سنیں تو اسلام آباد پہنچ کر بڑے بھائی کو ان افواہوں سے آگاہ کیا اور جب بڑے بھائی نے تردید کر دی تو شہباز شریف مطمئن ہو گئے۔ شہباز شریف کو یقین ہے کہ بڑا بھائی اپنا کوئی فیصلہ ان سے چھپا تو سکتا ہے لیکن ان کے ساتھ کبھی بھی جھوٹ نہیں بول سکتا۔ یہی وہ اعتماد ہے جس کے باعث یہ دونوں بھائی ایک دوسرے کے حلیف رہے کبھی ایک دوسرے کے حریف نہیں بنے۔ نواز شریف بھی یہ جانتے ہیں کہ شہباز شریف مشورہ دینے میں غلطی کر سکتے ہیں لیکن بدنیتی نہیں کر سکتے۔ شہباز شریف اور چودھری نثار علی خان نے نواز شریف کو مشورہ دیا تھا کہ پرویز مشرف کو آرمی چیف بنایا جائے۔ یہ مشورہ غلط ثابت ہوا۔

جب مشرف نے شہباز شریف کو یہ پیشکش کی کہ میرے کور کمانڈروں کا خیال ہے کہ اگر نواز شریف کی جگہ آپ کو وزیر اعظم بنا دیا جائے تو ملک کو بہت فائدہ ہو گا تو شہباز شریف نے معذرت کر لی تھی۔ وہ جانتے تھے کہ ان کی سیاست نواز شریف کے بغیر زیرو ہو جائے گی۔ انہوں نے فوراً چودھری نثار علی خان کو بتایا کہ ہم سے غلطی ہو گئی۔ مشرف ٹھیک آدمی نہیں ہے لیکن انہوں نے یہ بات فوری طور پر اپنے بڑے بھائی کو نہیں بتائی تاکہ فوج سے محاذ آرائی شدت اختیار نہ کرے۔

شہباز شریف کو ایک مرتبہ نہیں بلکہ تین مرتبہ وزارتِ عظمیٰ کی پیش کش کی جا چکی ہے۔ سب سے پہلے 1992ء میں اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے انہیں نواز شریف کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی لیکن وہ اس جال میں نہیں پھنسے۔ پرویز مشرف نے 12اکتوبر 1999ء کی فوجی بغاوت سے پہلے اور بعد میں بھی انہیں وزیراعظم بنانے کی کوشش کی لیکن شہباز شریف نے محلاتی سازشوں کی تاریخ کا ایک نیا کردار بننے سے انکار کر دیا۔

شہباز شریف کو تیسری پیش کش اس وقت ہوئی جب جنرل راحیل شریف اور وزیراعظم نواز شریف میں اختلافات نے شدت اختیار کی۔ ان اختلافات کی بنیادی وجہ پرویز مشرف کے خلاف آئین سے غداری کے مقدمے کا ٹرائل تھا جو سپریم کورٹ کے حکم پر شروع ہوا تھا۔ شہباز شریف اور چودھری نثار علی خان اس ٹرائل کے مخالف تھے اور یہ تاثر قائم ہوا کہ یہ دونوں جنرل راحیل شریف کے اتحادی ہیں۔ شاید اسی تاثر کی بنیاد پر شہباز شریف اور چودھری نثار علی خان کو علاحدہ علاحدہ وزارت عظمیٰ کا خواب دکھایا گیا لیکن دونوں نے اس خواب کی تعبیر بننے سے انکار کر دیا۔ دونوں کا خیال تھا کہ اگر مشرف کا ٹرائل نہ کیا جائے اور موصوف کو بیرون ملک بھیج دیا جائے تو پاکستان کے حالات ٹھیک ہو جائیں گے، عمران خان بنی گالہ میں بیٹھ کر اگلے انتخابات کا انتظار کریں گے اور ملک ترقی کی شاہ راہ پر دوڑنے لگے گا۔

نواز شریف نے یہ بات مان لی اور مشرف کو پاکستان سے جانے دیا لیکن افسوس کہ شہباز شریف اور چودھری نثار علی خان کا خیال غلط ثابت ہوا۔ پاکستان کے حالات پاناما اسکینڈل کے اسیر بن گئے۔ سیاسی اختلافات نے ذاتی دشمنیوں کا رنگ اختیار کر لیا۔ سیاسی نفرتوں کے اس طوفان میں اخلاقی روایات کا شیرازہ بکھر چکا ہے۔ پاناما کیس پر جے آئی ٹی کی رپورٹ کو عمران خان اپنی سیاسی فتح کے طور پر پیش کر رہے ہیں اور جب وہ لندن میں اپنے فلیٹ کی منی ٹریل سپریم کورٹ میں پیش نہ کر سکے تو مسلم لیگ (ن) انہیں جھوٹا اور دغا باز قرار دے رہی ہے۔

کوئی نواز شریف اور شہباز شریف میں فرق رکھے نہ رکھے لیکن عمران خان ان دونوں بھائیوں میں کوئی فرق نہیں رکھتے۔ وہ صرف نواز شریف کی نہیں شہباز شریف کی بھی نااہلی چاہتے ہیں کیوں کہ انہیں یقین ہے کہ اگر شہباز شریف بچ گئے تو پھر تحریک انصاف کے لئے پنجاب میں اکثریت حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا۔ مجھے نہیں معلوم کہ پاناما کیس میں سپریم کورٹ کیا فیصلہ کرے گی لیکن تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔

عدالتوں نے جو فیصلے پیپلز پارٹی کے خلاف کئے وہ فیصلے نا صرف مسلم لیگ (ن) بلکہ آنے والے وقت میں تحریک انصاف کی قیادت کے خلاف بھی ہو سکتے ہیں اور اگر ایسا ہو گیا تو پھر پرویز مشرف کو بھی دبئی اور لندن میں اپنی جائیدادوں کا حساب دینا ہو گا۔ احتساب کا یہ عمل غیرمحسوس انداز میں نواز شریف سے آگے عمران خان اور پرویز مشرف کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس مشکل صورتحال میں شہباز شریف اپنے بھائی کے ساتھ کھڑے ہیں۔

انہوں نے چودھری نثار علی خان کو بھی یہی مشورہ دیا کہ یہ وقت شکوے شکایتوں کا نہیں بلکہ ایک دوسرے کو سہارا دینے کا ہے۔ پچھلے دنوں شہباز شریف نے اپنی آنکھوں کا آپریشن کرایا تھا۔ ڈاکٹر کا مشورہ تھا آرام کریں۔ جب انہیں پتا چلا کہ وزیر اعظم ہائوس میں ایک اجلاس ہے اور چودھری نثار وہاں نہیں آ رہے تو وہ ڈاکٹر کا مشورہ نظرانداز کر کے اس اجلاس میں شرکت کے لئے پہنچ گئے اور عدلیہ سے محاذ آرائی نہ کرنے کا مشورہ دیا۔ ان کا خیال ہے کہ ہمیں اپنی پارٹی اور سسٹم کو بچا کر رکھنا چاہئے یہ دونوں بچ جائیں تو سب کچھ بچ جائے گا۔ اگر عدالتی فیصلہ نواز شریف کے خلاف آیا تو مسلم لیگ (ن) کو انتشار سے بچانا مشکل ہو گا لیکن میری ناچیز رائے میں یہ وقت سیاسی جماعتوں کو کم زور کرنے کا نہیں مضبوط کرنے کا ہے۔

سیاسی جماعتیں مضبوط ہوں گی تو پاکستان مضبوط ہو گا بصورت دیگر آنے والے وقت میں جو بھی وزیر اعظم بنے گا اس کا انجام نواز شریف سے مختلف نہ ہو گا۔
(بشکریہ روزنامہ جنگ؛ 24 جولائی 2017ء)

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں