رضا محمود خان واپس آ گیا


رضا محمود خان واپس آگیا۔ کیا کہا کون رضا؟ ارے وہی مودی کا یار، بھارت نواز، را کا ایجنٹ، نظریہ پاکستان کا مخالف اور دشمن کے ایجنڈے پر عمل کرنے والا رضا خان۔ وہی رضا خان جو پاک فوج کے جوانوں کی گزشتہ ستر سال سے دی جانے والی قربانیوں کو خاک میں ملانا چاہتا تھا اور پاک بھارت دوستی کی باتیں کرتا تھا۔ حالانکہ سیدھی سی بات ہے کہ دشمن ہمسائے سے دوستی کی خواہش تو بس وہی سنگدل کر سکتا ہے جسے ان لاکھوں، مائوں، بہنوں بیٹیوں، نوجوانوں اور بزرگوں کی قربانیوں کا ادراک ہی نہ ہو، جو انہوں نے اسلام کے اس قلعے کی تعمیر کیلئے دی ہوں۔ جی جی وہی مائیں، بہنیں، بزرگ جنہیں یہ قربانیاں دیئے کئی دہائیاں بیت گئیں۔ آنے والی کئی نسلیں اس احسان کے بوجھ تلے دب کے کچلی گئیں۔ وہ مقصد تو شائد کسی کو یاد نہیں کہ جس کی خاطر اس وقت کے لاکھوں افراد کٹ گئے، البتہ غریب رعایا سے اس قربانی کے نام پر خراج وصول کرنے کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔

اب جبکہ رضا خان واپس لوٹ ہی آیا ہے تو امید ہے کہ اس کی عقل ٹھکانے آچکی ہوگی۔ خیال ہے کہ اس عرصے کے دوران اسے غائب کرنے والے نامعلوم افراد نے اسے قید تنہائی میں رکھا ہوگا، جہاں کرنے کو کچھ اور تو رہا نہیں ہوگا، ایسے میں اسے سوچ بچار کا موقع خوب ملا ہوگا اور امید ہے کہ اس کی آنکھیں کھل گئی ہوں گی اور وہ اپنے کئے پر خوب شرمندہ ہوگا اور آئندہ بھارت سے دوستی کی خواہش رکھنے جیسے ناقابل معافی جرم کے بارے میں سوچے گا بھی نہیں اور ماضی میں وطن کی مٹی سے غداری کے مرتکب ہونے پر پچھتاتا بھی ہوگا۔

کیا کہا امن اور دوستی کی باتیں کرنا غداری کہاں سے ہوگیا؟ ارے صاحب مذاق کرتے ہیں کیا؟خود ہی تو سوچیئے ذرا کہ اگر بھارت سے دوستی کسی بھی طرح ہمارے ملک کے مفاد میں ہوتی تو کیا ہمارے عسکری ادارے کے ترجمان بھارتی وفاق کی علامت، ترنگے کی بے حرمتی جیسے شدت پسندانہ خیالات کی علی الاعلان حمایت کرتے؟ کیا یہ ایسا ممکن نہ تھا کہ مرحوم سراج رئیسانی کے حب الوطنی پر مبنی جذبات کی ترجمانی کیلئے کسی دوسری تصویر کا انتخاب کیا جاتا؟ لیکن اس سانحے کے بارے میں بطور خاص ایک ایسی تصویر کا انتخاب جس میں وہ پڑوسی ملک کے جھنڈے کی بے حرمتی کررہے ہیں، دراصل بھارت کیلئے ہی پیغام نہیں رکھتی بلکہ اس میں پاکستانیوں کیلئے بھی پیغام چھپا ہے کہ یہاں صرف اسی شخص کو محب وطن پاکستانی ہونے کا سرٹیفکٹ دیا جائے گا جو بھارت کو دشمن ملک تصور کرے گا۔ محبت، امن اور دوستی کا تصور بھی قریب نہ پھٹکنے دے گا۔

چلیں چھوڑیں اگر آپ کو آئی ایس پی آر کے جذبہ حب الوطنی اور رضا خان کی بھارت نوازی کا موازنہ مناسب نہیں معلوم ہوتا تو رہنے دیں۔ یہاں اور بھی بہت سے عوامل یہ بتانے کو کافی ہیں کہ رضا خان راہ راست سے کس قدر بھٹکا ہوا تھا۔ اب خود ہی سوچیں کہ جس ملک کے انتخابی عمل میں ایسے عناصر کو حصہ لینے کی کھلی چھوٹ ہو جو کہ اندرون ملک مسلکی اختلاف کے نام پر خون کی ہولی کھیلنے اور قوم پرستی کے نام پر قتل و غارت کا بازار گرم کرنے جیسے واقعات میں ملوث ہوں، جن کا نام انتہائی خطرناک دہشت گردوں اور فرقہ وارانہ فسادات میں ملوث افراد کی فہرست فورتھ شیڈول میں شامل رہا ہو اور اس کے باوجود بھی انہیں یہ حق دیا جائے کہ وہ انتخابی عمل کے ذریعے اس قوم کے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں، ملک کی باگ ڈور سنبھالیں تو ایسے میں کوئی بھی شخص باآسانی یہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ بحیثیت قوم امن، دوستی، بھائی چارے کی خواہش ہماری ترجیحات کی فہرست میں نیچے، بہت نیچے دبی پڑی ہے۔

رضا خان کی گمشدگی کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ اسے اس کی سرگرمیوں یعنی کہ بھارت سے دوستی کیلئے چلائی گئی مہم کی بنیاد پر لاپتہ کیا گیا تھا۔ ویسے خدا لگتی کہوں تو مجھے تو یقین ہے کہ رضا خان، اندرون خانہ ہماری افواج کیلئے ہی کام کرنے والا ایک ایکٹیوسٹ تھا اور اس کو اغوا کرنے والے خود وطن دشمن عناصر تھے جو ہرگز نہیں چاہتے کہ سرحدوں پر تنائو کم ہو اور ہماری افواج کے اوپر سے اس ملک کی حفاظت کا دبائو کسی صورت بھی کم ہونے پائے۔ دل پر ہاتھ رکھ کے سوچیں ذرا کہ اگر پاکستان کو بیرونی جانب سے خطرات کا اندیشہ نہ ہو، بھارت کے ساتھ اس کے تعلقات خوشگوار ہوں ، افغانستان کی جانب سے بھی کسی قسم کی شرارت کا خطرہ نہ ہو تو کیا ایسے میں ہماری سپاہ مکمل بے فکری کے ساتھ اپنی اصل ذمہ داری یعنی کہ ملک میں جمہوریت کے قیام پر کام نہ کرلیں گی؟ یقیناً دشمن قوتیں ایسا نہیں چاہتیں، تب ہی تو رضا محمود خان جیسے بھارت نوازوں کو اغوا کرلیتی ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ملیحہ ہاشمی

ملیحہ ہاشمی ایک ہاؤس وائف ہیں جو کل وقتی صحافتی ذمہ داریوں کی منزل سے گزرنے کر بعد اب جزوقتی صحافت سے وابستہ ہیں۔ خارجی حالات پر جو محسوس کرتی ہیں اسے سامنے لانے پر خود کو مجبور سمجھتی ہیں، اس لئے گاہے گاہے لکھنے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

maliha-hashmi has 15 posts and counting.See all posts by maliha-hashmi