خدا ایک، عقیدے سو، مسجدیں ہزار


برطانیہ کی مسلم کونسل نے گزرے اتوار ”وزٹ مائی موسک ڈے“ (میری مسجد میں تشریف لائیے) منایا۔ لندن، گلاسگو، مانچسٹر، بریڈفورڈ سمیت متعدد مقامات پر نوے سے زائد مساجد نے اپنے دروازے بلا امتیازِ مذہب کھولے تاکہ کوئی بھی آ کر نمازیوں سے ملے اور ان سے اسلامی عقائد کے بارے میں معلومات حاصل کرے اور اپنے تاثرات سے نمازیوں کو آگاہ کرے۔ برطانیہ میں اس وقت لگ بھگ ساڑھے سترہ سو مساجد قائم ہیں۔

ان میں سے ایک سو سے بھی کم مساجد کا ” وزٹ مائی موسک ڈے ” میں شرکت کرنا بظاہر قلیل معلوم ہوتا ہے۔ لیکن مسلم کونسل کے مطابق اس بار یہ دن منانے والی مساجد کی تعداد سالِ گذشتہ کے مقابلے میں تین گنا ہے۔ امید ہے اگلے برس ” وزٹ مائی ماسک“ دائرہ اور وسیع ہو گا۔

برلن کے وسطی علاقے پیٹری پلاٹز میں ” دی ہاؤس آف ون“ ( ایک مشترکہ گھر ) نامی جدید کمپلیکس تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ اس کے احاطے میں ایک چھت تلے تین ہال ہیں۔ ایک میں سینوگوگ، دوسرے میں چرچ اور تیسرے میں مسجد۔ جب کہ مرکزی ہال تینوں الہامی مذاہب کے عبادت گذاروںکی نشست و برخواست، میل ملاقات کے لیے مختص ہے۔ تینوں مذاہب کی عبادت گاہوں کے لیے مخصوص ہالوں کو ان مذاہب کے بنیادی عبادتی تقاضوں کے مطابق ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس کمپلیکس کے معمار معروف جرمن آرکیٹیکٹ ولفرڈ کوہن ہیں۔

” دی ہاؤس آف ون“ کے یہودی رباعی توویا بین کا کہنا ہے کہ ” یہ سوچ کر اچھا لگتا ہے کہ جس شہر میں یہودیوں کی بربادی کے منصوبہ ساز ( ہٹلری نازی ) رہتے تھے وہیں یہ دن بھی آنا تھا کہ تینوں الہامی مذاہب کہ جنہوں نے موجودہ یورپی تہذیب کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا ایک ہی چھت تلے آزادی سے عبادت کریں۔ یہ سفر کسی کو کہیں سے تو شروع کرنا ہی تھا ‘‘۔

” ہاؤس آف ون “ کی چھت تلے قائم مسجد کے امام قادر سانجی کہتے ہیں کہ یہ مرکز مظہر ہے کہ مسلمان اکثریت پرامن اور تشدد سے متنفر ہے۔ ہاؤس آف ون میں مذہبی پس منظر اور ثقافتی فرق کے باوجود بندگانِ خدا ایک دوسرے کو جان سکتے ہیں، سمجھ سکتے ہیں، سیکھ سکتے ہیں ‘‘۔

امریکا میں تمام مذاہب کے لوگ مسلم ثقافتی ادب و آداب کا خیال رکھتے ہوئے مہینے میں ایک مخصوص دن بیشتر مساجد میں جا سکتے ہیں۔ عصرِ حاضر میں ترکی شاید واحد مسلمان اکثریتی ملک ہے جہاں تمام مساجد بلا تفریقِ عقیدہ سب کے لیے کھلی ہیں۔ خواتین کسی بھی مسجد میں عبادت کر سکتی ہیں اور غیر مسلم خواتین و حضرات نمازوں کے درمیانی وقفوں میں مسجد دیکھ سکتے ہیں اگر انھوں نے مناسب لباس پہنا ہو۔

دورِ رسالت میں خواتین کے مساجد میں داخلے پر پابندی کا تصور نہیں تھا۔ البتہ بعد کے دور میں خواتین پر زور دیا جانے لگا کہ بہتر یہی ہے کہ وہ گھروں میں رہ کر عبادت کریں اور پھر آنے والے زمانوں میں یہ عمل تمام فرقوں نے بلا امتیاز مختلف تاویلات و جوازات اختیار کرتے ہوئے پتھر پے لکیر سمجھ لیا کہ خواتین کا مسجد میں جاناکسی طور مناسب نہیں۔ حالانکہ مسجد الحرام اور مسجدِ نبوی میں آج بھی خواتین کا حقِ عبادت تسلیم شدہ ہے۔ مگر یہ مثالعام مساجد پر لاگو کرنے میں خاصی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اور اس کے لیے مقامی ثقافتی روایات کو عذر بنا لیا جاتا ہے۔

جانے یہ رواج کب سے پڑا کہ مقاماتِ مقدسہ میں کوئی غیر مسلم داخل نہیں ہوسکتا۔ جب کہ رسول اللہ نے ایسی کوئی پابندی عائد نہیں کی بلکہ مثال قائم کرنے کے لیے نجرانی مسیحوں کے وفد کو مسجدِ نبوی کے ایک گوشے میں عبادت کی اجازت دی۔

آج یہ حالت ہے کہ غیر مسلم تو رہے، ایک طرف خود صاحب ِکتاب اور الکتاب کے پیرو کار ایک دوسرے کی مسجد کے سامنے سے گزرتے ہوئے کتراتے ہیں۔ حتیٰ کہ ایک ہی فرقے کے اعتدال پسندوں اور انتہا پسندوں کی مساجد الگ الگ ہیں۔ کئی مساجد کی دیواروں پر جلی حروف میں لکھا ہے کہ یہ مسجد فلاں فرقے کے لیے ہے۔ ساتھ ہی ساتھ مساجد پر بزور قبضے کی جنگی داستان الگ سے جاری ہے۔

جب خلیفہِ راشدِ ثانی حضرت عمر بن خطاب یروشلم کو بازنطینی قبضے سے چھڑانے کے بعد اونٹنی کی مہار پکڑے شہر میں داخل ہوئے تو آپ کی نگاہ خستہ حال جھاڑ جھنکاڑ سے اٹی متروک یہودی عبادت گاہ پر پڑی۔ روایت ہے کہ آنسو بہتے جاتے اور آپ عبادت گاہ پر جمع پتھر ہٹاتے جاتے۔

اس عبادت گاہ کی صورت گری کے بعد آپ نے ایک حکم کے ذریعے پانچ سو برس میں پہلی بار یروشلم میں یہودیوں کا حقِ عبادت بحال کردیا۔ روایت ہے کہ شہر میں داخلے کے بعد ساتھ ساتھ چلنے والے گرینڈ پادری نے خلیفہِ راشد کو پیش کش کی کہ آپ چرچ کے اندر نمازِ عصر پڑھ لیجیے مگر آپ نے شکریہ ادا کرتے ہوئے چرچ کی سیڑھیوں پر نماز ادا کی۔ حکمت یہ تھی کہ بعد کے مسلمان کہیں اسے مثال بنا کر غیر مسلم عبادت گاہوں میں خامخواہ گھسنا اپنا حق نہ سمجھ بیٹھیں۔

اگرچہ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ جہاں جس مذہب کے حکمران کا بس چلا اس نے دوسرے کی عبادت گاہوں کو مسمار کیا، مسخ کیا، بے حرمتی کی یا پھر اپنی عبادت گاہ میں تبدیل کر لیا۔ جیسے اموی خلیفہ ولید اول نے سینٹ جان چرچ ( یہاں حضرت یحییٰ علیہ سلام کی قبر ہے ) کو دمشق کی جامع مسجد الکبیر میں اور قسطنطنیہ ( استنبول ) کے آیا صوفیہ چرچ کو عثمانی سلطان محمد نے مسجد میں بدل دیا۔ جیسے اسپین سے مسلمانوں کی بے دخلی کے بعد مسجدِ قرطبہ سمیت ہر مسلم عبادت گاہ چرچ میں بدل گئی، جیسے رنجیت سنگھ کے دور میں بادشاہی مسجد لاہور کا صحن بطور اصطبل استعمال ہوا، جیسے قیامِ پاکستان کے بعد سیکڑوں مندر مسجد بنا دیے گئے، جیسے انتہا پسند ہندوؤں نے بابری مسجد میں بت رکھ کے اس پر رام مندر کا دعویٰ رکھ دیا اور پھر مسجد کو ہی منہدم کردیا۔

ایسی تمام حرکات کو اگر تعلیماتِ نبوی کی روشنی میں دیکھا جائے تو معاملہ برعکس ہے۔ مثلاً اسلامی لشکر کو کسی مہم پر بھیجتے وقت واضح ہدایات تھیں کہ دشمن کے بوڑھوں، عورتوں، بچوں، عبادت گاہوں اور درختوں کو ہرگز ہاتھ مت لگانا۔ دورِ نبوی میں صرف ایک مسجد ڈھانے کی مثال ملتی ہے۔ یعنی اسلام کی پہلی مسجدِ قبا سے کچھ فاصلے پر قائم مسجدِ ضرار کا انہدام۔ اور یہ اقدام بھی تب کیا گیا جب ثابت ہوگیا کہ مسجدِ ضرار کو منافقینِ مدینہ مسلمانوں میں باہمی نفرت کے بیج بونے کے لیے بطور مرکز استعمال کر رہے ہیں۔

یہ بھی واضح ہے کہ غصب شدہ زمین پر مسجد کی تعمیر رسول اللہ کے نزدیک شدید ناپسندیدہ عمل ہے۔ مسجد کے لیے ضروری ہے کہ یا تو قطعہِ اراضی کسی نے عطیہ کیا ہو یا بارضا خریدا گیا ہو۔ مسجدِ کوئی بھی صاحبِ حیثیت تعمیر کر سکتا ہے یا پھر باہمی رضامندی سے جمع چندے سے بنائی جاسکتی ہے۔ زور زبردستی یا مشکوک پیسے سے مسجد کی تعمیر ہرگز نہیں ہوسکتی۔ اب آپ اپنے اپنے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں دیکھ سکتے ہیں کہ کتنی مساجد اس معیار پر پورا اترتی ہیں یا نہیں۔

آج کے حالات میں یہ تجویز دینا بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنا ہوگا کہ ایک خدا، ایک رسول اور ایک کتاب کو ماننے کے سب دعوے داروں کا ایک ہی مشترکہ عبادتی گھر ہونا چاہیے۔ جہاں وہ اپنے طور طریقے کے مطابق خوشنودیِ رب مانگیں۔ گر حال فی الحال یہ محال ہو تو یہ تو ہو ہی سکتا ہے کہ جو جو عبادت گاہیں جامع مسجد کہلاتی ہیں وہ سب فرقوں کے لیے کھلی ہوں تاکہ ہر فقہہ کے پیروکار ایک دوسرے سے کم ازکم ہاتھ تو ملا سکیں، بات تو کرسکیں، بھنوؤں کا تناؤ تو کچھ کم ہو، چہروں کی کرختگی تو ذرا نرم پڑے۔

یوں لفظ جامع کی جامعیت اور جامع مسجد کی اصطلاح میں پوشیدہ روح ِ اجتماعیت کی لاج ہی رہ جائے۔ مگر یہ تو تب ہی ممکن ہے کہ مساجد ایک دوسرے کے لیے کھولنے سے پہلے تمام مکاتیبِ فکر کے علما اپنے اپنے دل کھولیں۔

کیا یہ کوئی بہت بڑی اور فلسفیانہ فرمائش ہے؟ کیا تمہارے لیے مسجدِ الحرام اور مسجدِ نبوی کی عباداتی مثال بس عمرے اور حج تک کے لیے ہے؟
منگل 9 فروری 2016

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں