انقلاب اسلامی براستہ چک 44 منڈی بہاؤالدین


\"hashirچک 44 ،منڈی بہاؤالدین ،صوبہ پنجاب، مملکت خداداد پاکستان میں اسلام کا احیا ہو رہا ہے۔ جو سبق بھولے صدیاں گزریں اب اس کا پاٹھ پھر پڑھایا جا رہا ہے۔ حجت تمام ہو چکی ہے۔ زمین پر نظام ربوبیت متشکل ہو گیا ہے۔ اب بت گرائے جائیں گے۔ اب سر اچھالے جائیں گے۔ اسلام زندہ ہوگا منڈی بہاؤالدین کے بعد

دیکھئے ہم مسلمان انتہائی انصاف پسند ہیں۔ ہمارا مقصد دنیا کے واحد سچے دین کی ترویج ہے۔ پر جو اس دین میں داخل نہ ہونا چاہے ہم اس پر زبردستی تھوڑی کرتے ہیں۔ پہلے جزیہ وزیہ مانگ لیا کرتے تھے۔ جو دے دیتا تھا وہ بے شک جھوٹے خداؤں کو پوجتا رہے۔ دوسرے درجے کا شہری بھی اسے مان لیتے تھے۔ باقیوں کے ہاں سرور اتار لیتے تھے اور سب دم سادھے رہتے تھے۔ پر اب زمانہ بدل گیا ہے۔ اب لبرل اور سیکولر نام کی کچھ مخلوقات پیدا ہو گئی ہیں۔ خود تو کافر ہیں ہی اور ہمیں کافروں کو مسلمان کرنے کی سعادت سے بھی محروم کرنے کے لئے شور ڈالے رکھتے ہیں۔ پر وہ مسلمان ہی کیا جو اس شور سے مرعوب ہو جائے

اب منڈی بہاؤالدین کے چک 44 کو ہی لے لیں۔ ہم کتنے برسوں سے ان مشرک کافر عیسائیوں کو برداشت کر رہے ہیں۔ پر ان کی جرات حدیں پار کر چلی ہے۔ اب ان کے لونڈے وہ کیا کہتے ہیں ہاں توہین مذہب پر اتر آئے ہیں۔ کیا پوچھا۔ کس طرح۔ بتا تو رہے ہیں۔ توہین کی ہے۔ اب توہین بھی نہیں جانتے کیسے ہوتی ہے۔ کی ہو گی کسی نے بکواس۔ زبان رکتی تھوڑا ہی ہے ان چوہڑوں کی۔ کیا بولے۔ ارے بھائی ہمیں کیا پتہ کیا کہا ہے پر لوگ ایسے ہی باؤلے تھوڑی ہوئے پھر رہے ہیں۔ کچھ کہا ہی ہو گا۔

\"A

پتہ بھی ہو تو ہم دہرا کر گناہگار تھوڑا ہی بنیں گے۔

دیکھو بھئی ہم تو ہیں دین کے نام لیوا۔ جو دین کا نام عزت سے نہیں لے گا اس کی تو ماں۔۔ اور بہن۔۔۔۔ اور اس کی۔۔۔ اس کو۔۔۔۔ اس میں۔۔۔۔ ایسے چپ بیٹھے رہے تو روز قیامت کیا منہ دکھاویں گے۔ پھر بھی بھائی ہمارے صبر کو داد دو۔ سالے ان چنگڑوں کی تو۔۔۔۔۔۔۔ پر ہم نے کہا نہیں ، کسی کو کچھ نہیں کہیں گے بس وہ لڑکا کیا نام ہے ہاں عمران مسیح۔ ہاں اسے ہمارے حوالے کر دو۔ چرچ کے سامنے بس اسے زندہ جلانا ہے اور باقی سب کو معافی۔ عیش کرو سالو۔۔۔۔ اتنی سی فرمائش تھی۔ مان لیتے پر بھائی بڑے ڈھیٹ لوگ ہیں۔ ہچر مچر۔ ٹال مٹول۔ پولیس۔ اخبار۔ میڈیا۔ ابے جب ایمان جاگتا ہے تو پھر یہ پولیس وولیس۔ میڈیا ویڈیا سب دھرے رہ جاتے ہیں۔ پر ہم ہیں امن پسند لوگ۔ ورنہ ان کو جوزف کالونی اور شانتی نگر یاد کرائے دیتے۔ تو بھیا ہم نے کیا یہ کہ ان کا بس کھانا پینا بند کر دیا۔ نہ انہیں گاوں کی کسی دکان سے اب سودا ملے گا نہ کہیں سے آٹا اور نہ ہی پانی۔ بھوکے مریں گے تو خود ہی سیدھے ہوں گے۔ اور اب بھائی ایک دفعہ وہ عمران کو پھونک لیں تو اس کے بعد جس عیسائی نے چک 44 میں رہنا ہے وہ یا تو ہمارے والا کلمہ پڑھے ورنہ کوئی معافی نہیں۔ ایک ایک کے گھر کو جلائیں گے۔ ایک ایک کا سر اتاریں گے

تو حضور یہ ہونے جا رہا ہے چک 44 منڈی بہاؤالدین میں۔ پولیس تماشائی ہے۔ میاں صاحب جلسے کر رہے ہیں۔ اورنج ٹرین دھڑادھڑ بن رہی ہے۔ عینی اور قندیل بلوچ ٹی وی پر جگمگا رہی ہیں۔ عمران خان اور سراج الحق اور اعتزاز احسن ٹی او آر بنا رہے ہیں۔ بلاول زندہ شہید بن رہا ہے۔ روز نئی آف شور کمپنیاں نکل رہی ہیں۔ مولانا

\"An

فضل الرحمان کے بھائیوں کی نئی نوکریاں لگ رہی ہیں ۔ پر کسی کو دین کی سربلندی کا خیال نہیں ہے۔ دعوت کا بیڑا اٹھایا تو چک 44 کے باسیوں نے۔ آخری خبریں آنے تک آٹھ کافر دائرہ اسلام میں داخل ہو بھی گئے ہیں۔ دجالی میڈیا کی باتوں پر مت جائیں۔ یہ جان کا خوف تھوڑی تھا۔ بس دین کی حقانیت ان کے دلوں میں گھر کر گئی تھی۔

یہ شمع جو جلی ہے اب اس کی لو شائید تیز ہو گی عمران مسیح کے خون سے اور پھر یہ روشنی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے کونے کونے میں پھیل جائے گی۔ ایک دن آئے گا جب آخری کافر بھی مسلمان بن جائے گا۔ اور یہ ملک اسلام کا سچا قلعہ بن جائے گا جس کی ایک ایک اینٹ صرف خالص اسلامی بھٹے سے نکلی ہوئی ہو گی۔ انقلاب کا سفر شروع ہو گیا ہے۔ اب یہ نہیں رکے گا۔

 اسلام زندہ باد، پاکستان پائیندہ باد، C۔ 295 پہ جان قربان۔۔۔۔۔۔۔ لگے رہو منا بھائی۔۔۔۔۔۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حاشر ابن ارشاد

حاشر ابن ارشاد کو سوچنے کا مرض ہے۔ تاہم عمل سے پرہیز برتتے ہیں۔ کتاب، موسیقی، فلم اور بحث کے شوقین ہیں اور اس میں کسی خاص معیار کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کا من پسند مشغلہ اس بات کی کھوج کرنا ہے کہ زندگی ان سے اور زندگی سے وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ تادم تحریر کھوج جاری ہے۔

hashir-irshad has 92 posts and counting.See all posts by hashir-irshad