دنیا کے ’تنہا ترین انسان‘ کی ویڈیو سامنے آ گئی


Footage of an uncontacted indigenous man in Brazil, known as the Hole Indian, released by Funai agency on 18 July 2018

Funai
ایک منٹ طویل یہ نایاب ویڈیو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ شخص ابھی تک زندہ ہے

برازیل کے جنگلوں میں رہنے والے ایک ایسے شخص کی ویڈیو منظرِ عام پر آئی ہے جو اپنے قبیلے کا آخری فرد بچا ہے اور پچھلے 22 سال سے مکمل طور پر تنہا زندگی گزار رہا ہے۔

1992 میں کسانوں نے حملہ کر کے اس شخص کے قبیلے کے چھ افراد کو مار ڈالا تھا جس کے بعد سے یہ دنیا میں اکیلا رہ گیا ہے۔

اب تک اس شخص سے کسی جدید انسان کا رابطہ نہیں ہوا۔ نہ اس کے قبیلے کے نام کا کسی کو پتہ ہے اور نہ ہی یہ معلوم ہے کہ وہ لوگ کون سی زبان بولتے تھے۔

یہ شخص، جسے میڈیا میں ’دنیا کا تنہا ترین انسان‘ کہا جاتا ہے، خود بھی جدید انسانوں سے رابطہ نہیں رکھنا چاہتا اور اگر کوئی اس کے علاقے میں جائے تو اس پر تیر برساتا ہے۔

اس کی عمر 50 برس کے قریب ہے اور اس کی ویڈیو برازیل کے سرکاری ادارے فونائی نے بنائی ہے۔ یہ ادارہ مقامی قبائلیوں کے حقوق کے لیے کام کرتا ہے۔

اس ویڈیو میں اس شخص کو شمالی مغربی ریاست روندونیا میں واقع ایمازون کے جنگل میں کلھاڑی کی مدد سے درخت کاٹتے دیکھا جا سکتا ہے۔

فونائی کا کہنا ہے کہ ویڈیو نشر کرنے کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ یہ شخص زندہ ہے اس لیے اس علاقے میں کسی کو نہ جانے دیا جائے۔

برازیلی قانون کے تحت مقامی قبائلیوں کو اپنے علاقے پر مالکانہ حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ تاہم اس شخص کے علاقے کے اردگرد طاقتور کسانوں کے علاقے ہیں جو اس علاقے پر قبضہ جمانا چاہتے ہیں۔ ماضی میں ان کسانوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اس علاقے میں کوئی قبائلی نہیں رہتا۔

ادارہ فونائی خود بھی ایسے لوگوں سے رابطہ کرنے کی کوشش نہیں کرتا کیوں کہ ان میں جدید انسان کے جراثیم کے خلاف مدافعت نہیں ہوتی اور یہ بڑی آسانی سے زکام جیسے معمولی مرض کا شکار ہو کر مر سکتے ہیں۔

ماضی میں اس شخص کی بنائی ہوئی کچھ جھونپڑیاں اور تیر وغیرہ ملے تھے، اس کے علاوہ اس کی ایک دھندلی تصویر بھی لی گئی تھی، تاہم ویڈیو پہلی بار سامنے آئی ہے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ انھیں یہ دیکھ کر خوشی ہوئی ہے کہ اس شخص کی صحت عمدہ دکھائی دے رہی ہے۔

A straw house known as a

Survival
اس شخص نے 2005 میں یہ جھونپڑی بنائی تھی تاہم بعد میں اسے ترک کر دیا تھا

اس شخص کے قبیلے والوں کی بڑی تعداد اس وقت ختم ہو گئی تھی جب 1970 اور 80 کی دہائیوں میں ان کے علاقے میں سے سڑک گزاری گئی تھی۔ اس کے علاوہ غیر قانونی طور پر لکڑی کاٹنے والے اور کسان بھی مقامی قبائلیوں کو مار ڈالتے ہیں تاکہ ان کی طرف سے مداخلت نہ ہو سکے۔

سروائیول انٹرنیشنل نامی ادارے کی فیونا واٹسن کہتی ہیں: ‘یہ شخص بڑے ہی پرتشدد تجربے سے گزرا ہے اور اسے دنیا نہایت خطرناک جگہ دکھائی دیتی ہو گی۔’

انھوں نے کہا: ‘ہم اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں جاننا چاہتے، تاہم وہ اس بات کی علامت ہے کہ ہم انسان کے زبردست تنوع سے محروم ہوتے چلے جا رہے ہیں۔’

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 5694 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp