قومی اسمبلی میں ایک اہم ترین مسئلے پر بحث


khizer hayatجماعت اسلامی نے ہفتہ وار تعطیل اتوار کے بجائے جمعہ کو کرنے کی قرارداد قومی اسمبلی میں پیش کی ہے جس پر وفاقی وزرا کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ نماز جمعہ چھٹی کے بغیر بھی پڑھی جاسکتی ہے، اسلام میں چھٹی کا حکم نہیں ہے۔
جماعت اسلامی کے رکن صاحبزادہ طارق اللہ نے بدھ کو قومی اسمبلی میں قرار پیش کی ہے کہ ملک میں ہفتہ وار تعطیل جمعہ کو مقرر کی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ جمعہ بابرکت اور مسلمانوں کی عبادت کا دن ہے، 1977 میں قومی اسمبلی نے جمعہ کو چھٹی کی قرارداد منظور کی تھی جبکہ بہت سے اسلامی ممالک میں جمعہ کو ہفتہ وار چھٹی ہوتی ہے۔
جماعت اسلامی کی خاتون رکن قومی اسمبلی عائشہ سید کا کہنا تھا کہ ملک میں صرف کاروباری طبقہ جمعہ کی چھٹی کامخالف ہے جبکہ جمعہ کی چھٹی نہ ہونے سے ملک میں آفات نازل ہورہی ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی نفیسہ خٹک نے کہا کہ جمعہ کی چھٹی اچھی بات ہے۔
حکومتی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی کپٹن (ر) صفدر کا کہنا تھا کہ جمعہ کی چھٹی کے لیے قرارداد خیبرپختونخوا اسمبلی میں پیش ہونی چاہیے کیونکہ کے پی کے میں مذہبی رجحان زیادہ پایا جاتا ہے۔
اس موقع پر وزیرمذہبی امور سردار یوسف نے کہا کہ عوام کو نمازوں کی ادائیگی کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کے لیے نظام صلوٰة نافذ کرنے پر غور کر رہے ہیں، جمعہ عبادت کا دن ہے چھٹی کا نہیں، جمعہ کو کام پر ہوتے ہوئے بھی لوگوں کے پاس نماز کی ادائیگی کے لے کافی وقت ہوتا ہے، اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ اگر چھٹی کر بھی دی جائے لوگ جمعہ کی نماز نہیں چھوڑیں گے۔
وزیرمملکت شیخ آفتاب اور قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے تجویز دی کہ جمعہ کو چھٹی کا معاملہ وزرات داخلہ کو بھجوا دیا جائے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ جمعہ کی نماز چھٹی کے بغیر بھی پڑھی جاسکتی ہے، اسلام میں چھٹی کا حکم نہیں ہے، اس کے برعکس قران میں جمعہ کی نماز کے بعد اللہ کے فضل کی تلاش کرنے کا حکم ہے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ہفتہ وار چھٹی کوئی مذہبی معاملہ نہیں ہے ہمیں تو ہفتہ کے سات روز کام کرنا چاہئیے، اصل عبادت تو رزق حلال کا حصول ہے۔
بحث کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے جمعہ کے روز عام تعطیل کا معاملہ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے سپرد کردیا۔


Comments

FB Login Required - comments