سیاسی انجینئرنگ: انتخابات کی شفافیت پر سوالیہ نشان


اگرچہ الیکشن ایکٹ 2017ء کی منظوری کے بعد پولنگ کے دِن دھاندلی کے امکانات کم سے کم ہو چکے ہیں جس کا سارا کریڈٹ پارلیمانی کمیٹی برائے انتخابی اصلاحات کو جاتا ہے تاہم پری پول رگنگ روکنے کے حوالے سے کوئی طریقہ کار نہیں بنایا گیا جس نے آزادانہ اور شفاف انتخابات پر سوالات اٹھا دیئے ہیں۔ الیکشن ایکٹ کی منظوری سے الیکشن کمیشن آف پاکستان اپنے اختیارات کے ہر طرح سے استعمال کے حوالے سے ایک طاقتور ادارہ بن چکا ہے ۔ ایکٹ میں ریٹرننگ افسران کا کردار بھی متعین کردیا گیا ہے کیونکہ ریٹرننگ افسران پر انتخابی نتائج کو تبدیل کرنے کے الزامات اکثر و بیشتر لگتے رہتے ہیں۔ یہ پہلی دفعہ ہو رہا ہے کہ اگر ریٹرننگ آفیسران کے خلاف کوئی شکایت ثابت ہوئی تو انہیں سخت سزا ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ الیکشن ٹربیونلز کے فیصلوں کے خلاف تمام اپیلوں پر فیصلے ہائی کورٹ کے دو ججوں کر مشتمل بینچ کو 120 دن میں سنانا ہوں گے۔ ماضی میں ایسے فیصلوں پر کئی سال لگ جاتے تھے اور آخر میں نئے انتخابات آنے پر وہ فیصلے ختم ہو جاتے تھے۔

الیکشن کمیشن کے ایک سابق افسر کے مطابق انتخابات میں دھاندلی کے کئی طریقے ہیں جیسا کہ کچھ خاص حلقوں میں نتائج کے اعلان میں غیر متعین تاخیر، فارم 14 میں تبدیلی، پریذائیڈنگ افسران کی طرف سے بیلٹ باکسز کی ترسیل اور ریٹرننگ افسران تک نتائج کی ترسیل تک دھاندلی کے امکانات ہو سکتے ہیں تاہم الیکشن ایکٹ میں ان تمام مسائل کا حل بتایا گیا ہے اور الیکشن اصلاحات کمیٹی نے انتخابات کو شفاف بنانے کیلئے کڑی محنت کی ہے۔ اصلاحات کمیٹی پر امیدواروں کی اہلی و نااہلی والی شقوں کے حوالے سے کافی تنقید بھی ہوئی تاہم یہ مسئلہ بھی ہائیکورٹ میں جانے کے بعد حل ہو گیا۔

تاہم پری پول دھاندلی، سیاسی انجینئرنگ اور لیول پلینگ فیلڈ کی وضاحت کے حوالے سے اب بھی ابہام باقی ہے۔ یہ آئندہ پارلیمان کیلئے بھی مسئلہ رہے گا کیونکہ اس کا تعلق بیرونی مداخلت کے ساتھ ہے اور اس ضمن میں الیکشن کمیشن زیادہ کچھ نہیں کر سکتا۔ فوری طور پر ایک ترمیم کی جا سکتی ہے کہ کوئی رکن انتخابات سے ایک سال قبل پارٹی نہ بدلے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ 1985ء سے 2013ء تک تمام انتخابات میں الیکشن کے دن دھاندلی نہیں ہوئی بلکہ یہ تمام انتخابات پہلے سے ’منظم‘ کیے گئے۔ حتیٰ کہ 77ء کے انتخابات میں 20 سے 25 سیٹوں پر دھاندلی کی شکایات آئی تھیں۔

بظاہر پاکستان میں انتخابات کے انعقاد سے قبل ہی یہ ’منظم ‘ کر لئے جاتے ہیں اور یہ بات کسی اور نے نہیں آئی ایس آئی کے سابق چیف مرحوم حمید گل نے مجھے ایک انٹرویو میں بتائی کہ 1988ء کے انتخابات وسیع تر قومی مفاد میں ’منظم ‘ کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات میں دھاندلی نہیں ہوئی تھی البتہ تمام پی پی مخالف قوتوں کو اسلامی جمہوری اتحاد کے پلیٹ فارم پر اکٹھا کر دیا گیا تاکہ مرضی کے نتائج حاصل کئے جا سکیں۔ پیپلز پارٹی الیکشن جیتنے پر خوش تھی اور ہم پی پی کے دوتہائی اکثریت حاصل نہ کر سکنے سے مطمئن تھے۔ حمید گل نے انٹرویو میں بتایا تھا کہ الیکشن کے دن دھاندلی نہیں ہوئی تھی صرف انتخابات سے قبل کچھ ضروری ’’ایڈجسٹمنٹ‘‘ کی گئی تھی اور میں تسلیم کرتا ہوں کہ میں نے آئی جے آئی بنائی۔

’پولیٹیکل انجنیئرنگ‘ بھی انتخابات پر اثرانداز ہونے کیلئے پری پول دھاندلی ہے، اگر1985ء سے2013ء تک کے انتخابات کا جائزہ لیا جائے تو یہ نتیجہ نکالنا مشکل نہیں ہوگا کہ کس طرح مرضی کے نتائج حاصل کیے گئے۔ 88ء، 90ء، 93ء، 97ء اور 2002ء کے انتخابات کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کا پراسرار عروج وزوال نظر آئے گا۔ ’’کنگز پارٹی‘‘ کی اصطلاح گو کہ پاکستان میں بہت پرانی ہے تاہم ’’آئی جے آئی ‘‘بنانے والے شخص نے اسے سرعام تسلیم کیا۔ دلچسپ طور پر85ء کے غیر جماعتی الیکشن کے بعد(ن) لیگ کو بھی ’’کنگز پارٹی‘‘ قرار دیا جاتا ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد پیپلز پارٹی کو ’قابو‘ کرنے کی بھی کوششیں ہوئی۔ پہلے حفیظ پیرزادہ اور ممتاز بھٹو کی قیادت میں ایک گروپ نے ’کنفیڈریشن ‘بنائی۔ بعد میں غلام مصطفیٰ جتوئی نے نیشنل پیپلز پارٹی کے نام سے الگ گروپ بنا لیا۔ 2002ءمیں مشرف نے پیپلز پارٹی پیٹریاٹ گروپ بنوادیا۔ 88ء میں جونیجو سے بغاوت کرکے نواز شریف نے ضیاء الحق کی اسٹیبلشمنٹ سے اتحاد کیا، یہاں سے مسلم لیگ (نواز) کا جنم ہوا۔ اسی طرح 2002ء میں (ن) لیگ سے ایک گروپ نے نواز شریف کے خلاف بغاوت کی اور چوہدری شجاعت حسین کی قیادت اور اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کے ساتھ جنرل مشرف کے سایہ عاطفت میں چلا گیا۔

سال رواں میں اس طرح کے الزامات اس وقت بھی سامنے آئے جب بلوچستان میں لیگی حکومت کا خاتمہ کر دیا گیا اور ایک نئی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی بنا دی گئی، اس طرح جنوبی پنجاب میں مسلم لیگ (ن) سے ایک گروپ علیحدہ کر دیا گیا۔ آئی جے آئی والے کیس کی طرح 2012ء میں سپریم کورٹ نے 90ء کے الیکشن کو دھاندلی زدہ قرار دیا اور کہاکہ نتائج بدلنے کیلئے پیسہ استعمال ہوا اور آئی ایس آئی کے سابق چیف جنرل(ر) اسد درانی نے ان لو گوں کے نام بھی طشت ازبام کیے جنہوں نے رقوم وصول کیں۔ سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے انتخابی دھاندلی کے حوالے سے کچھ دلچسپ انکشافات کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ الیکشن میں عام طور پرریٹرننگ افسر کے ذریعے دھاندلی کی جاتی ہے، تاہم 2008ء کے بعد کافی چیزیں بہتر ہو چکی ہیں اور دھاندلی کے چانسز پولنگ کے دن کم سے کم ہو چکے ہیں۔

بشکریہ روز نامہ جنگ

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں