میرے بھی کچھ سوال ہیں۔۔۔۔ اجازت؟


zafar kakarمیں ایک پیدائشی مسلمان ہوں۔ شعور کی حد کو پہنچا تو کچھ سوالات نے آ گھیرا۔ چونکہ میں ایک ایسے سماج کا باسی ہوں جہاں سوال پوچھنا جرم سمجھا جاتا ہے اس لئے کچھ سوالات جو میرے عقائد کے ٹھیک ہونے پر شک کے دبیز پردے ڈال رہے تھے اندر ہی اندر پریشان کئے رکھتے تھے۔ انسانی باطن ایسی کیفیت میں کئی طرح کی صورت حال کا شکار ہوتا ہے۔ ایک کیفیت یہ ہوتی ہے کہ ان سوالات کے جوابات تلاش کئے جائیں مشکل مگر یہ ہے کہ اس سماج میں ایسے سوالات کی کبھی پذیرائی نہیں کی گئی اور پوچھنے والے کو دشنام اور فتووں کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا۔ اس لئے خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔ عموماَ اس خاموشی کے کئی مظاہر نکلتے ہیں۔ پہلا یہ کہ اپنے عقائد کو درست تسلیم کیا جائے اور سوال کو معاشرے کی عمومی روایت کی طرح شیطانی خیالات گردانتے ہوئے توبہ و استغفار کا ورد جاری رکھا جائے اور شیطان سے پناہ مانگی جائے۔ دوسرا یہ کہ سماج کے خوف سے تو مسلمان رہا جائے مگر اندر ہی اندر ان سوالات کی وجہ سے کائنات میں خدا کے وجود کو مفروضہ مان کر جیا جائے۔ تیسری صورت یہ نکلتی ہے کہ ان سب چیزوں سے انکار کیا جائے اور اس مفروضے کا سہارا لیا جائے کہ یہ کائنات آپ اپنی خالق ہے۔ اس کی اور بھی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں مگر اس وقت موضوع دوسرا ہے۔

 برسبیل تذکرہ ایک لطیفہ یاد آیا۔ ژوب کے نابغہ روزگار دانشور سائیں کمال خان شیرانی حیات تھے۔ ان کے ڈیرے پر ایک ملحد سے ملاقات ہوئی۔ پوچھنے لگے آپ مسلمان ہو؟ عرض کیا جی مسلمان ہوں۔ پوچھا کیا آپ نے خدا کو دیکھا ہے؟ عرض کیا نہیں دیکھا۔ پوچھا جس نے بتایا کہ خدا ہے کیا اس نے خدا کو دیکھا تھا؟ عرض کیا نہیں دیکھا۔ پوچھا پھر کیسے مانتے ہو کہ خدا ہے؟ ابھی جواب کے لئے منہ کھولا ہی تھا کہ ژوب کے ایک مشہور مولانا صاحب اندر داخل ہوئے اور پوری تجوید سے اسلام علیکم کہا۔ سلام کے بعد پٹھانوں کے روایتی طرز پر فرداَ فرداَ حال احوال پوچھنے لگے۔ سب سے پہلے ہی ہمارے ملحد دوست کی باری آئی۔ مولانا صاحب نے کہا کیا حال ہیں جناب نے فرمایا، اللہ کا کرم ہے۔ مولانا نے کہا والد صاحب کیسے ہیں سنا تھا بیمار تھے۔ صاحب نے فرمایا، جی اللہ کے فضل سے اب بہت بہتر ہیں۔ اس حال احوال کے بعد سرگوشی میں دوست سے کہا کہ آپ تو خدا کو نہیں مانتے تھے لیکن آپ پر تو بار بار اللہ کا کرم اور فضل ہوتا ہے۔ کہنے لگے بس کہیں کہیں ماننا بھی پڑتا ہے جی۔

000000000000بات سوال سے شروع ہوئی تھی اور سوالات کافی گھمبیر ہیں۔ پہلے سوالات و جوابات کا ایک مبہم سا خاکہ دیکھ لیجیے۔ ذہن میں خیال آتا ہے کہ یہ کائنات کس نے پیدا کی؟ اور کیوں پیدا کی؟ بتایا جاتا ہے کہ آدم کی اولاد کو زمین پر اس لئے اتارا گیا تھا کہ حضرت آدم نے شجر ممنوعہ کھایا تھا مگر قرآن مجید یہ بھی بتاتا ہے کہ حضرت آدم نے اس گناہ کی معافی مانگ لی تھی اور اللہ نے معاف بھی کر دیا تھا ۔ اگر معافی دے دی گئی تو سزا کیوں ختم نہ کی گئی کیونکہ سزا کے نتیجے میں ہی انسان کو زمین پر اتارا گیا۔

مشہور جرمن فلسفی ہیگل نے کہا تھا کہ’ خدا نے انسان کو نہیں بلکہ انسان نے خدا کو اپنے عکس پر تراشا ہے۔ جیسے انسانوں کے خدا کو انسانوں کی طرح غصہ آتا ہے، انسانوں کا خدا پیار بھی کرتا ہے، انسانوں کا خدا رحم بھی کرتا ہے‘ گویا فلسفیوں کے بقول اگر اونٹوں کا خدا ہوتا تو بالکل اونٹوں جیسا ہوتا۔ ایسے میں جو الحاد کو تصور ہے یا جو معروف کا انکار کرنے والے ہیں یا وہ جو کائنات کو ہی خدا تصور کرتے ہیں، کیا وہ انسان کو مقصد حیات سے ماورا کرتے ہیں؟

انسان ایک کمپیوٹر بناتا ہے۔ کمپیوٹر کی تخلیق کا مقصد اس کے ذہن میں یہ ہے کہ وہ ڈیٹا سٹور اور پراسس کرے۔ اگر کمپیوٹر ایسا نہیں کرتا تو انسان کمپیوٹرکو مورد الزام نہیں ٹھہراتا بلکہ یہ دیکھتا ہے کہ اس سے کمپیوٹر کی پروگرامنگ میں کہاں غلطی ہوئی ہے۔ اسی طرح جب مخلوق خالق کی منشا کے مطابق عمل نہیں کرتی تو کیا سوال مخلوق کی بجائے خالق کے اوپر نہیں اٹھانا چاہیے؟

اسلام کا ارتقا کے بارے میں تصور کیا ہے؟

کیا اسلام تخلیق کی وضاحت کے ارتقائی منازل سے گزر رہا ہے؟

 Harqboolکیا سام بن نوح سے چلنے والے مذاہب کا نظریہ تخلیق قدیم یونانی فلاسفہ سے ماخوذ ہے؟

اگر خدا کی تخلیق کامل ہے تو بچے معذور کیوں پیدا ہوتے ہیں؟

کیا زمین چھ دنوں میں تخلیق ہوئی یا اربوں برس کا ارتقائی عمل اس کی تشکیل کا ذمہ دار ہے؟

اگر انسانی معاشرہ اور انسانی فکر ارتقائی مراحل سے گزر سکتے ہیں تو انسانی جسم کیوں نہیں گزر سکتا؟

 خدا کے لئے تو زبان کی کوئی رکاوٹ نہیں تھی پھر خدا نے کیوں انسانوں سے عربی میں کلام کیا؟خدا کے لئے یہ کوئی مشکل تو نہیں تھا کہ وہ ایک کائناتی زبان انسانوں کو سکھا کر اسی میں انسانوں سے کلام کرتا تو کہ پیغام میں ابہام نہ رہتا۔

ایک شخص پیدائشی پیغمبر ہے اور معصوم عن الخطا ہے۔ وہ جنت کے اعلی درجے میں بغیر کچھ کئے پہنچ گیا ہے صرف اس لئے کہ وہ پیدائشی طور پر منتخب تھا کہ وہ پیغمبر ہے تو کیا یہ باقی لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں ہے؟

جزا اور سزا کے خوف سے اخلاقی حدود کی پابندی کرنے سے کیا انسان کی تخلیقی صلاحیت متاثر نہیں ہوتی؟

جو جزا اور سزا لامحدود ہو گی کیا اس کی اہمیت ختم نہیں ہو جاتی اور کیا ایک محدود مدت کے گناہوں کی سزا لامحدود مدت کے لئے دی جا سکتی ہے؟

ٹوائن بی کہتا ہے کہ جن قوموں کو عروج حاصل ہوتا ہے ان پر زوال بھی آتا ہے۔ اس کا تعلق آخرت میں جزا و سزا سے جوڑنا کیا مبالغہ نہیں ہے؟

سوال یہ ہے کہ اگر اسلام ایک پرامن مذہب ہے تو کیوں ہمیشہ تاریخ میں مسلمان دوسرے ممالک پر حملہ کر کے انہیں دو آپشنز دیتے تھے کہ یا جنگ کر لو یا اسلام قبول کر لو اور جنگ کو ہارنے کی صورت میں انہیں ذمی بن کر جزیہ دینا پڑتا تھا۔ روم ، ایران، عراق، شام، ہندوستان، ہر جگہ مسلمانوں نے بلااشتعال حملے کیوں کئے؟

 اچھا ٹھہریئے! اس وقت مسئلہ نہ یہ سوالات ہیں اور نہ ان کے جوابات بلکہ مسئلہ کچھ اور ہے۔ عزیزم فرنود عالم کے کالم ’ اویس اقبال کا مکالمہ اور صحافت اسلامیہ کے سلطان اول ‘ سے ان سوالات نے جنم لیا۔ صحافت اسلامیہ کے سلطان اول جس سوال پر بھڑک کر اویس اقبال کو بکواس بند کرنے مائل بہ کرم تھے اور اس کو گستاخانہ قرار دے رہے تھے وہ اتنا گستاخانہ تو قطعی نہیں تھا جتنے یہ سوالات ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہی سوالات در اصل اویس اقبال کے ہی سوالات ہیں جو اس نے مختلف مواقع پر جیو کے پروگرام ’ غامدی‘ میں جاوید احمد غامدی صاحب سے پوچھے تھے۔ یاد نہیں پڑتا کہ غامدی صاحب کو ان سوالات پر غصہ آیا ہو یا کوئی سوال گستاخانہ محسوس ہوا ہو۔

بدقسمتی سے وطن عزیز میں دانشوری کی ایک عجیب وبا پھیلی ہے۔ سنتے آئے تھے کہ دانش ور کا کام ہی سوال کا جواب دینا ہوتا ہے ادھر دیکھیے کہ دانشوری کے نام پر واعظین خطاب فرماتے ہیں اور سوال کرنے والے کو گستاخ قرار دیتے ہیں جبکہ زعم یہ ہے کہ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام کر رہے ہیں۔ صاحب آپ امر بالمعروف کا کام کیجیے یا بالفاظ دیگر معروف کا کام کیجیے اور واہ واہ سمیٹ لیجیے مگر ایسا بھی کیا زعم کہ آپ کی ساری دانشوری ایک سوال کے آگے گھٹنے ٹیک دے ۔ گزارش یہ ہے کہ علم کسی اور چیز کا نام ہے اور خدائی فوجداری کسی اور چیز کو کہتے ہیں۔ آپ منہ سے جھاگ اڑاتے ہیپی کرسمس کہنے والوں پر برسیں۔ آپ آسیبی نگاہوں سے قائد اعظم کی گیارہ اگست کی تقریر کا ذکر کرنے والوں گھوریں۔ آپ آستینیں چڑھا کر ویلنٹائن ڈے منانے والوں پر برسیں۔ آپ کمزور روایتوں کا سہارا لے کر لال قلعہ پر پرچم لہرانے کا خواب دیکھیں۔ آپ کسی میوزیم سے دو بائی تین انچ کی پرچی لے کر ٹی وی پر لہرا کر قائد کی تقریر کا سرے سے انکار کریں۔ آپ اسامہ کا نوحہ لکھیں۔ آپ ملا عمر کا قصیدہ لکھیں مگر خدارا اس سماج میں کسی سوال کرنے والے پر گستاخی کا فتوی نہ لگائیں۔ تجربہ خاکسار کا بھی یہی ہے مگر الفاظ استاد عاصم بخشی صاحب کے مستعار لے رہا ہوں کہ ’ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں تیزی سے بڑھنے والا طبقہ ملحدین اگر عقلیت اور مادیت پسندی کی ایک دوسری انتہا پر کھڑا چیختی چلاتی آوازوں سے مذہب کی مخالفت پر مائل ہے تو اس کی ذمہ داری بھی ان رنگ برنگے خدائی فوجداروں پر ہی عائد ہوتی ہے ورنہ کون ذی شعور پورے ہوش و حواس اور مبنی بر دیانت علمی و عقلی استدلال کے ساتھ اس ہند آریائی تہذیب میں موجود آفاقیت کا انکار کر سکتا ہے‘۔ ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ سوال کا حق ہر شخص کے پاس موجود ہے۔ بالفرض اگر آپ کا زہد آشنا، مائل بہ تقویٰ مزاج کسی کو سوال کرنے کی اجازت نہیں بھی دیتا تو یہ جان کر اجازت دیجیے کہ سوال کرنے والا ایک پیدائشی مسلمان سے شعوری مسلمان بننا چاہتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 81 posts and counting.See all posts by zafarullah