جماعت اسلامی کی حمایت نہیں، فیئر ٹرائل کا سوال ہے


zeeshan hashimکل دس مئی کو جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر مطیع الرحمان نظامی کو پھانسی دے دی گئی۔ مورخہ نو مئی کو ہیومن رائٹس واچ نے اس سزا کو غیر منصفانہ قرار دے کر فورا معطل کرنے کی سفارش کی۔ اقوام متحدہ کا ہیومن رائٹس کمیشن، یونائیٹڈ اسٹیٹ کی کانگریس کا ہیومن رائٹس کمیشن،اور انٹرنشنل ہیومن رائٹس آبزرور بھی اسے فیئر ٹرائل کے منافی قرار دے کر فورا روک تھام کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ ضروری ہے کہ پہلے یہ سمجھا جائے کہ آخر فیئر ٹرائل کسے کہتے ہیں اور اس کی انسانی آزادیوں اور انصاف میں کتنی اہمیت ہے۔

فیئر ٹرائل سے مراد عدالتی کارروائی کا بے عیب، شفاف، منصفانہ اور جمہوری بنیادوں پر طے شدہ قانون و معیار کے عین مطابق ہونا ہے۔

شہریوں کی زندگی کا تحفظ ریاست کی اول و اہم ذمہ داری ہے۔ امن و امان تہذیب و ثقافت اور ترقی و خوشحالی میں مرکزی مقام رکھتا ہے۔ گورنمنٹ شہریوں کی مالک و مختار نہیں بلکہ ایک انتظامی ادارہ ہے۔ ریاست قوانین کی پابند ہے اس سے انحراف نہیں کر سکتی۔ ریاست متعصب اور جانبدار نہیں ہو سکتی۔ ریاست کا کام انصاف قائم کرنا ہے انتقام لینا نہیں۔ انصاف کیسے فراہم کرنا ہے اس کے لئے عدلیہ کا ادارہ قائم کیا جاتا ہے جس کا حکومتی اثرورسوخ سے آزاد ہونا لازم ہے۔ عدالتیں مدعی اور ملزم کے درمیان تنازعہ میں ایک غیر جابندار منصف ہوتی ہیں جن کا کام طے شدہ قوانین اور معیارات (Standards) کے تحت عدالتی کارروائی کو سرانجام دینا ہوتا ہے۔ جب تک الزام ثابت نہیں ہو جاتا ملزم مجرم نہیں، اس کے بطور آزاد فرد کے حقوق قائم ہیں۔

فیئر ٹرائل بنیادی انسانی حق ہے جس کا مقصد شہریوں کی آزادی کا تحفظ ہے۔ ایک طرف یہ ایک فرد کو دوسرے فرد کی بے جا مقدمہ بازی اور جھوٹے الزامات سے محفوظ رکھتا ہے تو دوسری طرف یہ ریاست کے جبر یا انتقامی ،ائی سے شہری کی حفاظت کرتا ہے۔ آمریت نے ہر بار فیئر ٹرائل کے ضابطہ سے انحراف کیا ہے۔ اگر ایک منتخب حکومت بھی فیئر ٹرائل سے ماورا اقدامات کرتی ہے تو وہ بھی سول آمریت ہی ہو گی۔ فیئر ٹرائل لبرل ازم کا لازمی ستوں ہے اس کے بغیر لبرل ازم نہیں بلکہ ہمہ گیر آمریت (Totalitarianism ) کو جنم ملتا ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد فیئر ٹرائل کو خاص طور پر انسانی حقوق کے عالمی چارٹر میں شامل کیا گیا تھا۔ فیئر ٹرائل کو ہر فرد کا بنیادی حق قرار دیتے ہوئے بیان کیا گیا ” ہر شخص اس بات کا حق رکھتا ہے کہ

اگر اس کے خلاف الزام (یا الزامات) لگائے جاتے ہیں تو

مکمل مساوات کے ساتھ،

شفاف اور عوامی سماعت میں،

ایک آزاد اور غیر متعصب عدالت میں

ان الزام (یا الزامات) کی جانچ پڑتال (determination ) کی جائے۔

اب آتے ہیں ان اعتراضات کی طرف جن کی رو سے انسانی حقوق کے عالمی ادارے جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر مطیع الرحمان نظامی کی پھانسی کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہیں۔

– نظامی صاحب کو صرف چار گواہ پیش کرنے کی اجازت دی گئی جب کہ وہ مزید گواہ پیش کرنا چاہتے تھے۔ ان گواہوں پر جرح کے لئے بھی انتہائی کم وقت دیا گیا۔

-ملزم اور اس کے وکلاء کو یہ حق نہیں دیا گیا کہ مدعی کی طرف سے پیش کئے گئے گواہان کو عدالت میں چلینج کر سکیں۔

-دی اکانومسٹ میگزین “Skypegate” کے نام سے ایک سکینڈل سامنے لا چکا ہے جس میں ججز حضرات، مدعی پارٹی، اور وکیل کنسلٹنٹس بذریعہ فون اور ای میل ایک دوسرے سے مشورہ کر رہے ہیں کہ عدالتی ائی کو کیسے آگے بڑھایا جائے۔ فون کال کی یہ ریکارڈنگز آپ یوٹیوب پر بھی سن سکتے ہیں۔

– بنگلہ دیش میں امریکی سفارت خانہ سمیت بین الاقوامی انسانی حقوق کے ادارے اسے فیئر ٹرائل سے متصادم ڈیکلئیر کر چکے ہیں۔

ہم مانتے ہیں کہ یہ بنگلہ دیش کا اندرونی معاملہ ہے مگر بطور انسانی حقوق کے حامی و ہمنوا ہونے کے ہماری ذمہ داری ہے کہ دنیا میں جہاں بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو اسے ظلم قرار دیں۔ دوسرا اگر جماعت اسلامی انیس سو اکہتر میں ماورائے عدالت قتل عام میں ملوث بھی رہی ہے، تب بھی یہ انصاف کا تقاضہ نہیں کہ سیاسی بنیادوں پر انتقامی کارروائی کرتے ہوئے اسے متعصب اور غیر شفاف عدالت کے سپرد کر دیا جائے اور سزا دی جائے۔ جب تک فیئر ٹرائل میں جرم ثابت نہ ہو جائے اس وقت تک ملزم مجرم نہیں ہو سکتا۔ یہ وہ ڈسپلن ہے جس کی پابندی انصاف قائم کرنے والے ادارے ہر صورت میں کرتے ہیں۔

تیسری اہم بات یہ کہ جو بنگلہ دیشی حکومت اب کر رہی ہے عرصہ سے بلکہ روز اول سے یہاں کے شہریوں کے خلاف ریاست کر رہی ہے۔ پہلے یہ کھیل مشرقی پاکستان میں کھیلا گیا اور آج یہی کھیل بلوچستان و شمالی علاقہ جات میں کھیلا جا رہا ہے۔ یہاں قانون کی حکمرانی کا مدعا اور انسانی حقوق کی پاسداری کے مطالبات کو ہمیشہ ناپسند کیا گیا ہے۔ ہنوز انسانی حقوق کے کارکنوں کو غدار وطن قرار دیا جاتا ہے، ریاست انہیں ناپسند کرتی ہے، ایسے لوگوں کی مسخ شدہ لاشیں ملتی ہیں یا ان کے دفاتر میں انہیں گولیوں سے چھلنی کر دیا جاتا ہے یا ان کا کوئی اپنا محافظ ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دیتا ہے یا پھر وہ کسی ریستوران میں بیٹھے ہوتے ہیں کہ کچھ موٹرسائیکل سوار انہیں جینے کے حق سے محروم کر دیتے ہیں۔

فیئر ٹرائل کے حق میں جگو رسل کیا کہتے ہیں۔ “فیئر ٹرائل کا حق محض ملزم کو تحفظ دینا اور جرم ثابت ہونے تک اس کی آزادی کا تحفظ کرنا نہیں بلکہ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ اس سے معاشرے محفوظ اور مضبوط ہوتے ہیں۔ فیئر ٹرائل کے بغیر انصاف پر اعتماد قائم نہیں ہوتا اور حکومتیں (ریاستیں ) ٹوٹ پھوٹ جاتی ہیں “

پاکستان میں ریاست بھٹو صاحب کا عدالتی قتل اس لئے کرنے میں کامیاب ہوئی کہ یہاں فیئر ٹرائل کو برتری حاصل نہیں۔ آرمی پبلک سکول کے بعد نیشنل ایکشن پلان کے نام سے انصاف کے نام پر یہاں آمریت نافذ کی گئی، انصاف کی ثقافت کو مضبوط کرنے کے لئے کوئی ایک قدم بھی نہ اٹھایا گیا۔ فوجی عدالتیں اور ماورائے عدالت قتل فیئر ٹرائل کے بنیادی حق سے انحراف ہے جس سے مسائل حل ہونے کا امکان فریب نظری ہے۔ بلوچستان میں بغاوت کا بڑا سبب فیئر ٹرائل کی بالادستی (Supremacy ) سے انکار ہے۔ پاکستان میں لوگ قانون کو اس لئے ہاتھ میں لے رہے ہیں کیونکہ قانون پر اعتماد ختم ہو چکا ہے۔ جرائم کی شرح اور غیر منصفانہ عدالتی کارروائی کے درمیان براہ راست تعلق موجود ہے۔ فیئر ٹرائل کے بغیر انصاف کی آرزو بے ثمر ہے۔

ہم پوری دنیا میں انصاف کے آرزو مند ہیں، سب کے لئے، ہر ایک کے لئے، مذہب نسل رنگ، زبان، جغرافیہ اور نظریہ کی تفریق سے بالاتر ہو کر۔ اسی سے انسانیت مضبوط ہو گی۔ اسی سے آزادی، مساوات، اور انصاف کا بول بالا ہو گا۔ جہاں بھی فیئر ٹرائل کے بنیادی حق سے انکار کیا جاتا ہے، ہم اس کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے۔

 


Comments

FB Login Required - comments

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 92 posts and counting.See all posts by zeeshan