اسلاموفوبیا: ایک نفسیاتی جائزہ


سیم ہیرس ایک مشہور امریکی نیورو سائینٹسٹ Rizwan Saleemiہیں۔ وہ اپنی ایک کتاب کے آغاز میں ایک واقعہ بیان کرتے ہیں جس میں ایک درمیانی عمر کے میاں بیوی ایک بس میں بیٹھے ہیں۔ اور ان کے ہاتھ میں فریج اور فریزرز کی کیٹالاگ ہے۔ دونوں میں فریج کے کسی ایک خاص ماڈل کو لے کر بحث ہو رہی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو مختلف ماڈلز کے فوائد اور نقصان بتا اور سمجھا رہے ہیں۔ لیکن وہ ایک حقیقت سے واقف ہی نہیں ہیں کہ اسی بس میں ان کے قریب ہی ایک خود کش حملہ آور بھی بیٹھا ہے۔ جو کہ ان کی باتیں سن بھی رہا ہے لیکن اسے ان کی کسی بھی بات سے کوئی غرض نہیں۔ اسے غرض ہے تو صرف اس دنیا کی جہاں تک وہ اپنے خیالات اور اپنی سوچ کے مطابق پہنچنے والا ہے۔ وہ دنیا جس میں اس کی سوچ کے مطابق کوئی پریشانی نہیں۔ جس میں ہر لذت اس کا انتظار کر رہی ہے۔ اور کچھ ہی لمحوں بعد ایک دھماکے سے وہ شخص اپنی اور اس بس میں بیٹھے تقریباََ ہر انسان کی جان لے لیتا ہے۔ اس واقعہ میں مجھے خودکش حملہ آور کا مذہب بتانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ آپ سب سمجھدار ہیں۔ مضون کے ٹائیٹل کی مدد سے ربط بن جائے گا۔

مغربی ممالک میں رہنے والے اکثر مسلمان اور کچھ جارج گیلوے جیسے الجہھے بائیں بازو کے لوگ “اسلامو فوبیا” کی ٹرم کو بہت گھسیٹتے ہیں۔ اور ان کے اس الجھن سے بھرے بیانیہ کا فائدہ برطانیہ کے شدت پسند انجم چودھری جیسے لوگ اٹھاتے ہیں، جو کہ انہیں ملکوں کی سوشل سیکیورٹی پر پلتے ہیں اور پھر اسی دھرتی کے قانون کی نفی یہ کہ کر کرتے ہیں کہ یہ کفر کا نظام ہے۔ ایک دن شریعت اس کفر کے نظام کو ختم کر دے گی۔

مغرب میں بھی سطحی سوچ رکھنے والے لوگوں کی کمی نہیں ہے۔ جب عام غیر مسلم مسلمانوں کی یہ کرتوتیں دیکھتا ہے تو کیا وہ فطری طور پر یہ سوچنے میں حق بجانب نہیں ہے کہ اس خاص مذہب کے لوگوں کے ساتھ کجھ بہت ہی پیچیدہ مسئلہ ہے۔ اس عام سے مشاہدہ کے بعد وہ مزید سوچتا ہے کہ پتا نہیں مسلمانوں میں کتنے ایسے لوگ ہیں جو ایسی گھناؤنی حرکتیں کرنے کی سکت رکھتے ہیں ؟ تو اس کے دل میں ایک خاص قسم کا ڈر اور تعصب جنم لیتا ہے۔ وہ تعصب کچھ خاص افراد کے لئے بھی ہو سکتا ہے یا کسی ایک نظریہ کے لیے۔ تو کیا اس فطری سوال کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ڈر کو برا سمجھا جا سکتا ہے؟

چلیں ہم رول ریورسل ٹیکنیک کا استعمال کرتے ہوئے ایک مثال تخلیق کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اگر پاکستان ایک انتہائی ترقی یافتہ اسلامی جمہوریہ پاکستان بن جائے اور ہمارے پاس امریکی فرانسیسی اور برطانوی روزگار کے لیے آنا شروع کر دیں۔ تو ہم ان کے ساتھ کن بنیادوں پر تعلق قائم کریں گے؟ کیا ہم نہیں چاہیں گے کہ وہ بھی ہماری دھرتی پر رائج قانون کو مانیں۔ اور ہمارے معاشرے کا حصہ ہماری اقدار کے مطابق بنیں۔ لیکن فرض کر لیں ان میں سے کچھ لوگ تخریب کار زہن رکھتے ہوں اور وہ کہیں کہ نا بھائی ہم تو اس ملک میں اپنے مذہب کا نفاذ کر کے ہی دم لیں گے۔ اس صورت میں پاکستانیوں کے ذہن میں ان کا کیا امیج بنے گا ؟ کیا یہ فطری نہیں کہ کچھ پاکستانی ان تخریب کاروں سےسخت نفرت کریں گے۔ اور کچھ ان کو سدھارنے کی فکر کریں گے۔ لیکن ایک گروہ ایسا بھی ہو گا جو انکا ڈھکے چھپے لفظوں میں حامی ہوگا۔ اسی گروپ کو اگر ہم اس مثال سے باہر نکل کر مسلمانوں کے حالات میں رکھ کر دیکھیں تو آپ کو سمجھ آ جائے گی کہ یہ اسلامُ فوبیا ایک مبہم اصطلاح ہے۔ جس کی تبلیغ سے حاصل کچھ نہیں لیکن اس کا نقصان یہ ہے کہ ہم اپنی سب کوتاہیاں چھپا کر ایک اور نسل کو سمت دکھانے میں ناکام ہو رہے ہیں۔

مغرب میں نسلی بنیادوں پر تعصب ہوتا ہے۔ لیکن مذہب کا سہارا لے کر اس تعصب کا جواب دینا بہت ہی خطرناک فعل ہے۔ جس کے نقصان کا اندازاہ ہی نہیں لگایا جا سکتا۔

جب نسل پرستی کا جواب مذہبی جنون سے دیا جائے گا تو اس فعل سے دو گروہ وجود میں آئیں گے۔ ایک داخلی گروہ اور دوسرا خارجی گروہ۔ چلیں فرض کر لیں ایک داخلی گروپ مسلمانوں کا ہے جس کے کچھ کے ممبران چاہے جتنے مرضی برے ہوں لیکن زیادہ تر مسلمان اسے اس لیے برا نہیں سمجھیں گے کہ دونوں کا تعلق ایک ہی گروپ سے ہے۔ اور یہ مسلمانوں کا داخلی گروہ غیر مسلموں اور ناقدین کے خارجی گروہ سے بلا وجہ نفرت کرے گا۔ کچھ لوگ تو کوئی وجہ جانے بغیر نفرت برائے نفرت کریں گے۔

یہ کہنا کہ مسلمانوں میں اس وقت کوئی خرابی موجود نہیں ہے اور یہ سب خرابیاں کسی خاص کیمرے کی صفائی کا نتیجہ ہیں اور صرف مغرب کا فوبیا ہے انتہائی خطرناک بیانیہ ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ جیسے ہم مسلمانوں کی ایک ریڈیکل نسل ٹریننگ اور پروگرامنگ کے نتجے میں وجود میں آئی تو ویسے ہی ایک اعتدال پسند۔ امن پسند نسل ریورس پروگرامنگ اور ریورس ٹریننگ سے وجود میں آئے گی۔ لیکن اگر نئے معتدل بیانیہ کی تعمیر کے دوران ہی اسلامُ فوبیا جیسے شوشے چھوڑ دئے جائیں گے اور انہیں بڑھاوا دیا جائے گا تو ہر کچا ذہن یہ سمجھے گا کہ شاید واقعی ہم میں کوئی برائی نہیں ہے۔ سب مغرب اور غیر مسلموں کی پھیلائی ہوئی باتیں ہیں۔ کسی بھی حقیقی اور اہم مسئلہ کا انکار اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے کوشش نہ کرنے سے بھی بڑا جرم ہے۔

پیرس حملوں کی مثال لے لیں۔ پیرس حملہ آور اس بارے میں بہت کلیئر تھے کہ وہ کیوں قتل و غارت کر رہے ہیں۔ کسی بھی پیرس کے باسی کا یہ اعتراض کہ مسلمان ان کی ثقافت سے نفرت کی بنا پر یہ قتل و غارت کر رہے ہیں عام لوگوں میں ایک تاثر پیدا کرے گا جس سے ایک ڈر کی کیفیت جنم لے گی۔ اس ڈر سے جزوی طور پر نسلی تعصب کے جزبات بھی جنم لے سکتے ہیں۔ ایسی کسی کیفیت کو اگر اسلامُ فوبیا کہتے ہیں تو یہ توجیہاتی طور پر کچھ واقعات کی روشنی میں جنم لینے والا بیانیہ ہے؟ اسلامُ فوبیا کا ڈھول پیٹنے والے ویسٹ میں پائے جانے والے نسلی و مذہبی تعصب کا جتنا رونا روتے ہیں۔ مسلم معاشروں میں پائی جانے والے شدت پسند رویوں پر بحث شروع کروانے کے لیے کچھ نہیں کرتے۔

شروع میں دی جانے والی مثال کو سامنے رکھیں اور سوچیں کہ اگر کوئی غیر مسلم یہ کہے کہ اے مسلمانوں ہمیں تم سے اور تمہارے نظریات سے مسئلہ ہے کیونکہ ان نظریات کے نتیجے میں ایک شخص نے کئی نہتے لوگوں کی جان لے لی۔ تو اس بات کا ہرگز مطلب نہیں ہے کہ یہ کہنے والے اسلامُ فوبیا کا شکار ہیں۔

آخر میں یہی کہوں گا کہ اسلامُ فوبیا کی اصطلاح نے مسلم دنیا کی کوئی مدد نہیں کی۔ بلکہ شدت پسند رویوں کی اصلاح کی راہ میں ایک الجھا ہوا بیانیہ بنی کھڑی ہے۔


Comments

FB Login Required - comments