سیکولرازم جرم نہیں !


تاریخ دان احباب سے دریافت کیا ۔ سیاسیات کے اساتذہ سے استفسار کیا۔ پاکستان میں سیاسی ارتقا کے نشیب و فراز کے شناوروں سے پوچھا کہ آخر اردو زبان میں پہلی مرتبہ سیکولر ازم کا ترجمہ ”لادینیت“ کس عبقری نے کیا تھا۔ کسی نے مولوی عبدالحق کی اردو لغت پر نام دھرا۔ ارے صاحب، وہ لغت تو مولوی احتشام الحق حقی کی عرق ریزی کا نتیجہ تھی۔ مولوی عبدالحق تو اس لغت پر اپنا اسم گرامی شائع کرنے کے گناہ گار تھے۔ البتہ احتشام الحق حقی کے صاحبزادے شان الحق حقی نے آکسفورڈ یونیورسٹی کے لیے جو انگریزی اردو لغت مرتب کی اس میں بھی سیکولرازم کا ترجمہ ’لادینیت‘ ہی لکھا ہے۔ مقتدرہ قومی زبان کی انگریزی اردو لغت مرتبہ ڈاکٹر جمیل جالبی میں بھی سیکولرازم کے ذیل میں ” لادینی جذبہ یا رجحانات بالخصوص وہ نظام جس میں جملہ مذہبی عقاید و اعمال کی نفی ہوتی ہے“ کی عبارت دی گئی ہے۔

یہ سوال تشنہ¿ جواب ہو سکتا ہے کہ سیکولر ازم کو پہلی مرتبہ کس نے ”لادینیت“ کا سراسر غلط اور گمراہ کن مفہوم بخشا تھا۔ تاہم یہ امر طے ہے کہ پاکستان میں سیکولرازم کو بد نیتی سے اور تکلیف دہ تسلسل کے ساتھ لادینیت کا نام دینے اور اسے عوام الناس کے ذہنوں میں راسخ کرنے میں بنیادی کردار جماعت اسلامی نے ادا کیا۔ جماعت اسلامی نے پراپیگنڈے کے لیے اپنے آلات کار کا انتخاب کمیو نسٹ تحریک کے ترکش اور جرمن نازی پارٹی کے اسلحہ خانے سے کیا تھا۔ نظریاتی پراپیگنڈے کے اس ترجیحی نمونے میں سچائی، فکری دیانت اور حقیقت بیانی کو زیادہ زحمت نہیں دی جاتی۔ مختلف اصطلاحات کا من مانا ترجمہ کیا جاتا ہے۔ اس ترجمے کو ایک خاص مفہوم پہنایا جاتا ہے اور پھر اس خود ساختہ تشریح کو اس شدت سے اور اس تواتر سے دہرایا جاتا ہے کہ عام ذہن نہ صرف اسے درست تسلیم کر لیتا ہے بلکہ اس سے مختلف رائے کو قریب قریب کفریہ کلمہ سمجھنے لگتا ہے۔

سیکولرازم کا کسی مذہب کی مخالفت یا حمایت سے کوئی تعلق نہیں۔ سیکولرازم ایسا ریاستی نظام ہے جو مذہب کی بنیاد پر کسی امتیاز کے بغیر تمام شہریوں کے تحفظ، بہبود اور ترقی کی ذمہ داری قبول کرتا ہے۔ سیکولر ریاست ان مقاصد کے حصول کے لیے فہم عامہ ، اجتماعی مشاورت اور انصاف کے اصول بروئے کار لاتی ہے۔

انسانی معاشرہ ارتقا پذیر مظہر ہے۔ تاریخی طور پر معاشرے کو منظم کرنے کے لیے مختلف ریاستی نظام اختیارکیے جاتے رہے ہیں۔ کبھی کسی خاص خاندان کو حقِ حکمرانی بخشا جاتا تھا، کبھی کسی مخصوص نسل یا زبان سے تعلق رکھنے والوں کو حقِ حکمرانی ودیعت کیا جاتا تھااور کہیں کسی خاص عقیدے کے پیشوا منصبِ حکمرانی کے اہل قرار دیے جاتے تھے۔ اسی طرح ریاست کا نصب العین بھی تبدیل ہوتا رہتا تھا۔ کہیں ریاست کا مقصد شخصی اقتدار کا فروغ قرار پاتا تو کہیں ریاست کسی خاص نسل یا قبیلے کی منفعت کے لیے کشور کشائی کا ذریعہ سمجھی جاتی تھی۔ کبھی ریاست کو کسی خاص عقیدے کی ترویج کے لیے آلہ¿ کار بنایا جاتا تھا۔

ہزاروں برس کے تجربات کی روشنی میں بالآخرانسان اس نتیجے پر پہنچا کہ ریاستی بندوبست کی یہ تمام صورتیں معاشرے میں امن، انصاف اورترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالتی ہیں۔ انسانوں کے لیے امن ، تحفظ، انصاف اور بلند معیارِ زندگی کے حصول کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ مذہب کی بنیاد پر کسی امتیاز کے بغیر تمام شہریوں کو ریاست کا مساوی رکن تسلیم کیا جائے اور مختلف الوہی یا نظریاتی مقاصد کی بجائے ریاست کو انسانوں کی دنیاوی زندگی بہتر بنانے کا ذریعہ قرار دیا جائے۔ ریاست کو صرف ان معاملات میں دخل اندازی کی اجازت ہونا چاہیے جنھیں غیر جانب دارانہ اور معروضی سطح پر پرکھااور جانچاجا سکے۔ عقیدہ انفرادی انسانی ضمیر سے تعلق رکھتا ہے اور کسی فرد یا ادارے کے لیے کسی دوسرے انسان کے عقیدے کی پرکھ ممکن نہیں۔ چنانچہ مذہب میں مداخلت یا کسی مذہب کی بالادستی قائم کرنا یا کسی مذہب کو غلط قرار دینا ریاست کا کام نہیں۔

سیکولر ریاست کی اصطلاح لاطینی لفظ Saecularisسے مشتق ہے جس کا لُغوی مطلب ہے دنیا یا زمین۔ گویا سیکولر ازم میں ریاست کا مقصد ہماری دنیا وی یا زمینی زندگی کو بہتر بنانا ہے۔ سیکولر ریاست اپنے شہریوں کے پیٹ میں غذا ، بدن پرلباس اور سر پر چھت فراہم کرنے کی ذمہ داری اٹھاتی ہے۔ اُن کے لیے مناسب روزگار اور مناسب تفریحات کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ریاست شہریوں کو حصولِ علم اور مختلف فنون میں ذوق پیدا کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اُن کے جان و مال اور شخصی آزادیوں کی حفاظت کرتی ہے۔ زندگی کو آرام دہ بنانے کی ذمہ داری لیتی ہے۔ سیکولر ریاست کا فرض ہے کہ ایسے قوانین ، ادارے اورپالیسیاں اختیار کرے جن کی مدد سے معاشرے سے جرم اور تشدد کو ختم کیا جا سکے، جہالت مٹائی جا سکے، غربت کا قلع قمع کیا جا سکے اور بیماریوںکی روک تھام کی جا سکے۔

باقی حصہ پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ ہر کلک کریں 

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

8 thoughts on “سیکولرازم جرم نہیں !

  • 20/01/2016 at 1:43 am
    Permalink

    سلام،
    گر یونانی لفظ کا ترجمہ “دنیا” یا زمین” کیا جاتا ہے تو “دہر” یا “زمانہ” کی مناسبت سے “دہریہ” بہ معنی “جو آسمانی تعلق” کو نہ مانے “لا دین” جس کا کوئی دین نہیں. ان معنوں میں شان الحق حقی نے درست ترجمہ کیا.
    کیا احتشام الحق حقی کے کام کو مولوی عبد الحق کے نام سے شائع ہونے کا کوئی دعوا یا ثبوت موجود ہے؟

  • 20/01/2016 at 4:51 am
    Permalink

    یہ اس موضوع پر ایک گراں قدر اضافہ ہے،بہت کچھ سمجھنے اور سیکھنے کا موقع ملا۔ شکریہ

  • 20/01/2016 at 5:40 am
    Permalink

    محترم ظفرعمران صاحب، احتشام الحق حقی صاحب کے بارے میں اخلاق احمد دہلوی کی کتاب “یادوں کا سفر” دیکھئے۔ احتشام الحق حقی نے حیدر اآباد حکومت سے بیس برس تک بارہ سو روپیہ ماہانہ وظیفہ لے کر یہ کام کیا تھا۔ جہاں تک مولوی عبدالحق صاحب کی لغت نویسی پر خلق خدا کی رائے کا تعلق ہے تو از رہ کرم حمیدہ رائے پوری کی خود نوشت “ہم سفر” پر بھی ایک نظر ڈال لیجئے۔

    دہریہ فلسفے کی مستند اصطلاح نہیں ہے ۔ اردو میں مذہب سے انکار کے لئے الحاد کی اصطلاح زیادہ مستعمل ہے۔ اس سے مشتق ملحد ہے۔ دہریہ تو نیاز فتح پوری استعمال کرتے تھے۔

  • 20/01/2016 at 5:56 am
    Permalink

    فرقہ پرستی کے شکنجے میں پھنسی اس قوم کو سیکولرازم کا حقیقی تعارف کرانا ناگزیر ہو چکا ہے، اس شکنجے سے نکلنے کا واحد ذریعہ سیکولرازم ہی ہے۔ وجاہت مسعود صاحب! آپ کی یہ کاوش قابل ستائش ہے، اردو سے بھی پہلے اس غلطی کا آغاز عربی زبان میں ہوا جہاں سیکولرازم کا ترجمہ ”اللادینیة“ کیا گیا، اور آج بھی عرب کے دینی حلقوں میں مستعمل ہے، غالباً اردو لغت کے مصنفین نے اسی مکھی پر مکھی ماری ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔

  • 20/01/2016 at 10:47 am
    Permalink

    دہر ، عموماً دنیا کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔
    ” دہر میں اسم، محمد سے اجالا کر دے ”
    ” دنیا ” کی چاہ کرنے والوں کو ” دہریہ ” سے موسوم کیا جاتا ہے ۔ جہاں سے یہ غالباً ممبرِ خطابت سے ” لادینیت ” سے جُڑ گیا ،

    سکیولر ازم کی تعریف ، الکتاب کی یہ آیت ، بہ احسن و خوبی کرتی ہے ۔

    بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
    قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ﴿١﴾ لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ ﴿٢﴾ وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ ﴿٣﴾ وَلَا أَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدتُّمْ ﴿٤﴾ وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ ﴿٥﴾ لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ ﴿٦﴾

  • 20/01/2016 at 11:05 am
    Permalink

    Thanks Respected Wajahat Masood Sb thanks for such a nice article . Continue your Jihad with pen to write about the facts and history .

  • 20/01/2016 at 2:28 pm
    Permalink

    “Secularism is a belief system that rejects religion, or the belief that religion should not be part of the affairs of the state or part of public education. ” . After writing ‘definition of secularism’ on Google I found the first sentence .

  • 20/01/2016 at 4:20 pm
    Permalink

    Dear Wajahat masood SB, hope you will be safe & sound this article was the first interaction with you . very nice and excellent effort. Please keep it up

    .Please also refer me for the complete speech of Quaid e Azam on 11 August 1947

Comments are closed.