ایک سیاح اور میں


شام کا وقت تھا میں اپنی گاڑی سڑک کے کنارے کھڑی کر کے آفس کی طرف بڑھ رہا تھا کہکسی نے پیچھے سے آواز دی، میں رک گیا۔ ”کیا آپ صحافی ہیں؟ “ ایک شخص نے اردو میں مجھ سے پوچھا۔ حلیے سے وہ کوئی سیاح دیکھائی دے رہا تھا اور خاصی عجلت میں لگ رہا تھا۔ جی ہا ں حکم کریں، میں نے جواب دیا۔ ”ہمارے کچھ ساتھی جو اسلام آباد سے گلگت آرہے تھے ان کو بابوسر ٹاپ پر روک لیا گیا ہے۔ ان کے ساتھ بچے بھی ہیں۔ مجھے پتہ چلا یہاں کوئی اخبار کا دفتر ہے اور صحافی اس سلسلے میں میری مدد کرسکتے ہیں تو میں آپ کا انتظار کر رہا تھا“۔ اس نے ایک لمحہ توقف کے بعد اپنی بات جاری رکھی“ پولیس کا کہناہے گلگت روڑ پر شام چھ بجے کے بعد سفرپر بابندی ہے، لہذا آپ صبح تک انتظار کریں۔ اب آپ بتائے وہ لوگ ٹاپ پر کیسے رات گزار سکتے ہیں جہاں نہ کوئی ہوٹل ہے اور نہ موسمی حالات اس بات کی اجازت دیتے ہیں۔ ان کے پاس سوائے واپس جانے کے کوئی اور آپشن موجود نہیں“۔

”اوہو، لیکن بھائی میں ایک صحافی ہوں میں کیا کرسکتا ہوں اس معاملے میں، “ میں نے بے بسی سے جواب دیا۔ آپ کسی انتظامیہ کے افسر سے بات کریں وہ آپ کی مدد کر دینگے“۔ لیکن وہ گویا بضد تھا اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔ ”کیا آپ کسی سے بات کر کے ہمارے ساتھیوں کو گلگت آنے کی اجازت دلوادیں، آپ صحافی ہیں یقیناًآپ کے تعلقات ہوں گے“۔ میں نے ایک لمحے کے لئے سوچاکہ مجھے کیا کرنا چاہیے۔ کس کو کال کروں اور کیا بات کرنے کا کوئی فائدہ بھی ہوگا؟ کیا سکیورٹی کے انتظامات کرنے والے میرے ایک فون کال پر اپنی پالیسی تبدیل کریں گے؟ اب میں اس سے کیا کہتا کہ میں نے تو سال ڈیڑھ سال پہلے بھی اسی طرح کے ایک مسئلہ پر وزیر اعلی سے گزارش کی تھی کہ گلگت میں جگہ جگہ لگے چیک پوسٹ کو ختم یا پھر کم کیا جائے کیونکہ ان کی موجودگی میں سیاح خصوصا غیر ملکی سیاح علاقے کا کوئی اچھا تاثر نہیں لیتے اور مقامی لوگوں کو تو ویسے بھی ان چیک پوسٹس پر ٹریفک جام کی وجہ سے اکثر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اب تو سیف سٹی پراجیکٹ میں لگے کیمروں کے بعدان کا کوئی خاص جواز بھی نہیں رہتا۔ خیر وزیر اعلی کی طرف سے تائید کے باوجود بھی اس پر کوئی پیشرفت نہ ہوسکی تھی تو اب میری ان سیاحوں کی اجازت کے لئے کال کس نے سننا تھا؟ بہرحال میں نے ان سیاح صاحب سے کہا میں کوشش کرتا ہوں شاید کوئی حل نکل آئے۔ ان کو شاید میرے جواب سے مایوسی ہوئی اور میں اس کو اسی حالت میں چھوڑ کر میں اپنے دفتر پہنچا لیکن میرے ذہن میں مسلسل یہ سوال گردش کرتے رہے کہ آخر یہ پانچ یاچھ کے بعد سفر پر پابندی کیوں ہے وہ بھی ایسے میں جب گلگت بلتستان میں مثالی امن قائم ہے۔

یقیناً گذشتہ کافی سالوں سے عوام کے تعاون اور حکومت کی کوششوں سے دہشت گردی کا کوئی معمولی سا بھی واقعہ پیش نہیں آیا۔ تو پھر کیا وجہ ہوسکتی ہے؟ ذہن میں آیا کہ ایک وجہ تو یہ ہوسکتی ہے کہ پولیس اور انتظامیہ اپنا کام آسان کرنے اور اپنی ذمہ داری سے جان چھڑانے کے لئے ایسا کر رہی ہے، اور دوسری وجہ اپنی اہمیت کا احساس دلانا ہے۔ بہر حال اس سال اس مسئلے پر کسی سیاح سے براہ راست بات کرنے کا میرا یہ پہلا موقع تھا۔ ماضی میں اسی طرح ایک غیر ملکی سیاح سے بات چیت کا اتفاق پیش آیا تھا جس سے پتہ چلا کہ وہ بھی ان سکیورٹی انتظامات سے سخت نالاں ہیں۔

وہ کوئی گورا صاحب اسلام آباد سے براستہ قراقرم ہائی وے گلگت پہنچا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ رات بھر سفر کے دوران کئی بار مختلف چیک پوسٹس پر رکنا پڑا اور ہر چیک پوسٹ پر انہیں بس سے اتارا کر چوکی میں پڑا ہوا ایک رجسٹر میں کوائف کے اندراج کرنے کو کہا گیا۔ یہ سلسلہ کئی بار دھرآیا گیا اور چلاس میں موجود ایک چیک پوسٹ پرگاڑی صبح پہنچی تو گورے کو شرارت سوجھی۔ وہ کہتا ہے کہ اس رجسٹر پر میں نے اپنا نام کی جگہ ایک مشہور کارٹون مکی ماؤس کا نام لکھ دیا اور پاسپورٹ نمبر درج کرنے کی جگہ بھی کچھ اور درج کریا۔ اسی طرح اور کالموں کو بھی مزاحیہ انداز میں پر کر نے کے بعد وہا ں سے چل دیا، وہاں چوکی پر معمور اہلکاروں کو اس بات کا احساس تک نہ ہوا کہ گورے نے کیا لکھ ڈالا۔ احساس ہوتا بھی کیسے کیونکہ گورے کی انگریزی پڑھنا اور سمجھنا حقیقتا کسی ڈاکٹر ی نسخے سے زیادہ مشکل کام ہے۔ خیر بات آئی اور گئی عین ممکن ہے اس طرح کے اور واقعات بھی رونما ہوئے ہوں۔

خیر بات ہورہی تھی اس پاکستانی سیاح کی تو مجھے یاد آیا کہ گزشتہ کافی دنوں سے کئی ہوٹل مالکان اور سیاحت سے منسلک دوستوں نے اس مسئلے کی طرف میری توجہ دلائی اورکچھ لکھنے کو کہا تاکہ مسئلہ کا کوئی حل نکل سکے۔ ان سے گفتگو سے مجھے لگا ان کی پریشانی جائز ہے جس کا فوری حل ڈھونڈے بغیر ہمارا ٹورزم کو فروغ دینے کا خواب شرمندہ تعبیر شاید نہ ہو۔ اسلام آباد سے بابو سر ٹاپ پر پہہنچتے پہنچتے تقریبا شام ہو جاتی ہے اور سیاحوں کو تو اس بات کا اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ گلگت بلتستان کے لئے سفر پر شام ہونے سے پہلے ہی پابندی لگا دی جاتی ہے۔ اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق وہ چلاس یا گلگت میں رات گزار رہے ہوتے ہیں لیکن یہ اچانک کے چیک پوسٹس ان کے پروگرام کو ستیاناس کردیتے ہیں اور وہ واپس مڑنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ نتیجہ اس کا یہ نکلتا ہے کہ یہاں کے ہوٹل ان کی راہ تکتے رہ جاتے ہیں۔ میں یقین سے کہ سکتا ہوں اگر شام کے بعد بابوسر ٹا پ سے سیاحوں کی گاڑیوں کو سفر کی اجازت دی جاتی تو گلگت بلتستان آنے والے سیاحوں کی تعداد کئی گنا زیادہ ہوتی۔ یہ موقع اب بھی ہاتھ سے نکلا نہیں اس پر غور کیا جاسکتا ہے۔

چونکہ گلگت بلتستان میں سیاحت کا موسم چند مہینوں پر مشتمل ہوتا ہے لہذا سیاحت سے تعلق رکھنے والے افراد اس امید پر سیاحت کے شعبے میں انویسمنٹ کرتے ہیں کہ ان مہینوں میں خوب سیاحوں کا رش ہوگا اور ان کو محنت کا پھل ملے گا لیکن جب ایسے مسائل حائل ہو جائیں گے تو مایوسی اور بدلی پھیل جائے گی۔ لہذا ہمیں اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کی اشد ضرورت ہے اور ایسی پالیسی بنانے کی ضرورت ہے جو سیاح دوست ہو۔ باہر سے آنے والے لوگ کو خوف محسوس نہ ہو بلکہ لگے جیسے وہ اپنے ہی علاقے میں ہیں۔ آج کل کے دور میں سکیورٹی یقیناًضروری ہے لیکن یہ سکیوٹی ایسی ہونی جاہیے جس سے مجرم خوف محسوس کرے نہ کہ عام انسان۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں