مجذوب بھی کر دے، دنیا بھی نہ چھین


\"maaidaمجذوب کیا ہے؟ جس نے جذب کیا ہو

کیا جذب کیا ہو؟خدا کو؟

کیسے؟

اس کا جواب تو خود شائد مجذوب بھی نہ دے سکے۔

کبھی فوم کے ٹکڑے کو پانی کی بالٹی میں ڈبویا ہے؟ پہلے وہ ٹکڑا پانی کو اپنے اندر جذب کرتا ہے۔پھر جہاں بھی اس ٹکڑے کو لے جائیے یہ پانی بہاتا جائے گا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کے یہ ٹکڑا پانی کا مجذوب ہے۔

اب اگر خدا بھی ہمارے دل میں ایسے ہے بس جائے تو؟ تو ہر طرف خدا دکھائی دے گا، ہر جز سے خدا جھلکے گا، ہر کوزہ دل سے خدا چھلکے گا۔

کبھی دوران نماز ایسی کیفیت ہوئی کہ جیسے کوئی آس پاس نہ ہو، کوئی دیوار، بشر، رنگ، دنیا کچھ نہ ہو۔

بس میں اور اللہ۔۔۔ یہ مجذوبیت ہی کی ایک کیفیت ہے۔ کبھی دعا کی شدّت اتنی ہوئی کہ لگا ہو بس اب غیب سے ا للہ کی آواز آنے کی دیر ہے۔ یہی مجذوبیت ہے۔ کبھی پریشانی میں ایسا لگا کہ اللہ نے ہر سمت سے حصار میں لیا ہوا ہے۔ ایسے حفاظت کر رہا ہے گویا مرغی نے اپنے چوزے کو پروں میں چھپا لیا ہو۔ کبھی لگا لاکھوں کا مجمع ہے، جانوروں کی بھیڑ میں کوئی مضبوطی سے ہاتھ تھامے مجمع کو چیرتا منزل کی طرف کھینچ رہا ہو ۔۔۔یہ مجذوبیت کا ہی ایک زاویہ ہے۔

مجذوب جب تک دنیا سے چھپا رہے، تب تک لوگ مولانا، عالم، پیر صاحب کہتے ہیں۔ جب بھانڈا پھوٹ جائے تو پاگل قرار دے دیتے ہیں، فقیر، مست، ملنگ کہتے ہیں۔

لیکن میرے خدا مجھے مجذوب نہیں بننا۔ مجھے ننگے پیر صحرا میں نہیں دوڑنا، مجھے دیوانہ نہیں ہونا، مجھے تو بس تیرا تھوڑا سا رنگ چاہیے، مجھے بس تھوڑا سا اپنا بنا، بس ذرا سی روشنی دکھا۔

نہیں میرے اللہ ہم مجذوب ہو گئے تو کار دنیا کون چلائے گا، مجھے دنیا کیسے ملے گی؟ مجھے دنیا بھی چاہیے یا رب۔

کیا؟

مجھے تو مل گیا تو سب مل جائے گا؟

ہیں؟

میں مجذوب ہو گیا تو سب رنگ میرے ہو جائیں گے؟

کیا ہم تیرے ہی بندے ہیں اور تجھ ہے کی طرف واپس جائیں گے؟

لیکن ابلیس تو نماز تک سکون سے نہیں پڑھنے دیتا۔ وہ مجھے تیرا کیسے ہونے دے گا؟

کہتا ہے بہت کام باقی ہے…چھوڑو یہ عبادت کا ڈھونگ، تم میرے آدمی ہو۔

اللہ اس کی گرفت بہت سخت ہے۔ ہم تجھے پانے کے لیے ایسے ترستے ہیں جیسے ندیدہ بچہ سڑک پر چلتے ہوئے دکان میں رکھی ٹافی کی برنی کو دیکھتا ہو۔ دل تو چاہتا ہے بھاگ کر اٹھا لو۔ لیکن ہاتھ اتنی سختی سے پکڑا ہوا ہے، چاہ کر بھی فرار ممکن نہیں۔ تو بس کسی طرح ابلیس سے پیچھے چھڑوا دے۔ مجھے مل جا۔ میرے دل میں بس جا۔

یا اسی دل میں بس جا جس میں دنیا ہے، یا دوسرا دل دے دے۔ ہاں یہ بھی ٹھیک ہے۔ میرے سینے میں دو دل دے دے اے خدا۔ ایک میں تو صرف تو۔ دوسرے میں باقی سب۔ ایک میں خدا، دوسرے میں مخلوق خدا۔ ایک میں سب کی چاہت، ایک میں صرف تیری چاہت۔

مجذوب بھی کر دے۔۔۔

دنیا بھی نہ چھین۔۔۔


Comments

FB Login Required - comments