کیا لبرل فاشسٹ واقعی موجود ہیں؟


safdar saharجماعت اسلامی کے 73 سالہ امیر مطیع الرحمان نظامی کو بدھ کی صبح ڈھاکہ سینٹرل جیل میں پھانسی دی گئی۔ قبل ازیں بھی جماعت اسلامی کے کچھ معمر رہنمائوں کو سزائے موت دی گئی۔ پاکستان کے لبرل اور ترقی پسند مفکرین کا اس سزا کےحوالے سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔ سنجیدہ اور متحمل مزاج دانشوروں کی طرف سے اس پھانسی کی مذمت کی گئی جس کی بنیادی وجہ ریاست کا متعصبانہ رویہ اور غیر شفاف ٹرائل جیسے عوامل ہیں۔ انصاف اور شفاف ٹرائل کی مانیٹرنگ کے اداروں کی طرف سے بھی اس پھانسی کو متمدن عدالتی رویوں کی خلاف ورزی قرار دیا جا چکا ہے۔ پاکستان کے روایت پسند اور دائیں بازو کے حلقوں کی طرف سے بھی اس پھانسی کی مذمت کی گئی ہے جو قابل فہم اور حسب توقع ہے۔ روشن خیال اور انسان دوست حلقوں کی طرف سے بھی اس کی مذمت سامنے آنا خوش آئند ہے کہ ظلم اور نا انصافی کہیں بھی ہو وہ انسان کے خلاف ہی ہوتی ہے۔ انسان کش ہر رویہ ہم میں سے ہر ایک کے لیے نا قابل قبول ہونا چاہیے کہ بنیادی طور پر انسانیت اسی کا نام ہے۔ مگر وائے افسوس کہ کچھ جذباتی لبرلز کی طرف سے اس موقع پر طنز کے تیر برسانے کی غیر معقول کوشش کی گئی۔ کچھ کو پاکستانیوں کی طرف سے اس پھانسی پر تنقید کرنے پر اکبر بگٹی کا ریاستی قتل نظر آیا تو کچھ کو بلوچستان اور سندھ میں انسانوں کے ورائے عدالت قتل کی گمبھیر صورت حال نظر آئی۔ جاننا چاہیے کہ ایک مہذب، متمدن اور انسان دوست شخص کہ لیے ظلم اور نا انصافی کے مظاہر قابل مذمت ہونے چاہئیں۔ جہاں بھی انسان کا لہو ارزاں ہو، مہذب انسان کا دل لہو ہونا چاہیے۔ خنجر کہیں چلے تڑپنا ہمارا فرض ہے کہ سارے جہاں کا درد انسان دوستوں کی وراثت ہے۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ انسان کا لہو قابل حرمت ہے۔ اس کا احترام سب انسان دوستوں کا مشترکہ ورثہ ہے۔

مارٹن نیمولر جرمنی کے اینٹی نازی ماہر الہیات تھے۔ جنگ عظیم کے بعد اپنے لیکچرز میں وہ عموما اپنی ایک نظم ضرور دہراتے ۔۔۔ اور یہ نظم آج کے پاکستان میں واقعتا دہرائے جانے کے قابل ہے۔ یہ نظم ان لبرل دوستوں کے لیے پیش خدمت ہے جو بنگلہ دیش کی طرف سے جماعت اسلامی کے رہنما کی غیر شفاف اور متعصبانہ پھانسی کے خلاف مذمت کی شدت کو کم کرنے کے لئے جواز تراشی کر رہے ہیں۔

پہلے وہ سوشلسٹوں کے لیے آئے

 میں نہ بولا

۔۔۔۔ کیونکہ میں سوشلسٹ نہ تھا

پھر وہ تاجر یونینوں کے لیے آئے

 میں نہ بولا۔۔۔

 کیونکہ میں ٹریڈ یونینسٹ نہ تھا

پھر وہ یہودیوں کے لیے آئے

 میں نہ بولا ۔۔۔۔۔

کیونکہ میں یہودی نہ تھا۔

اور پھر وہ میرے لیے آئے

۔۔۔ اور اس وقت میرے لیے بولنے والا کوئی بھی نہ رہا تھا۔

جماعت اسلامی سے نظریاتی اختلاف کیجیے کہ یہ آپ کا جمہوری اور انسانی حق ہے۔ مگر اس اختلاف میں انسان دوستی کو پس پشت نہ ڈالیے۔ انسانی معاشرہ احساس سے جنم لیتا ہے۔ انسان نے صدیوں کی محنت کے بعد مل جل کر رہنا سیکھا ہے۔ انسانی اور غیر انسانی معاشروں کا بنیادی فرق یہی ہے کہ انسان اختلاف کے باوجود بھی اجمتماعی زندگی کو متوازن رکھ سکتا ہے۔ آپ دائیں کے ہیں یا بائیں کے، روایت پسند ہیں کہ روایت شکن، مذہب پسند ہیں کہ مذہب بیزار، سائنس دوست ہیں کہ سائنس دشمن۔۔۔۔ ایک بات پر تو متفق ہو جائیے کہ انسان اس کائنات کا مرکز ہے اور انسانی جان کی حرمت اجتماعی زندگی کی بنیاد ہے۔ انسانی معاشرہ تخلیق کرنا ہے تو انسان کی جان کا احترام کرنا سیکھیے۔ سیاسی ہنگامہ آرائیاں ہر قوم کی تاریخ کا حصہ ہیں۔ اجتماعی بندوبست کی بنیاد انصاف کو بنائیے، انتقام کو نہیں۔


Comments

FB Login Required - comments