مطیع الرحمن نظامی کی پھانسی اور جبر کی تمثیل


farnood01تاریخ کا سبق یہ ہے کہ تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا گیا۔ بنگلہ دیش میں حسینہ واجد نے جو گھاٹ سجا رکھا ہے یہ اسی برس تک وہاں فرعونوں نے مصر کے بازاروں میں بھی سجائے رکھا تھا۔ عبدالقادر عودہ شیخ حسن الہضیبی اور شیخ سید قطب جیسے نابغہ ہستیوں کو پیرانہ سالی میں راتوں رات سولی چڑھایا گیا۔ اخوان کے بانی شیخ حسن البنا قاہرہ کی شاہراہ پر دن دہاڑے قتل کیے گئے، جن کے جنازے میں بھی فقط پانچ افراد کو شمولیت کی اجازت ملی۔ ہزاروں کارکن ملک بدر کیے گئے اور سینکڑوں راہنما دار پہ کھینچ دیئے گئے۔ اگر چاہتے ہوں کہ روح چھلنی نہ ہو تو زندانوں میں جوانی کاٹنے والی زینب الغزالی کی ’’رودادِ قفس‘‘ کبھی مت پڑھیئے گا۔ یہ ابھی کل کا وہ منظر بھی مت دیکھیئے گا جس میں آرمی کا شارپ شوٹر اخوانی رہنما محمد البلتاجی کی جواں سال بیٹی کو اسنائیپر گن سے نشانہ بناتا ہے۔ ہاں اسنائپر سے تاک کے ماری گئی اس بچی سے انسپائریشن لینی ہو تو پھر وہ جملے ضرور سنیئے گا جو نزع کے ہنگام اس کے لب سے پھوٹتے ہیں۔ اپنے ہی دھج سے مقتل کی طرف جانے کی شان تو سلامت رہتی ہی ہے، مگر وہ جملے چراغ کو اور بھی فروزاں کردیتے ہیں جو مطیع الرحمن نظامی جیسے لوگ موت کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر کہہ جاتے ہیں۔ مصر میں اخوان کے ساتھ مسلسل روا رکھے گئے اس جبر کے نتائج کیا ہوئے؟ توپ وتفنگ چلے، تیر و تبر نکلے، خون پسینہ بہا، مگر حاصل؟ بات پتہ ہے کیا ہے؟ مصائب و آلام کی سیاہ راتوں میں ایک باریک سی لکیر کھنچتی ہے۔ صبر اور جبر کے بیچ کی لکیر۔ اس لکیر کی ایک جانب کچھ وہ کھڑے ہوجاتے ہیں جو صبر کرتے ہیں اور دوسری جانب وہ بے صبرے جو جبر کا جواب جبر سے ہی دینا چاہتے ہیں۔ صبر کے دائروں سے ڈاکٹر محمد مرسی نمودار ہوتے ہیں اور جبر کے دائروں سے ڈاکٹر ایمن الظواہری۔ یہ ایمن الظواہری اخوان کے ہی تو کارکن تھے۔ گھر میں برستے کوڑوں سے ہمیشہ مخالف کو جیت کی نوید سنائی دیتی ہے۔ کیا یہ انتہائی سادہ سی بات نہیں کہ اظہار پہ عائد بندشوں سے بغاوت ہی جنم لیتی ہے؟

یہاں پاکستان میں جنرل ضیا الحق نے پاکستان پیپلز پارٹی پہ عرصہ حیات تنگ کیے رکھا۔ بانی کوئے یار سے نکالے گئے اور سوئے دار پہنچا دیئے گئے۔ کم سن بے نظیر بھٹو اور بزرگ نصرت بھٹو کو سڑکوں پہ رسوا کیا گیا۔ قیادت جلاوطن کی گئی اور چوک چورا ہوں پر کارکنوں کی پشت پہ تازیانے برسائے گئے۔ گیارہ برس تک بنیادی انسانی حقوق معطل کر کے بھی ایک آمر کے ہاتھ کیا آیا؟ ہم نہیں جانتے کہ پیپلز پارٹی کی طبعی عمر کیا ہو سکتی تھی، مگر جنرل ضیا کے جور وستم نے اسے آب حیات پلا دیا۔ جمال گرسل نے ترکی کے منتخب وزیراعظم عدنان میندریس کا دھڑن تختہ کرکے مرکزی راہنماؤں سمیت لٹکا دیا تھا، مگر حاصل؟ وہ روح ستر برس کی آنکھ مچولیوں کے بعد کسی طور طیب اردگان میں حلول کر گئی۔ عوام نے مسلسل چوتھی مدت کے لیے ان کا انتخاب کیا ہے۔ ایک حیرت کدہ تعمیر کرنے کے بعد اب طیب اردگان بھی اپنی گرفت کمزور کیے جا رہے ہیں۔ کیوں؟ وہ جبر جو خود انہوں نے کبھی سہا تھا، وہ اب دوسروں کے لئے روا رکھے جا رہے ہیں۔ سمجھتے ہیں کہ اظہار رائے جیسا مقدس حق غصب کر کے وہ باقی رہ جائیں گے، مگر نہیں جانتے کہ ان سے پہلے جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا، اسے بھی اپنے خدا ہونے پر اتنا ہی یقیں تھا۔ کسی کے جبر سے آپ کی فتح طلوع ہوئی تھی، آپ کے جبر سے کسی اور کی کامیابی ظہور پذیر ہو گی۔ یعنی ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں۔

ایک جبر سے حسینہ واجد گزری تھیں۔ اس راہ میں ان کا خاندان مارا گیا تھا۔ وہ بے آسرا و بے سہارا ہوگئی تھیں۔ جبر کے دن تھوڑے ہوتے ہیں۔ گزرتے ہیں، سو گزرگئے۔ وقت نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔ اقتدار کی زمام ہاتھ میں دے دی۔ خداجانے کیوں، مگر اایوانوں کے تخت انسانوں کے بخت کے لئے آخری آرام گاہ ثابت ہوئے ہیں۔ جبر کی وہی زنجیر حسینہ واجد نے لہرائی ہے جس کے نشان وہ اپنے پاؤں میں دیکھتی ہیں۔ انہوں نے کیسے یہ تصور کر لیا کہ فطرت کے اصول ان کے لئے مختلف ہوں گے۔ رہنما کے لئے اقتدار تک رسائی کا مقصد اگر محض انتقام ٹھہر جائے، تو کم ظرفی پھر کسے کہیئے۔ دنیا ایک مختلف سمت پہ محو سفر ہے اور حسینہ واجد ماضی کی عقوبت گاہوں میں بیٹھ کر کلیجے چبا رہی ہیں۔ تاریخ سے پوچھ تو لیا ہوتا کہ کیا اس طرح جماعت اسلامی کا وجود مٹ جائے گا؟ اس سے پہلے کتنے وجود مٹے ہیں جو اب مٹے گا۔ برا وقت بتا کر نہیں آتا، مگر کچھ لوگوں کو تو وہ آکر بھی نہیں بتاتا کہ میں آگیا ہوں۔ یہ کم نصیب وہی لوگ ہیں جنہیں اقدام کا موقع ملے تو غیر فطری برتاؤ پہ اتر آتے ہیں۔ غیر فطری عمل کا رد عمل بھی ہمیشہ غیر فطری ہی رہا ہے۔ سفید ریش بزرگوں کو پھانسی کے پھندوں پہ ٹانگ کر انسانیت کی تذلیل کرنے والی خاتون کو اپنے پیش روؤں کے مقبروں پہ مراقبہ ضرور کرنا چاہیئے۔ ممکن ہے یہ کشف ہوجائے کہ آپ کسی کا خون پی نہیں رہیں، بلکہ بنگلہ دیش کے کسی ایمن الظواہری کو خون پلا کر بڑا کر رہی ہیں۔ استقامت سے جھولنے والے بوڑھے درویشوں کا صبر کسی آسیب کی طرح جابروں کا تعاقب تو بہر طور کرے گا ہی کہ صبر کا انتقام بہت بے رحم ہے، مگر جبر سے جنم لیتے جبر کی تاریخ بھی کچھ کم بے رحم نہیں ہوتی۔ اس سچائی کا ادراک اگر پورا کنبہ کھو دینے والی حسینہ واجد کو بھی نہیں، تو پھر شاید کسی کو نہیں ہو پائے گا۔

 


Comments

FB Login Required - comments