شعر، شاعر اور دیگر وغیرہ وغیرہ  معاملات


Peerzada Salmanکچھ سال قبل میں نے ادبی محافل میں اٹھنا بیٹھنا شروع کیا، مجھے یہ گمان تھا کہ مستقل قنوطیت کے اثر سے بچنے کا ایک حل یہ ہے کہ شاعروں، افسانہ نگاروں، مصوروں، موسیقاروں اور اداکاروں میں بیٹھا جاے کیوں کہ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو زندگی کے بوجھ کو بانٹنا جانتے ہیں، جس کے شاید یہ معنی ہیں کہ ان لوگوں میں تعصب اور نفرت کا مادہ کم پایا جاتا ہے …

میں نے ایک ہفتہ وار مجلس میں جانا شروع کیا جہاں ہر نشست میں شاعری کا ایک ٹکڑا اور ایک نثر پارہ تنقید کے لیے پیش کیا جاتا ہے، ہر نشست میں کبھی 10، کبھی 20 لوگ جمع ہوتے ہیں، کسی ایک سینئر کو صدر بنا دیا جاتا ہے اورجب شاعری اور نثرکے حصّے پڑھ لیے جاتے ہیں تو ان پر بے لاگ تنقید ہوتی ہے…لطف تو آیا ، مگر ننھا سا غم یہ ہوا کے لوگ لکھ رہے ہیں، پڑھ نہیں رہے، چلیے یہ تو ایک موضوعی (subjective  ) سی بات ہے، سو اسے رہنے دیجیے…

یہاں میرے کچھ بہت اچھے دوست بنے، جس پر میں شاد ہوں، ان میں کاشف رضا، ، محمّد امجد،اور کرن سنگھ شامل ہیں… کچھ ہی دنوں میں میں نے محسوس کیا کہ شاعروں اور ادیبوں میں دھڑے بندیاں ہیں، یہ کوئی ایسی غیر معمولی بات نہ تھی، ایسا تو انسانوں میں ہوتا ہی ہے، لیکن پھر مجھے احساس ہوا کہ یہ groups علمی اور ادبی رجحانات کی وجہ سے نہیں بنے ہیں…

اس محفل کے کرتا دھرتا جو دوآدمی تھے وہ دونوں اہل تشیع مسلک سے تعلق رکھتے ہیں، کچھ ہی دنوں میں ایک group نے محفل میں آنا کم کر دیا، جب میں نے وجہہ پوچھی تو انہوں نے بغیر کسی عار کے کہا ‘یہاں تو شیعہ lobby ہے، اپنے اپنے لوگوں کو پڑھوایا جاتا ہے’… اور یہ بات کرتے وقت ان کے چہروں پر غیظ و غضب تھا، میں نے کہا بھائیو، ادیبوں کو اس طرح نہیں سوچنا چاہیے، اور اگر ایسا ہے بھی تو آپ ان سے بات کر لیں تاکہ سب کو پڑھنے کو موقع ملے… مگر ایسا نہ ہوا اور اس دھڑے نے محفل میں آنا چھوڑ دیا ۔۔۔

پھر یوں ہوا کہ ان میں سے کچھ لوگوں نے جو میرے فیس بک  پر دوست بن چکے تھے،مزید کمال دکھایا… ان میں سے ایک کا امریکا میں رہنے والے ایک شاعرسےکسی بات پر فیس بک پر جھگڑا ہو گیا، امریکا میں رہنے والے شاعر کا مسلک بھی ذرا مختلف تھا، جب جھگڑے میں کچھ دوسرے شاعر بھی شامل ہوگئے تو میں نے دیکھا کے امریکا میں رہنے والے شاعرکو اس کے فیس بک تھریڈ پر ایسی ایسی مادر پدر آزاد گالیاں دی گئیں کہ ایک مکمل لغت مرتب کی جا سکتی ہے ، اس بیچارے کی ماں کو وہ کچھ کہا گیا کہ شاید وہ کچھ دنوں تک ٹھیک سے سو بھی نہ پایا ہو… میں ششدر رہ گیا کہ یہ سب کیا ہے، میں تو تخلیق کاروں کو ایک قبیل کے افراد سمجھتا ہوں جن میں چھوٹی چھوٹی انسانی خامیاں ہوں گی لیکن وہ اجتماعی حیثیت میں معاشرے کے کرخت پیکر میں گداز پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں، مگر یہ حضرات تو خود معاشرے کا سخت اور کرخت پیکر ہیں…

اب اس تصویر کا ایک اور رخ دیکھیے… غالب جیسے انا زاد کو مومن کی تعریف کرتے ہوے کوئی جھجک نہ ہوئی، میر کے لیے اس کا شعر تو نہایت عمدہ ہے… مگر تعصّب کے علاوہ ہمارے ہاں کے چھٹ بھیے شاعروں کوجو غم کھاے جاتا ہے وہ حسد کا ہے، کسی دوسرے کی تعریف کرنا تو دور (اگر اس کا تعلق ان کے گروپ سے نہیں ہے) اس کی تعریف سننا بھی گوارا  نہیں…

میں گزشتہ دو ایک برس سے غزل کی صنف سے دور ہوتا جا رہا ہوں، میری دلیلیں حالی کی طرح پختہ تو نہیں، بس میں غزل کی صنفی طور پر محدود اور متن کی بے باکی کے نا ہموار جنسی تعلق سے سمجھوتہ (reconcile  ) نہیں کرپا رہا ہوں… ایسے میں میں نے ایک شاعر کی غزلوں میں صنف اور متن کو آج کے آہنگ میں ایک دوسرے سے والہانہ طور پرلپٹے ہوے محسوس کیا…میں نے اس کی چند غزلوں کو سوشل میڈیا پردوستوں کے سامنے پیش کیا، ایک نامور کالم نگارکو،جن سے میں زندگی میں چار یا پانچ بار ہی ملا ہوں، وہ غزلیں پسند آئیں اور انہوں نے اس شاعر کا ذکر اس کی غزل کے ساتھ اپنے کالم میں کر دیا… ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ شاعر کی توصیف ہوتی، مگر ہوا یوں کہ اس کے پیچھے بہت سے شاعرہاتھ دھو کرپڑ گئے، ایک نے اس کا نام لیے بغیر یہ بحث چھیڑ دی کہ شاعری کیا ہوتی ہے اور اب ‘ہمیں’ بتایا جاے گا کہ شاعری کیسے کی جاتی ہے، بات یہاں پر ختم نہ ہوئی، آٹھ شاعروں نے اس شاعر کو اپنی فیس بک لسٹ سے  خارج کر دیا بغیر اس شخص سے کلام کیے، اور اب وہ بیچارہ کہیں کسی محفل میں ان کے سامنے آ جاتا ہے تو اس کی طرف دیکھتے بھی نہیں ہیں…

میرا گمان ہے کہ اردو ادب، خاص طور پر شاعر اور شاعری کا مستقبل تابناک، روشن، اور خوش کن وغیرہ وغیرہ ہے…


Comments

FB Login Required - comments