جوگندر ناتھ منڈل نے پاکستان چھوڑتے ہوئے کیا کہا؟  (2)


پہلا حصہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

1945 میں جب لارڈ ویول نے آل انڈیا مسلم لیگ کو ہندوستان کی مرکزی کابینہ میں شامل کیا تو اس کابینہ میں مسلم لیگ نے ایک غیر مسلم شخص جوگندر ناتھ منڈل کو بھی نامزد کیا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد جوگندر ناتھ منڈل کو پاکستان کی مجلس قانون ساز کے پہلے اجلاس کی صدارت کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ جوگندر ناتھ منڈل کو پاکستان کی پہلی کابینہ مین وزیر قانون کا قلمدان دیا گیا۔  قرار داد مقاصد کی منظوری کے بعد جوگندر ناتھ منڈل خود کو پاکستان میں غیر مطمعئن محسوس کرنے لگے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اس قرار داد کے ذریعے پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق پامال ہوئے ہیں۔ چنانچہ 1950 میں وہ پاکستان کی شہریت ترک کر کے ہندوستان منتقل ہو گئے جہاں سے آٹھ اکتوبر 1950 کو انہوں نے اپنا استعفیٰ بھجوا دیا جو 15 اکتوبر 1950 کو منظور ہوا۔ جوگندر ناتھ منڈل نے اپنی بقیہ زندگی کلکتہ ہی میں گزاری اور 5 اکتوبر 1968 کو وفات پائی۔

آئیے دیکھتے ہیں جوگندر ناتھ منڈل نے اپنے استعفیٰ میں کیا لکھا تھا۔ دوسرا حصہ ملاحظہ فرمائیں

معاہدہ دہلی کے نفاذ کی سنجیدہ خواہش کا نہ ہونا:

(23)بنگال سے ہندوﺅں کا وسیع پیمانے پر انخلاء مارچ کے اخیر میں شروع ہوا۔ ایسا لگتا تھا کہ تھوڑے ہی عرصہ میں تمام ہندو انڈیا ہجرت کرجائیں گے۔ بھارت میں جنگی نعرہ بندہ ہورہا تھا۔ صورتحال خاصی نازک ہو چلی تھی۔ ایک قومی آفت ناگزیر نظر آتی تھی۔ تاہم متوقع تباہی 8 اپریل کے دہلی سمجھوتہ سے ٹل گئی۔ دہشت زدہ ہندوﺅں کے پہلے سے ہارے حوصلوں کی بحالی کے مطمع نظر سے میں نے مشرقی بنگال کا ایک بھرپور دورہ کیا۔ میں نے ڈھاکہ، باریسال، فرید پور، کھلنا اور جیسور اضلاع میں متعدد علاقوں کا دورہ کیا۔ میں نے درجنوں بڑے اجتماعات سے خطاب کیا اور ہندوﺅں سے کہا کہ حوصلہ قائم رکھیں اور اپنے پرکھوں کے گھر بار چھوڑ کر نہ جائیں مجھے یہ توقع تھی کہ حکومت مشرقی بنگال اور مسلم لیگی لیڈران معاہدہ دہلی کی شرائط پر عمل درآمد کریں گے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ مجھے احساس ہونے لگا کہ نہ تو حکومت مشرقی بنگال اور نہ ہی مسلم لیگی قائدین معاہدہ دہلی پر عمل درآمد کرنے کے معاملہ میں حقیقی طور پر سنجیدہ ہیں۔ مشرقی بنگال کی حکومت نہ صرف یہ کہ دہلی سمجھوتہ میں قیاس کردہ مشینری کی تشکیل پر تیار نہیں ہے بلکہ اس مقصد کے لئے موثر اقدامات کرنے پر بھی آمادہ نہیں۔ بہت سے ہندوؤں کو، جو دہلی سمجھوتہ کے فوراً بعد اپنے آبائی قصبوں کو لوٹ آئے، ان کے گھروں اور زمینوں جن پر اس دوران مسلمان قابض ہوچکے تھے کا قبضہ نہیں دیا گیا۔

مولانا اکرم خان کی اشتعال انگیزی:

(24)لیگی لیڈران کے ارادوں کے بارے میں میرے شکوک اس وقت یقین میں بدل گئے جب میں نے مولانا اکرم خان، صوبائی مسلم لیگ کے صدر کا ایڈیٹوریل تبصرہ ”محمدی“ نامی ایک جریدے کے بیساکھ ایشو میں پڑھا، ڈاکٹر اے ایم مالک، پاکستان کے اقلیتی معاملات کے وزیر کے پہلے ریڈیو خطاب، جس میں انہوں نے کہا تھا ”حضرت محمدﷺ نے بھی حتیٰ کہ عرب میں یہودیوں کو مذہبی آزادی دی“ پر تبصرہ کرتے ہوئے مولانا اکرم خان نے کہا”ڈاکٹر مالک نے بھی کیا ہی اچھا کیا ہوتا، اگر انہوں نے اپنی تقریر میں عرب کے یہودیوں کے بارے میں کوئی حوالہ نہ دیا ہوتا۔“ یہ سچ ہے کہ حضرت محمدﷺ نے عرب میں یہودیوں کو مذہبی آزادی مرحمت فرمائی، لیکن یہ تاریخ کا پہلا باب تھا، آخری باب میں حضرت محمدﷺ نے قطعی ہدایات دیں جو کچھ یوں ہیں:”تمام یہودیوں کو عرب سے نکال باہر کرو۔“ ایک ایسا شخص جو مسلم کمیونٹی کی سیاسی، سماجی اور روحانی زندگی میں بہت اعلیٰ رتبہ رکھتا ہو کے اس ایڈیٹوریل تبصرے کے باوجود بھی میں نے کچھ توقعات وابستہ رکھیں کہ نورالامین وزارت اتنی غیر مخلص نہیں ہوگی۔ لیکن میری یہ توقعات اس وقت مکمل طور پر بکھر گئیں جب مسٹر نورالامین نے دہلی سمجھوتہ کے حوالے سے جو واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ اقلیتوں کے دل میں اعتماد بحال کرنے کے لئے ان کے نمائندوں میں سے ایک کو حکومت مشرقی ومغربی بنگال کی وزارت میں لیا جائے گا، ڈی این براری کو اقلیتوں کی نمائندگی کے لئے بطور وزیر چنا۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں