انسان  بڑا کیسے بنے؟


lubna mirza 1جب ہم بچے تھے تو پاکستان میں‌ صرف ایک ٹی وی چینل ہوتا تھا جس کو پی ٹی وی کہتے تھے۔ وہ صرف شام میں‌ چلتا تھا۔ ایک مرتبہ اس میں‌ ایک ڈرامہ آیا جو مجھے ابھی تک یاد ہے۔ اس میں‌ ایک چھوٹے سے کچے گھر میں‌ ایک بوڑھا آدمی اور اس کی بیوی رہتے تھے۔ ایک دن وہ لوگ پرانے برتن صاف کررہے تھے تو ایک دم چراغ میں‌ سے جن نکل آیا۔ وہ ایک لمبا چوڑا اور نہایت طاقت ور جن تھا جو دنیا میں‌ کچھ بھی کرسکنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ اس نے زور دار قہقہہ مارا اور بولا، کیا حکم ہے میرے آقا؟ اس کو دیکھ کر یہ دونوں‌ بوڑھے پہلے تو بے حد خوفزدہ ہوگئے پھر اس سے انہوں‌ نے اپنی ضروریات کے سوال کرنے شروع کئیے۔ جاؤ کوڑا باہر پھینک آؤ، نکڑ کی دکان سے چورن لے آؤ یا جھاڑو لگاؤ۔ پھر ایسے ہی وقت گذرتا گیا اور جن چھوٹا ہوتا چلا گیا، یہاں‌تک کہ ایک دن وہ سکڑ کر بونا سا بن گیا۔

اس کہانی سے پتہ چلتا ہے کہ جن کاموں‌ میں‌ لگا لو انسان بھی وہی بن جاتے ہیں۔ اپنے دماغ کو استعمال نہ کریں‌ اور جھاڑو لگاتے رہیں ‌یا اس کو استعمال کرکے نیٹو روبوٹ بنا لیں یہ ہر انسان اور قوم کے ہاتھ میں‌ہے۔ نیٹو سارا دن ادھر ادھر گھر میں‌ گھومتا اور صفائی کرتا ہے۔ جب اس کی بیٹری کم ہوجائے تو خود ہی اپنے اسٹیشن پر چارج کرنے چلا جاتا ہے۔ اس نے سارے گھر کا نقشہ بھی اپنی مصنوعی زہانت سے سیکھ لیا ہے۔

اگر سوچا جائے تو ہر پیدا ہوا بچہ ایک جن ہے اور ان جنوں‌ کو ہمارا سماجی، معاشرتی، سیاسی اور تعلیمی نظام بونے بنانے میں‌ مصروف ہے۔ جو ادھر ادھر نکل جاتے ہیں‌ ان کو دوسرے ممالک مزید بڑے جن بناتے ہیں‌ اور ان کی صلاحیتوں‌ سے مستفید ہوتے ہیں۔

ہماری ویسے آپس میں‌ دوستی نہیں‌ تھی لیکن جب بھی امتحان ہوتے تو الفابیٹ کی وجہ سے آگے پیچھے سیٹ ملتی۔ اچھی سی لڑکی تھی وہ۔ تمھارے نوٹس کدھر ہیں، ایک بار اس نے پوچھا تو میں‌ نے مذاق میں‌ کنپٹی پر تھپک کر کہا کہ یہاں‌! وہ اس بات سے بہت متاثر ہوئی کہ میں‌ نے سارا پرچہ خود ہی کر لیا۔ ہمارے کالج کے زمانے میں‌ نقل کی وبا نے تقریباً ہر کسی کو اپنی لپیٹ میں ‌لے لیا تھا۔ حالانکہ گیس پیپر بھی نکلتا تھا اور پچھلے پانچ سالوں‌ کے سوال ہی بار بار ظاہر ہوتے تھے۔ ان پچیس سوالوں‌ کو یاد کرلینا اتنا کوئی مشکل کام بھی نہیں تھا۔

نقل کرنے سے بنیادی طور پر ہم خود کو یہ بتا رہے ہوتے ہیں‌ کہ ہمارے اندر صلاحیت نہیں۔ جب ہم کوئی بھی امتحان اپنی طاقت سے پاس نہیں‌ کرتے تو ہمارے دل اور دماغ میں‌ کبھی بھی ایسی خود اعتمادی پیدا نہیں‌ ہوتی کہ آگے چل کر دنیا کا مقابلہ کیا جاسکے۔ ایک طرف گورنمنٹ اسکولوں‌ کی تدریسی کتابوں‌ کا لیول اور کوالٹی ٹھیک نہیں، اوپر سے رٹا لگوانے والے ٹیچر اور تیسرے نقل کروانے والے والدین۔ سوچئیے دنیا سے ہم اتنا پیچھے کیسے رہ گئے؟ ایک کہاوت ہے کہ “پہیہ دوبارہ ایجاد کرنے کی کیا ضرورت ہے؟” اگر ہمارے اپنے ملک میں‌ لوگ اچھی ٹیکسٹ بکس نہیں‌ لکھ سکتے ہیں‌ تو جو پہلے سے بنی ہوئی ہیں‌ ان کو پڑھائیں۔ جس طرح‌ میڈیکل کالج میں‌ ہم لوگ گائٹن فزیالوجی اور گریو اناٹومی پڑھتے تھے بالکل ویسے ہی کے جی سے ہی ترقی یافتہ ملکوں‌ کی کتابیں‌ پڑھائی جا سکتی ہیں۔

ہم جس منزل کا تعین کریں ‌گے وہیں‌ پہنچیں‌ گے۔ اگر سو سال کے بعد کی دنیا کے لئیے تیاری کرنی ہے تو سو سال پرانی کتابیں‌ وہاں‌ ہمیں‌ نہیں لے جا سکیں‌ گی۔

جہاز چلانا ہو یا سرجری کرنی ہو، کپتان یا سرجن کو خود پر یقین ہونا چاہئیے کہ وہ ان کاموں‌ کو کر سکتے ہیں یا نہیں۔ زندگی میں‌ آگے بڑھنے کے لئیے بہت سارے اور بہت مشکل امتحان دینے ہوتے ہیں۔ جب ایک سوال سامنے ہو تو یا تو وہ آپ کو آتا ہے یا نہیں‌۔ اس کو مومنٹ آف ٹروتھ کہتے ہیں۔ جب تک اس لمحے کا سامنا نہ کیا جائے، ہم حقیقت سے لاعلم رہیں‌ گے۔ ہر کوئی افلاطون یا آئن سٹائن نہیں‌ہوتا لیکن ہم انفرادی طور پر اپنی بہترین کاوش ضرور کرسکتے ہیں۔

بہرحال اس نے مجھے کئی بار اپنے گھر بلایا کہ میں‌ چاہتی ہوں ‌کہ تم میری فیملی سے ملو تو میں‌ نے کہا کہ ٹھیک ہے کسی دن چلیں‌ گے۔ پھرایک دفعہ پرچہ ختم ہوگیا تو میں ‌اس کے گھر گئی۔ ان لوگوں‌ کا بڑا سا اچھا خوبصورت گھر تھا جس میں‌ ہلکے سے رنگ کا کارپٹ لگا ہوا تھا۔ وہ مجھے اس لئیے یاد رہ گیا کہ جب بھی کارپٹ لینا ہو تو ہم لوگ خود ڈارک کلر کا لیتے تھے تاکہ اس پر مٹی آسانی سے نظر نہ آئے۔ اس کی امی سے بھی ملی جو خود بھی ڈاکٹر تھیں‌اور اس کی بہن بھی۔ گھر کے برابر میں‌ انہوں‌ نے چھوٹا سا ہسپتال کھولا ہوا تھا۔ اس کی بہن کچھ دیر کو چلی گئی واپس آئی تو بولی تڑواں‌ ہوئے ہیں۔ تین بچے اکھٹے زندہ پیدا کرنا یا کروانا کوئی آسان بات نہیں۔ اچھا تھا کہ اس میں‌ یہ ہنر تھا کہ وہ اپنے ملک کے لوگوں‌ کی زندگی پر مثبت اثر ڈال سکے۔ پھر اس نے پلاؤ بنایا اور ہم سب نے مل کر کھایا۔

میری نئی دوست نے اپنی تصویریں‌ دکھائیں۔ اس کے ابو مر چکے تھے۔ ان کی خاندانی کہانی کافی دلچسپ تھی۔ ان کی امی کی سائڈ کے خاندان میں‌ سے کسی نے ابا کے خاندان میں‌ کسی کو قتل کیا تھا اور اس کے بعد قاتلوں‌ کو سزا دینے کے بجائے ان کے خاندان والوں‌ نے اس کی ماں‌ اور ایک اور لڑکی اس کے ابا کے خاندان کو دے دی تھیں۔ اس کے ماں‌ اور باپ کی عمروں‌ میں‌ کافی فرق تھا اور وہ اسکول میں‌ پڑھتی تھیں۔ اس کے والد نے ان کو اسکول سے نہیں‌ نکالا، پڑھاتے رہے، میڈیکل کالج بھی بھیج دیا اور اب جب کہ وہ مر چکے تھے، ان کے بچے ایک سکھی زندگی گذار رہے تھے جن کی وجہ سے ان کے اردگرد کے لوگ بھی۔ کاش ایسی سمجھ  باقی لوگ بھی پکڑ لیں۔

اس واقعے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ماضی میں‌ جو کچھ بھی ہوگیا ہو، لوگ عقل استعمال کرکے اپنی ذاتی اور اجتماعی زندگی بہتر بنا سکتے ہیں۔ اب بھی دنیا ختم تو نہیں‌ ہوگئی، مومنٹ آف ٹروتھ کا سامنا کرنا ہوگا۔ ہمارے اپنے لئیے نہیں‌ بلکہ ان لوگوں‌ کے لئیے جو ہمارے بعد آئیں‌ گے۔


Comments

FB Login Required - comments