دیوار گریہ سے لٹکتی بچیاں


zafar kakarجنوری کی خنک راتیں گریہ شبنم کی امین ہیں۔تاحد نگاہ دھند کی چادر تنی ہوئی ہے۔ایک متانت بھری خاموشی ہے جو سانس لے رہی ہے۔ میز پر پڑے بدھا کے چھوٹے سے بے جان مجسمے جیسی خاموش رات۔ بلی کولینز اپنی نظم ’خاموشی‘ میں ایسی راتوں کی خاموشی نور تڑکے اپنے قلم سے توڑتا ہے۔ بدھا نے ہی کہا تھا ’ آزردہ دل پیار سے خاموش ہوتے ہیں۔بد آموز شفقت سے خاموش ہوتے ہیں۔جھوٹے سچ سے خاموش ہوتے ہیں‘۔ دیکھیے قتیل لکھتا ہے۔’ سکوت چھایا ہے انسانیت کی قدروں پر، یہی ہے موقع اظہار آﺅ سچ بولیں‘…. سچ مگر بہت تلخ ہے۔احساس جاں گسل ہے۔ برگزیدگی کے امین بضد ہیں کہ شادی کی عمر کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔کم عمری کی شادی کو مذہب سے جوڑ دیا گیا اور اس کے لئے کسی بھی قانون سازی کو توہین مذہب کا جرم قرار دیا۔ مشکل یہ ہے کہ کم عمری کی کوئی حدمقرر نہیں ہے۔ اسلاف کی کتابیں اس استدلال سے بھری ہوئی ہیں کہ شادی بلوغت سے بھی پہلے ہو سکتی ہے۔یہ سوال کس سے پوچھیں کہ صاحب اگر کم عمری حد بلوغت بھی نہیں ہے تو کیا چار سال کی بچی کی شادی کر دی جائے؟ چار ہی کیوں پھر ایک سال کیوں نہیں کیونکہ اختیار تو ویسے بھی ولی کو حاصل ہے۔یہ مسئلہ صرف اس قوم کا نہیں ہے یہ مسئلہ اس تعبیر کا ہے جو کہتی ہے کہ اسلاف غور و فکر کا سارا کام انجام دے چکے ہیں اب اور کوئی چارہ نہیں ہے سوائے اس کے کہ مسائل کی پیش بندی کے سامنے قدماءکے دیوان رکھے جائیں۔ امت کا اجتماعی شعورعہد وسطی میں جیتا ہے۔ تابناک ماضی کی داستانوں پر جگالی سے شکست خوردگی کا مداوا تو ہو جاتا ہے مگر فکر کی نئی کونپلیں پھوٹ نہیں سکتیں۔

فکرنو پر قدغن لگانے کی تاریخ بدقسمتی سے ہمیشہ خدا کے لہجہ میں کلام کرنے والوں سے مشروط رہی ہے۔اس میں مذہب کی بھی کوئی تخصیص نہیں ہے بس زور بیان درکار ہے کہ خدا کے کلام کا مفہوم وہی ہے جو ہم سمجھے ہیں۔جو لہجہ گلیلیو کے درپے تھا، وہی لہجہ ہمارے ایوانوں میں چشم رسا نے بارہا دیکھا۔ سینکڑوں سال پیشتر انسانیت کے قتل عام کے لئے پوپ لیو دہم معافی نامے کی خرید و فروخت میں ملوث تھا۔ آج ہماری گلیوں میں خودکش بچوں کی خرید و فروخت جاری ہے۔انسانیت کو زیر تسلط لانے خواہش سب کی مشترکہ ہے۔اشلوک کے پاٹوں میں کہیں ایک مسیحا بستا ہے جو آکر انسانیت پر وہی نظام نافذ کرے گا جس کی خواہش میں بال ٹھاکرے نے جان جاں آفریں کے سپرد کر دی۔ یروشلم کی دیوار گریہ پر آنسو گواہ ہیں کہ انسانیت کی فلاح کے لئے ایک مسیحا آکر ہیکل سلیمانی کے معبد کو پھر سے مرکز تجلی بنا رکھے گا۔روم کے کلیسا میں روز صبح پوپ صلیب کو گلے سے لگا کر یسوع مسیح کی آمد کا منتظر رہتا ہے۔القاعدہ سے لے کر داعش تک سب ایک مہدی Bz_96R4CYAEM7hpکے انتظار میں ہیں جو ان کی فکر کو انسانیت پر غالب کر دے گا۔

دیکھیے انسانیت کب سے جوجھ رہی ہے۔محبت کے پیامبربدھا کا ایک مجسمہ اس میز پر دھرا ہے۔ بدھا کا دوسرا مجسمہ بدھا نگر میں ایستادہ ہے۔اسی بدھا نگر میں ایک گاﺅں کا نام دادری ہے۔ وہی دادری جس میں اخلاق احمد کو گوشت رکھنے کے جرم میں قتل کیا گیا۔ وہی دادری جس میں دلت خاندان کی خواتین کو برسربازار برہنہ کیا گیا۔ کتنے دن ہوئے ہیں جب افغانستان کے پہاڑوں میں رخسانہ کو پتھر مار کر ہلاک کیا گیا؟ ادھر دولت اسلامیہ کی سڑکوں پر ایک سپاہی خواتین کو ہتھکڑیاں پہنا کر ان کی بولی لگا رہا ہے۔ تریسٹھ ڈالر میں بکنے والی عورت اس بکرے سے بھی سستی ہے جس کی قربانی خدا کی خاطر دی جاتی ہے۔ اس نوحے پر آنسو تو بہت بہائے جا سکتے ہیں۔ سنتے کانوں نے بارہا سنا کہ داعش کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے مگر اس کا کیا کیجیے کہ قومی ٹیلی ویژن پر بیٹھ کر خدا کا ایک برگزیدہ بندہ ببانگ دہل کہتا ہے کہ باندی کی خرید و فروخت جائز ہے۔ اس سے جسمانی تعلق کے لئے کسی نکاح کی ضرورت نہیں ہے۔

بات مگر اتنی سادہ نہیں ہے۔ ایک پورا بیانیہ ہے جو کہتا ہے کہ اسلام پوری دنیا پر غالب کرنا مسلمانوں پر لازم ہے۔تقسیم کی حدود متعین ہیں۔ ایک دار لاسلام ہے اور ایک دار الحرب ہے۔دارلاسلام والے جب بھی طاقت رکھتے ہوں وہ دارالحرب والوں پر اسلام نافذ کریں گے۔ اس بیانیے پر امت کی اکثریت میں اختلاف کوئی نہیں ہے سوائے اس کے کہ ٹی ٹی پی اور داعش نے مطلوبہ طاقت سے پہلے اقدام کر لیا ہے۔ سردست یہ موضوع نہیں ہے۔ صرف اشارہ مقصود تھا کہ باندیوں اور غلاموں کی ممکنہ منڈیاں کہاں ہو سکتی ہیں اور ان کا جغرافیہ کتنا وسیع ہے۔جس قوم کے خیال میں عورت کی ایک حثییت جسمانی تعیش کاسامان کرنے کے علاوہ کچھ نہ ہو، وہاں کے باسیوں کے انسان ہونے پر سوال ہیں۔ عورت کے حقوق تو بہت بعد کی بات ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ قوم کا فکری التزام سماج میں انسانیت کی اقدار کو جلا بخشنے سے زیادہ فلسطین و کشمیر کی آزادی ہے۔ اس بیانیے کو اگر برحق تسلیم کر بھی لیا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک تابناک ماضی سے مزین قوم صدیوں سے مزاحمتی تحریکوں اور سرفروشی کی داستانیں رقم کرنے کے بعد بھی غاصب قوموں کے مقابلے کی سطح پر کیوں نہیں پہنچ سکی؟ تاریخ گواہ ہے کہ ایک زمانے میں کیمبرج 1297815250اور آکسفورڈ عیسائیت کی فکری دانش گاہیں تھیں۔ ہمارے یہاں مدارس تو چھوڑیئے، پوری اسلامی دنیا ایک بھی ایسا ادارہ نہیں ہے جو اقوام مغرب کے اوسط درجے کے اداروں کا علمی دانش میں مقابلہ کر سکیں اور شاعرانہ تعلی کا مقام یہ ہے کہ بحر ظلمات میں ہر دم گھوڑے دوڑ رہے ہیں۔جانے کس کی فکر رسا کی کرشمہ سازی تھی جس نے کہا تھا کہ ساری دنیا کے مسلمان اگر اسرائیل پر ایک ایک بالٹی ڈال دیں تو اسرائیل دنیا کے نقشے سے مٹ جائے گا۔ ساری دنیا کے مسلمانوں کو مگر ایک بالٹی پانی کی توفیق میسر نہیں ہے التباس مگر پوری دنیا کی فتح کا ہے۔

ایک دیوار گریہ یروشلم میں ہے۔ ایک دیوار گریہ جرمنی کے شہر وٹن برگ کے گرجے کی وہ دیوار ٹھہری جس پر مارٹن لوتھر نے لاطینی زبان وہ تحریر لکھی جس نے پاپائیت کو خدا کے لہجے میں کلام سے روک کر انسان کی بولی بولنے پرمجبور کر دیا۔ امیدکی شمعیں جلا کر رکھنی چاہیے کہ ایک دیوار گریہ اے پی ایس پشاور کی دیوار ثابت ہو جو خدائی لہجوں کے پیامبروں کو بتا سکے کہ انسانیت سے افضل کچھ نہیں ہے۔انسانوں کو حریف سمجھنے کی بجائے حلیف سمجھیں۔ فتوی کے بعد واللہ اعلم کے سابقے کی بجائے مکالمے پر یقین رکھیں۔ ہر انسان کو اپنے عقیدے اور خدا سے محبت ہوتی ہے۔معصوموں کو غلطی پر اس درجہ خفت میں نہ ڈالیں کہ وہ اپنے ہاتھ کاٹنے پر مجبور ہو جائیں۔اس دیس کے مفلس باسیوں کے پاس رہنے کوگھر نہیں ہے۔ سونے کو بستر نہیں ہے۔ پینے کو پانی نہیں ہے۔ کھانے کو روٹی نہیں ہے۔ آپ کبھی افغانستان سے سیاہ پوشوں کی افواج برآمد کرتے ہیں۔ کبھی شام و فلسطین کی جنگ لڑ تے ہیں۔ کبھی لال قلعے کو فتح کرنے کے خواب بیچتے ہیں۔ ان سب سے جو وقت بچ جائے وہ اس دیس کی گلیوں میں کافر، کافر اور مشرک، مشرک کی صداﺅں میں صرف ہوتا ہے۔ اخلاق احمد کی موت پر دو قومی نظریہ کی صداقت کا شور اب بھی کانوں میں گونج رہا ہے مگر متحدہ ہندوستان میں خود کو اقلیت قرار دے کر مظلومیت کی دہائی دینے والوں سے لاہور میں اقلیتوں کے گھر جلانے کا سوال نہیں پوچھا جا سکتا۔ سوال یہ بھی نہیں پوچھا جا سکتا کہ چھ سالہ بچی کے ہاتھ سے کھلونا چین کر اسے کس کے ہاتھ کا کھلونا بنایا جائے؟ سوال ہے تو بس اتنا کہ صاحب! چھ سال بھی نہیں کم سے کم عمرکی حد کیا ہے؟ پشاور اے پی ایس کی دیواروں پربچوں کے خون کے دھبے ہیں۔ اس دیوار گریہ پر اب معصوم کلیوں کے خواب لٹک رہے ہیں۔  قوم کی بچیوں کو معلق کر دیا گیا ہے۔ قوم کی اجتماعی دانش کو سوال درپیش ہے کہ کیا وہ اپنی لٹکتی ہوئی بچیوں کو بچا سکتی ہے؟


Comments

FB Login Required - comments

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 82 posts and counting.See all posts by zafarullah

5 thoughts on “دیوار گریہ سے لٹکتی بچیاں

  • 20-01-2016 at 12:26 am
    Permalink

    dil nikal kr rak dia sir.Hats off to you.

  • 20-01-2016 at 2:50 am
    Permalink

    جنوری کی خنک راتیں گریہ شبنم کی امین ہیں۔تاحد نگاہ دھند کی چادر تنی ہوئی ہے۔ایک متانت بھری خاموشی ہے جو سانس لے رہی ہے۔ میز پر پڑے بدھا کے چھوٹے سے بے جان مجسمے جیسی خاموش رات۔ بلی کولینز اپنی نظم ’خاموشی‘ میں ایسی راتوں کی خاموشی نور تڑکے اپنے قلم سے توڑتا ہے۔ بدھا نے ہی کہا تھا ’ آزردہ دل پیار سے خاموش ہوتے ہیں۔بد آموز شفقت سے خاموش ہوتے ہیں۔جھوٹے سچ سے خاموش ہوتے ہیں‘۔ دیکھیے قتیل لکھتا ہے۔’ سکوت چھایا ہے انسانیت کی قدروں پر، یہی ہے موقع اظہار آﺅ سچ بولیں‘…. سچ مگر بہت تلخ ہے۔احساس جاں گسل ہے۔
    واه کیا احساس ہے.ید بیضا آپ پابندی سے لکھا کریں. بہت کم لکهتے ہیں آپ

  • 20-01-2016 at 7:45 pm
    Permalink

    ہم میں اور زمانہ جاہلیت کے عربوں میں کیا فرق رہ گیا ہے

  • 20-01-2016 at 9:13 pm
    Permalink

    جاندار تحریر، خوبصورت خیالات، داد قبول کیجیے. مگر بات یہ ہے کہ اس ملک میں ابهی سورج طلوع ہونے میں بہت وقت باقی ہے

  • 20-01-2016 at 9:27 pm
    Permalink

    صاف کیوں نہیں لکهتے کہ کچه مولویوں کی ہٹ دهرمی اور تقلید نے کے روش نے یہ مسلہ کهڑا کیا ہے.

Comments are closed.