کھوکھلی تبدیلیوں سے پرہیز کیجیے


واجد محمود خٹک

Wajid Mahmood Khattakپاکستانی عوام پاکستان کے بننے کے وقت سے لے کر اب تک جو دو الفاظ سے سب سے زیادہ مانوس ہو چکے ہیں وہ ہیں انقلاب اور تبدیلی۔ فوجی حکمران انقلاب کی بات کرتے ہیں اور سیاستدان تبدیلی کی۔ فوجی حکمران جب کرسی پر براجمان ہو جاتے ہیں تو ابتداََ سب ہی انقلاب کی بات کرتے ہیں۔ کچھ کے مطابق سیاستدان نکمے اور کرپٹ ہوتے ہیں تو ان سے چٹکارہ دلایا جاتا ہے۔ اور ایک نئے اور انقلابی پاکستان کا وعدہ کیا جاتا ہے۔ مزید براں اپنے آپ کو حقیقی جمہوریت کا روح رواں گردانا جاتا ہے۔

کچھ انقلابیوں کے مطابق سیاستدان اسلام کے نام پر حاصل ہونے والے ملک میں کفریہ نظام نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ نظریاتی سرحدوں کے رکھوالے ہونے کی حیثیت سے صرف وہ ہی ملک میں حقیقی نظام مصطفیٰ کے قیام کا صحیح انقلابی نسخہ رکھتے ہیں۔ ان کے بقول مجلس شوریٰ میں گروہ بندی امت مسلمہ کو کمزور کرنے کی مغربی سازش ہے۔ ایک حقیقی اسلامی انقلاب کے لئے وہ ڈنڈے اور کوڑے کا استعمال ضروری سمجھتے ہیں۔ ان کے خیال میں سیاست اور صحافت دو ایسے طاغوتی عوامل ہیں جو کبھی بھی حقیقی اسلامی انقلاب کو پنپنے کا موقع نہیں دیں گے۔

کچھ انقلابیوں کی وردی ان کا چمڑہ بن جاتی ہے۔ ان کے مطابق سب سے پہلے پاکستان ہے چاہے کچھ علاقوں کے کچھ لوگ اس میں ہوں یا نہ ہوں۔ ان کے دعویٰ انقلاب کے رو سے ترقی کا جائزہ لینے کے لئے دیکھا جائے کہ ملک بھر میں کتنے فیصد لوگوں کے پاس موبائل فون اور ذاتی موٹر سائیکل ہے۔ ملک سے موروثی سیاست اور سیاستدانوں کا خاتمہ کرنے کے لئے بھی ان اعلیٰ حضرات نے کچھ انقلابی اقدامات کیئے۔ فلسفے میں بھی انقلابی سوچ سے لوگوں کو روشناس کرایا، اور جدیدیت اور روشن خیالی جیسے جدید اور انقلابی فلسفے پاکستانیوں کو دیئے۔

وردی والی سرکاروں میں ایک قدر مشترک یہ ہوتی ہے کہ ان سب کو جمہوریت سے بلا کی محبت ہوتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستانی سیاستدانوں کو سیاست کی الف ب کا بھی پتہ نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ باوردی حضرات کی نظروں میں سیاستدان من حیث الفرقہ کرپٹ اور بد عنوان ہوتے ہیں۔ اس لئے ان پہ کرپشن کے مقدمے چلانا، ان کو ملک و قوم کا غدار ٹھہرانا اور میڈیا ٹرائل کرنا، ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں ضروری ہوتا ہے۔

دوسری طرف اگر نظر دوڑائیں تو ہر سیاسی جماعت تبدیلی کا نعرہ لگاتی ہوئی وجود میں آتی ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ تبدیلی تب آئے گی جب غریب کو روٹی، کپڑہ اور مکان میسر ہوگا۔ جب ملک کی معیشت پر قبضہ کیے ہوئے بائیس خاندانوں سے چٹکارا ملے گا۔ اور جب ملک میں اسلامی اصولوں کے مطابق سوشلزم کا راج ہوگا۔

کچھ سیاستدان دعویٰ کرتے ہیں کہ حقیقی تبدیلی ان کی جماعت ہی لا سکتی ہے۔ اور صرف ان کے پاس ہی تبدیلی کا نسخہ ہے۔ ایسے سیاستدان چونکہ خود کاروباری سوچ رکھتے ہیں اس لئے ان کا خیال ہوتا ہے کہ حقیقی تبدیلی موٹر ویز بنانا، میٹرو بنانا اور کارخانے لگانے کا ہی نام ہے۔ تا ہم ان کی تبدیلی تب چکنا چور ہو جاتی ہے جب وہ بیمار پڑتے ہیں۔ یا کوئی دو ٹکے کا صحافی ان سے ان کے بچوں کے متعلق باہر کے ملکوں میں پڑھنے کے بارے میں سوال کرتا ہے۔

کچھ سیاسی جماعتیں مذہب کو حقیقی تبدیلی کا زینہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق خدا کی زمین پر خدا کا نظام قائم کرنا انسان کا زمین پر بھیجے جانے کا مقصد و منشا ہے۔ ان جماعتوں کے رہنماؤں اور امیروں میں بہت سی اور خوبیوں کے ساتھ ساتھ یہ خوبی بھی پائی جاتی ہے کہ ان کو اپنے سوا دوسرے لوگ یا تو ٹھیک قسم کے مسلمان نظر نہیں آتے، یا پھر ‘یہود، ہنود اور نصاریٰ’ کے ایجنٹ اور پیروکار نظر آتے ہیں۔ ان کی جیب اسی قسم کے لیبلوں سے بھری پڑی ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ ایسے لوگ عورتوں سے حد درجہ محبت رکھتے ہیں۔ اس لئے ہمیشہ ایسی قانون سازی کی مخالفت کریں گے جس میں صنف نازک کی گھر سے باہر جانے کی بات ہو۔

سیاسی جماعتوں میں کچھ جماعتیں ایسی بھی ہیں جن کے پاس تبدیلی کے صرف کھوکھلے نعرے ہیں۔ نہ تو ان کے پاس کوئی پروگرام ہے اور نہ ہی کوئی لائحہ عمل۔ ان کے رہنما دوسرے سیاستدانوں کو اخلاقیات کی تلقین تو کرتے ہیں لیکن اپنے کارکنان کی اخلاقی تربیت کرنے سے کتراتے ہیں۔ مغرب کی مثالیں تو دیتے رہتے ہیں۔ لیکن مغرب کی سیاسی اصولوں کے مطابق خود چلنے اور اپنے کارکنوں کی تربیت کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔ ان رہنماؤں کے مطابق ملک بھر میں کوئی بھی ڈھنگ کا مسلمان، ایماندار اور لائق و فائق لیڈر نہیں۔ سب سیاستدان منافق اور کرپٹ ہیں اور ملک عنقریب دیوالیہ ہونے کو ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بحثیت عوام ہمیں پاکستان میں انقلاب چاہیئے یا تبدیلی؟

شاید کچھ لوگ انقلاب کو پسند کرتے ہوں اور چاہتے ہوں کہ کوئی فرشتہ صفت، باکردار اور قابل بندہ اپنی آہنی ٹوپی اور کالے بوٹوں کے ساتھ نمودار ہو جائے، اور سارے نا لائق، بد کردار اور کرپٹ سیاستدانوں کو گھر بھیج دے۔ اور ساتھ ہی ایک حقیقی انقلاب رونما ہو جائے۔ ایسے ہی انقلاب پسند دوستوں سے گزارش ہے کہ اپنی زبانوں کے لئے تالے اور پاؤں کے لئے بیڑیاں پہلے سے تیار کر لیں۔ ان کی شاید ضرورت پڑی گی۔ جن لوگوں کو انقلاب کی لت پڑ جاتی ہے وہ ایک انقلاب کے بعد دوسرے انقلاب لے لئے پر تولتے ہیں۔ اور پاکستان میں انقلاب لانے والے لوگ نہ تو عوام کی مرضی سے آتے ہیں اور نہ ہی ان کی مرضی سے جاتے ہیں۔ عوام نہ تو ان کی چمڑی اتار سکتے ہیں اور نہ ہی ان کے بوٹ۔

اب رہ جاتی ہے تبدیلی کی بات، تو تبدیلی جس قسم کی بھی ہو، عوام کی مرضی سے ہی آتی ہے۔ اور ان کی مرضی سے ہی تبدیلی کو تبدیل کیا جاتا ہے۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ پاکستان میں حقیقی تبدیلی کیوں نہیں آتی۔ جس کی وجہ سے ہم 70 سال گزرنے کے باوجود بھی اپنے پاؤں پہ کھڑا ہونے سے محروم ہیں۔ اس کا ایک سادہ سا ہی جواب ہے۔ اور وہ یہ کہ ہمارے ملک میں کچھ سیاستدان اور کچھ عوامی حلقے تبدیلی پر یقین ہی نہیں رکھتے۔ ان کے مطابق انقلاب اور انقلابی لوگ اس مملکت خداداد کی سالمیت کے لئے ضروری اور لازم ہیں۔

کچھ تبدیلی کا نعرہ لگانے والے سیاستدان اور ان کی سیاسی پارٹیاں انقلاب اور انقلابیوں کی مرہون منت ہیں۔ اب ان پارٹیوں کو پہچانیں گے کیسے؟ اس کے لئے ایک سادہ سا ٹیسٹ ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے سیاسی کارکنان سے صرف دو سوال کیجئے آپ کو خود بخود پتہ چل جائے گا کہ بندہ کس پارٹی سے ہے اور انقلابی ہے یا سیاسی۔

پہلے یہ پوچھے کہ پاکستان میں حکومت کرنے کے لئے سب سے موزوں شخصیت کون سی ہے؟ ظاہر ہے وہ اپنے پارٹی کے لیڈر کا نام لے گا۔ دوسرا سوال یہ کہ اگر آپ کی پارٹی کو حکومت بنانے کا موقع نہ ملے تو کون سی پارٹی زیادہ موزوں ہوگی؟ اگر وہ انقلاب یا انقلابیوں کی بات کرے تو سمجھ لینا کہ کارکن کی تربیت کھوکھلے تبدیلی والی جماعت نے کی ہے۔

کچھ حضرات اعتراض کریں گے کہ تبدیلی والی جماعت کے رہنماؤں نے تو کبھی بھی کھلے عام انقلابیوں کی بات نہیں کی،پھر کیسے ان کے کارکنان انقلابیوں کے ہم نوا بن گئے؟ ان کے لئے عرض ہے کہ اس قسم کی پارٹیوں میں اور انقلابیوں میں ایک قدر مشترک ہے اور وہ ہے سیاست اور سیاستدانوں سے لوگوں کا اعتماد ختم کرنا۔ ان کو بد کردار، نالائق اور کرپٹ ثابت کرنا۔ یہی کام وقت ملنے پر انقلابی بھی کرتے ہیں اور تبدیلی والی جماعت بھی۔

ہم انقلابی بن کر تبدیلی کی چابی کیوں اپنے ہاتھ سے نکلنے دیں؟ تبدیلی ہم سے ہی ہے اور ہمیں ہی اسے اپنا حق جان کر اور سمجھ کر محفوظ رکھنا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments