انتہا پسندی، ردعمل کی نفسیات اور ذہنی پیچیدگیاں (8)


akhtar-ali-syedامید کرتا ھوں کہ اب تک کی گفتگو میں خود راستی (Self-righteousness) ، نرگسیت (Narcissism) اور انتہا پسندی (Extremism) کے درمیان موجود تعلق کی اس حد تک وضاحت ہوچکی ہوگی کہ بات آگے بڑھ سکے۔

محض یاد دہانی کی خاطر مجھے یہ بات دہرانے دیں کہ خودراستی اور نرگسیت کی شدت براہ راست انتہاپسندی، تکفیریت اور قتل و غارتگری کی شدت کا تعین کرتی ھے۔ گزشتہ تحریر میں یہ بات دیکھی جاچکی ھےکہ مسلم ذہن کے لیے اقتدار اور حکومت کا حصول کس طرح اس کی نرگسیت کا محور بن چکا ہے۔ آیے اب اس حقیقت کو دیکھتے ہیں  کہ حکومت اور طاقت کی اس محرومی نے اسے کس طرح اور کس صدمے (Trauma) سے دو چار کیا ہے۔

یہ کوئ پرانی بات نہیں ہے کہ دنیا کے قریبا” نوے فیصد مسلمان نوآبادیاتی نظام (Colonialism)

 کے تحت زندگی گزاررہے تھے۔ دنیا کا قومی حکومتوں (Nation States) کے قیام پر اتفاق اور نوآبادیاتی نظام کے خلاف جاری جدوجہد کی کامیابی تھی جس کے سبب آج مسلم اکثریت رکھنے والے ممالک پر مسلمان حکومت کررہے ہیں اور ان کی (سواے فلسطین کے) سرحدیں محفوظ اور معین ہیں۔ جہاد اور عالمی خلافت کے حالیہ تصورات قومی حکومتوں کے اس تصور کے بالکل برعکس ہیں جس نے مسلمانوں کو نوآبادیاتی نظام سے نجات دلانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس جملہ معترضہ کو ایک طرف رکھیے اور اس بات پر غور فرمایے کہ وہ مسلم ذہن جس کے لیے اپنے عقیدہ پر عمل پیرا ہونے کے لیے طاقت، اقتدار اور حکومت کا حصول لازمی ہے، کے لیے محکومی کی اس صورت نے کیا قیامت ڈھای ہوگی۔ مولانا حالی کی مسدس کا مطالعہ اس صدمے کا اندازہ لگانے میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔

پستی کا کوی حد سے گزرنا دیکھے

اسلام کا گر کر نہ سنبھلنا دیکھے

مانے نہ کبھی مد ہے ہر جزر کے بعد

دریا کا ہمارے جو اترنا دیکھے

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ مسلمانوں کے زوال اور محکومی کو اسلام کے گرنے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ آج کے واعظین بھی اس قطعے کو انتہای درد مندی کے ساتھ پڑھتے اور زوال پر آنسو بہاتے ہیں۔ سلطنت کے پھیلاو  کے جو طریقے مسلمانوں نے دوسروں کے خلاف کامیابی سے استعمال کیے تھے وہی  ان پر آزماے گئے۔ پے در پے شکست کا صدمہ ابھی تازہ تھا  کہ تازہ تازہ آزاد ہونے والی ریاستیں بتدریج دنیا کے نۓ اقتصادی نظام کے چنگل میں پھنستی چلی گئیں۔ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا خواب مسلمان ریاستوں کی بحالی کے ذریعے پورا ہوتے ہوے دیکھنے والوں کے لیے یہ صدمہ اور بھی گہرا ثابت ہوا۔ آزادی کے باوجود مسلمان حکومتیں نہ صرف یہ کہ اچھی کارکردگی کا مظاھرہ نہ کر پایں بلکہ جس استعمار سے انہوں نے نجات پانے کی جدوجہد کی تھی اسی پر ان کا انحصار مسلسل بڑھتا چلا گیا۔  سرد جنگ کے زمانے میں ناعاقبت اندیشی کی بدترین مثال قایم کرتے ہوے خصوصاً پاکستانی اور عرب مسلمان افغان جہاد کے نام پر ایک بڑے دھوکے اور صدمے سے دوچار ہوے۔ اس صدمے نے ان کی نفسیات پر انتہای گہرے اثرات مرتب کیے۔ بجاے اس کے کہ ان عوامل کا جایزہ لیا جاتا جن کے نتہجے میں افغان جنگ جیسی غلطی سرزد ہوی تھی وہ گیارہ ستمبر 2001 جیسی غلطی کا ارتکاب کر بیٹھے۔ اس کے بعد سے جو کچھ ہوا وہ دہرانے کی ضرورت نہیں۔ مایوسی اور غصے کی انتہائ شدید حالت نے حکمرانی اور طاقت کا خواب دیکھنے والوں پر ذہنی پیچیدگی کی وہ صورت مسلط کردی کہ اب وہ “جیو اور جینے دو” کے بجاے “مارو یا مرجاو” کے قایل نظر آتے ہیں۔ “غیر” (اس کی وضاحت کی جا چکی ہے) کے اس رویے نے ایک ایسا ردعمل پیدا کیا جس کو سمجھنا ازحد ضروری ہے۔ یہاں یہ کہنا شاید ضروری ہو کہ اس تحریر کا مقصد “غیر” کے غیر انسانی اور غیر اخلاقی طرز عمل کی حمایت یا وکالت نہیں ہے بلکہ رد عمل کی اس نفسیات کو سمجھنا ہے جو مسلمانوں میں پےدرپے صدمے اٹھانے کے نتیجے میں پیدا ھوی ھے۔ مجھے اعتراف کرنے میں قطعاً کوئی تامل نہیں ہے کہ اس نوعیت کا مطالعہ پہلے کیا جاچکا ہے۔ نوآبادیاتی نظام کے نفسیاتی اثرات اور دیگر پہلووں پر مینونی  Octave Mannoni نے فرانز فینون  Frantz Fanon سے پہلے لکھا تھا۔ اس کی کتاب

Prospero and Caliban: The Psychology of Colonization

کا سن اشاعت 1950  ہے۔ یہ کتاب اصل میں فرانسیسی نوآبادیاتی تسلط کے خلاف 1947 کی میلاگاسی بغاوت کے تناظر میں لکھی گئی تھی اور اس نوعیت کا یہ پہلا تجزیہ اور شایع ہونے والی پہلی کتاب تھی۔ فینون نے گو اس کو ایک نامکمل تجزیہ قرار دیا تاھم اسے معروضی حالات سے ہٹ کر نفسیاتی حقایق کا کیا جانے والا تجزیہ قرار دے کر اس کی تعریف بھی کی۔ فینون کے نام اور کام سے اردو دان طبقہ “افتادگان خاک” کے طفیل واقف اور آگاہ ہے۔ یہ اس کی 1961 میں شایع ہونے والی کتاب  The Wretched of Earth کا نہایت ہی عمدہ ترجمہ ہے جو

جیسے اصحاب علم نے کیا تھا۔ اس کتاب کا مقدمہ فرانسیسی   محمّد پرویز اور فلسفی ژاں پال سارتر نے لکھا تھا۔ اسی کتاب کا ترجمہ  معروف ایرانی دانشور مفکر ڈاکٹر علی شریعتی اور سجّاد باقر رضوی نے بھی کیا تھا۔ اب آیے  استعماری نظام کے شکار موجودہ معاشروں کے نفسیاتی تجزیوں کی جانب۔۔۔ اشیش نندی صاحب ہندوستان کے ایک انتہای اھم اور معروف ماہر نفسیات ہیں۔ ان کی کتاب

The Intimate Enemy

 کا تذکرہ ہم ابتدا میں کرچکے ہیں ۔ ھومی بھابھا

Homi K Bhabha

بھی ہندوستانی مفکر اور مصنف ہیں۔ نوآبادیاتی نظام پر لکھنے والوں میں ان کا نام انتہای ممتاز حیثیت کا حامل ہے۔ انہوں نے اس ضمن میں  کئی اھم تصورات اور اصطلاحات متعارف کرائی ہیں۔ ہندوستان ہی میں ۱۹۸۰ کی دہای میں ایک نئی تحریک کی داغ بیل ڈالی گئی۔ یہ محکومی کی زندگی گزارنے والے طبقات کے مطالعے  کی تحریک تھی۔ اسی لیے اسے Subaltern Studies کا نام دیا گیا تھا۔ اس تحریک سے رنجیت گپتا، ژاک دریدا کی مترجم گایتری سپای وک اور ایرک سٹوکس جیسے بڑے نام وابستہ رہے۔ ڈاکٹر ناصر عباس نیر نے مابعدنوآبادیاتی مطالعے کے ذیل میں اپنی دو کتابوں میں اس بات کا اظہار بجا طور پر کیا ہے کہ اس طرح کا مطالعہ پاکستان اور اردو زبان میں موجود نہیں ہے۔ ڈاکٹر نیر کی دونوں کتابیں اردو اور اردو ادب کے تناظر میں تحریر ہوی ہیں۔ اس طالب علم کے محدود اور ناقص علم کے مطابق نوآبادیاتی نظام کے نفسیاتی اثرات اور تشکیلات پر خصوصاً پاکستان کے حوالے سے کوئ قابل ذکر کام موجود نہیں ہے۔ یعنی ہم نے آج اس بات کا جایزہ لینے کی کوئ کوشش نہیں کی کہ پاکستانی معاشرے بالخصوص اور مسلم معاشرے میں بالعموم کس طرح ردعمل کی نفسیات نے اپنے تشکیلی مراحل طے کیے ہیں۔ اسکے خدوخال اور اسباب کیا ہیں۔ آیے اس کام کو کرنے کی ایک طالب علمانہ کوشش کرتے ہیں۔

  نوآبادیاتی نظام اور اسکے شکار افراد و اقوام پر اس کے اثرات کے مطالعہ نے چند حقایق کو پایہ ثبوت تک پہنچادیا ہے۔ اگر آپ اس طالب علم سے ان ثابت شدہ حقایق کا خلاصہ بیان کرنے کو کہیں تو بآسانی چار بنیادی نکات میں یہ خلاصہ بیان کیا جاسکتا ہے۔

۱۔ اقتصادی تصرف اور کنٹرول۔۔۔۔۔ زیر تسلط علاقوں کے اقتصادی وسایل پر جزوی یا مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے لیے مخصوص اقتصادی پالیسیاں تشکیل دی جاتی ہیں۔ گھانا کے پہلے صدر کوامی کروما  Kwame Nkrumah  نے 1965 میں ایک نئی اصطلاح Neo-Colonialism

متعارف کرائی تھی۔ اس اصطلاح کے ذریعے انہوں نے بالواسطہ اقتصادی کنٹرول کے جدید طریقوں کی کامیاب نشاندہی کی تھی۔ ان طریقوں میں انہوں نے آی۔ایم۔ ایف، ورلڈ بینک، ملٹی نیشنل ادارے اور این جی اوز جیسے اداروں کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوے یہ بتایا کہ سرمایہ دارانہ نظام اور  نوآبادیاتی نظام کے اشتراک کار نے اقتصادی استحصال کی کون سی نئی صورتیں کس طرح تشکیل دی ہیں۔ مقصد ان تمام طریقوں کا ایک ہے۔ اور وہ ان ریاستوں کو اقتصادی خود کفالت سے روکنا ہے۔   چند حالیہ جنگوں نے اس صورتحال کو سمجھنا شاید اور آسان کردیا ھے۔

۲۔ عسکری سرگرمیوں پر کنٹرول۔ ۔۔۔ استعماری اور نوآبادیاتی قوتیں زیر تسلط قوموں کی عسکری سرگرمیوں کو اپنی مرضی کا رخ دے بوقت ضرورت اپنے فایدے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ وہ ان سرگرمیوں کا رخ ہی نہیں وقت بھی خود ہی طے کرتے ہیں۔ زیر تسلط علاقے کس وقت کس کے خلاف کتنی اور کیسی جنگ لڑیں گے اسکا فیصلہ یہ طاقتیں کرتی ہیں۔ مختلف حکومتیں اور افواج اپنی عسکری ترجیحات کا فیصلہ انہی طاقتوں کے دباو میں کرتی ہیں۔ مہلک ہتھیار تیار کرنے والی صنعتیں فیصلہ سازی کے اس عمل میں برابر کی شریک ہوتی ہیں۔ گزشتہ چالیس سالوں میں دنیا نے اس ضمن میں نئی تبدیلیاں دیکھی ہیں۔ جب حکومتوں نے نوآبادیاتی قوتوں کے احکام کی تعمیل میں لیت و لعل سے کام لیا تو ان قوتوں نے غیر حکومتی عسکری گروپس Non-State Militias

بنانے شروع کردیے۔ اس حکمت عملی نے نوآبادیاتی قوتوں کو بے انتہا فایدے پہنچاے۔ یہ گروپس کسی اور پر نہیں بلکہ انہی معاشروں کے افراد پر مشتمل ہوتے ہیں جن کو کنٹرول کرنا مقصود ہوتا ہے۔ اس لیے ان گروپس کی کارگزاریوں کا الزام نوآبادیاتی قوتوں کی بجاے محکوم معاشروں اور حکومتوں پر ھی لگتا ہے۔ اس طالب علم کے محدود علم کے مطابق اس طرح کے گروہوں کا پہلا کامیاب اور بڑا تجربہ افغانستان میں کیا گیا۔ ان گروہوں کی تشکیل کے مقاصد اور ان گروہوں کی حکمت عملی آج دنیا کے سامنے ھے۔

۳۔    زیر تسلط معاشروں میں موجود باہمی اختلافات کو ہوا دے کر اور نۓ اختلافات پیدا کر کے معاشرتی تاروپود بکھیرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس ضمن میں ماہرین نے “تقسیم کرو اور حکومت کرو” Divide and Rule کے مشہور زمانہ تصور کی حقیقی تصویر مثالوں کے ساتھ دکھای ہے۔  جن اختلافات کو خاص طور پر ہوا دی جاتی ہے وہ ان موضوعات پر ہوتے ہیں جن سے عام افراد کی وابستگی جذباتی ہوتی  ہے۔ اس ضمن میں مذہبی، نسلی، علاقائ اور لسانی اختلافات زیادہ اھم ہوتے ہیں۔ ایک تو یہ مسایل عقلی دلایل کے ذریعے بالعموم طے نہیں ہوتے کیونکہ ان مسایل کی جڑانسانی جذبات میں ہوتی ہے۔ اور دوسرے مذہبی، علاقائ، نسلی اور لسانی وابستگیاں ناقابل تبدیل ہوتی ہیں۔ انسان اپنے علاقے، مذہب، زبان اور نسل کو تبدیل نہیں کرتا اور نہیں کرسکتا۔ جبکہ سیاسی اور نظریاتی اختلافات میں تبدیلی کی گنجایش بہرحال موجود رہتی ہے۔ اس لیے تقسیم اور افتراق کا باعث بننے والے اختلافات بالعموم مذہبی اور نسلی ہوتے ہیں۔ ان اختلافات کی شد٘ت مصنوعی طور پر کنٹرول کی جاتی ہے۔ مذہبی، نسلی، علاقای اور لسانی گروہوں کی قیادت اچانک نمودار ہوتی ہے اس لیے کہ اس کو مصنوعی طور پر تی٘ار کیا جاتا ہے اور پھر اچانک یا تو غایب یا بے وقعت ہوجاتی ہے یا پھر نامعلوم افراد کے ہاتھوں قتل ہوجاتی ہے۔ یہ قیادت اختلافات کو وقت اور ضرورت کے حساب سے ایک معینہ حد تک لے جاتی ہے۔ اس کے  جملہ مقاصد میں سے ایک اھم مسایل پر سے نظر ہٹا کر معاشرے کو مصنوعی مسایل میں مصروف رکھنا بھی ہوتا ہے۔ تشد٘د اور قتل و غارت گری کا بازار بھی اسی مقصد سے گرم کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں غیر جمہوری حکومتوں کے عرصہ اقتدار میں فرقہ وارانہ، لسانی اور قومیتوں کی بنیاد پر ہونے والے فسادات میں اضافے کی سب سے اھم وجہ یہی طرز عمل ہوتا ہے۔

۴۔  زیر تسلط علاقوں کے انسانوں کی جان مال عزت اور صلاحیت کا لحاظ استعماری اور نوآبادیاتی طاقتوں کے لیے  بالکل اھم نہیں ہوتا۔ مختلف طریقوں سے ان کو کم ذہن، نااھل، اور نچلے درجے کا انسان ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مسلسل یہ کہا جاتا ہے کہ ان معاشروں کی اقتصادی اور سماجی پستی کا سبب ان لوگوں ذہنی پسماندگی،  اخلاقی گراوٹ اور وقت کے ساتھ ان کا ہم آہنگ نہ ہونا اور نہ ہوسکنا ہے۔ ۔۔۔ مرحوم ایڈورڈ سعید کی مشہور زمانہ کتاب

 Orientalism نے اس موضوع کا بھرپور احاطہ کیا ہے۔ زیر تسلط معاشروں میں مصنوعی طور پر پیداکردہ اختلافات کے نتیجے میں جب افراتفری پھیلتی ہے تو ان معاشروں کو غیر مہذب اور غیر انسانی کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ اپنے باہمی اختلافات حل کرنے کے بجاے ایک دوسرے کے گلے کاٹتے ہیں۔ اس لیے ان کو ہمیشہ کسی تیسرے کی ضرورت رہتی ہے جو ان کے باہمی مسایل حل کراے، ان کو تہذیب سکھاے، تعلیم دے اور ترقی کے راستوں پر گامزن کرے۔ امی٘د ہے کہ اس ضمن میں مثالوں کے بغیر کام چل جاے گا۔

استعماری اور نوآبادیاتی طاقتیں امنے تسلط کو مضبوط بنانے کے لیے یہ چاروں کام کرتی ہیں۔ گذشتہ چالیس سالوں میں ایک اور تبدیلی دیکھی گئ اور وہ یہ کہ یہی چاروں کام جو پہلے Empire

بادشاہتیں کرتی تھیں اب اپنے ہی ممالک کی افواج، غیر حکومتی عسکری گروہ اور ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی کرتی ہیں۔ (جاری ہے)

.


Comments

FB Login Required - comments