سپریم کورٹ کا انکار یا حکومت کے خلاف فیصلہ


mujahid aliسپریم کورٹ کے چیف جسٹس انور ظہیرجمالی نے حکومت کی درخواست پر پاناما پیپرز میں سامنے آنے والے انکشافات کے بعد ملک میں کرپشن کی تحقیقات کرنے کے لئے کمیشن بنانے سے معذرت کرلی ہے۔ آج صبح وزارت قانون کو لکھے گئے ایک خط میں کہا گیا ہے کہ اس کمیشن کے لئے جو ٹرمز آف ریفرنس فراہم کئے گئے ہیں ، ان کے تحت ملک میں بدعنوانی کے معاملات کی تحقیقات میں کئی برس صرف ہو سکتے ہیں۔ اس لئے حکومت یہ واضح کرے کہ کن خاندانوں اور کن معاملات پر تحقیقات مطلوب ہیں۔

سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جبکہ وزیر اعظم پاناما پیپرز کے حوالے سے قومی اسمبلی میں پالیسی بیان دینے والے ہیں۔ تاہم قومی اسمبلی میں اپوزیشن اور حکومت کے ارکان کے درمیان طے پایا ہے کہ پہلے اپوزیشن اور سرکاری ارکان اپنے خیالات کا اظہار کریں گے، اس کے بعد وزیراعظم ایوان میں آئیں گے۔ خبروں کے مطابق اب وزیر اعظم سوموار کو قومی اسمبلی میں اپنی پوزیشن واضح کریں گے۔ تاہم اس وقت ایک دوسرے پر الزام تراشی کا جو ماحول قائم ہو چکا ہے، اس کی روشنی میں وزیر اعظم کی تقریر سے بھی فضا صاف ہونے کا امکان نہیں ہے۔ اپوزیشن وزیر اعظم سے ان کے خاندان کے مالی معاملات کی تفصیلات مانگتی ہے جبکہ وزیر اعظم کا مؤقف ہے کہ یہ مجوزہ کمیشن کا کام ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اپوزیشن کرپشن کی تحقیقات کا بہانہ کرکے ان سے وزارت عظمیٰ کا عہدہ چھیننا چاہتی ہے۔

اس سیاسی جھگڑے کے عین بیچ سپریم کورٹ کی طرف سے کمیشن بنانے سے انکار سے اپوزیشن کو مزید قوت حاصل ہوگی اور وہ اب اپنا یہ مطالبہ زیادہ شدت سے سامنے لائے گی کہ پارلیمنٹ کے قانون یا صدارتی آرڈی ننس کے ذریعے عدالتی کمیشن بنایا جائے جس کی سربراہی چیف جسٹس خود کریں۔ یہ کمیشن صرف پاناما پیپرز کے معاملات کی تحقیقات کرے اور سب سے پہلے وزیر اعظم کے خاندان کے معاملات کو دیکھا جائے۔ اپوزیشن نے کمیشن کے قواعد کے لئے جو تجاویز پیش کی ہیں، ان میں کہا گیا ہے کہ مجوزہ کمیشن تین ماہ کے اندر وزیر اعظم کے خاندان کے معاملات کی تحقیقات مکمل کرکے، مزید 9 ماہ میں باقی معاملات کی تحقیقات مکمل کرے گا۔

اس کے برعکس وزیر اعظم کی طرف سے 22 اپریل کو قوم سے خطاب میں سپریم کورٹ سے جو کمیشن بنانے کی درخواست کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، اس کے ٹرمز آف ریفرنسTORs میں عدالت عظمیٰ سے درخواست کی گئی تھی کہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک کرپشن، قرضوں کی معافی، منی لانڈرنگ اور کمیشن خوری کے سارے معاملات کی تحقیقات کی جائیں ۔ ان قواعد میں اگرچہ پاناما پیپرز کا بھی ذکر ہے لیکن حکومت ایسی تحقیقات کی بات کر رہی تھی جو صرف پاناما پیپرز کے انکشافات تک محدود نہ ہو۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ حکومت اس طرح وزیراعظم کو بچانا چاہتی ہے جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس طریقے سے ہر طرح کی کرپشن کے بارے میں دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا تاکہ یہ بحث ہمیشہ کے لئے ختم ہو سکے۔

اب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے بھی یہ واضح کیا ہے کہ وہ ایسا کمیشن بنانے سے قاصر ہیں جو 1947 سے لے کر اب تک ہر قسم کی کرپشن کے معاملات کو دیکھے گا۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایسے کام میں کئی برس صرف ہو سکتے ہیں۔ اس لئے حکومت واضح طور سے افراد اور خاندانوں کا تعین کرے اور بتائے کہ کس خاص معاملہ پر تحقیقات کروانا مقصود ہے۔ چیف جسٹس کے اس بیان سے اپوزیشن کو حکومت پر گولہ باری کے لئے مزید بارود مل جائے گا۔ اب اس کی طرف سے صرف پاناما پیپرز کے حوالے سے شریف خاندان کے معاملات کی تحقیقات کیلئے دباؤ میں اضافہ کیا جائے گا۔

دلچسپ بات یہ ہے کی گزشتہ ہفتے سے ہی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے حوالے سے یہ خبریں سامنے آچکی تھیں کہ وہ ملک کے موجودہ سیاسی حالات میں جب کہ اپوزیشن اور حکومت اس سوال پر متفق نہیں ہیں، کمیشن بنانے سے معذرت کرلیں گے۔ لیکن اس کا اعلان چند روز پہلے یا بعد میں کرنے کی بجائے، آج ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب قومی اسمبلی میں اپوزیشن اور حکومت ایک دوسرے کو بد نیت قرار دیتے ہوئے اپنی بات کو درست اور دوسرے کی دلیل کو غلط کہہ رہی ہے۔ عین اس وقت سپریم کورٹ نے بھی اپنا مؤقف دے کر دراصل اس سیاسی صورت حال پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی ہے۔ ملک میں جس ادارہ جاتی خود مختاری کی بات کی جاتی ہے، اس کے حوالے سے یہ جواب دینے کے لئے وقت کا چناؤ غلط اور افسوسناک ضرور ہے۔ اس سے یہ تاثر قوی ہوگا کہ ملک کا کوئی بھی بااختیار ادارہ دراصل اپنی حدود میں رہنا پسند نہیں کرتا اور وہ سیاسی معاملات پر اثر انداز ہونے کا کوئی موقع بھی ضائع نہیں کرتا۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 415 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali