جو بڑھ کے تھام لے۔۔۔۔مینا و ساغر اسی کا


عبد الرزاق

declineدنیا کی تاریخ انسانی تجربات سے بھری ہوئی ہے اور دور حاضر میں کوئی بھی انسان قدیم تاریخ کے مطالعے سے نہ صرف سبق سیکھ سکتا ہے بلکہ یہ موجودہ دور کے مسائل کے حل میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ تاریخ دانوں کا کام لوگوں کو زندگی کے انتہائی مایوس کن حالات سے روشناس کروانا اور مشکلات اور مصائب سے سرخرو ہو کر نکلنے کے لیے جدوجہد اور عمل پیہم کی راہ دکھانا ہے۔
جرمن تاریخ دان سپینگلر نے 1917 میں اپنی شہرۂ آفاق تصنیف مغرب کا زوال (decline of west) لکھی اور مدلل اور متاثرکن انداز میں مغربی تہذیب کی موت کی پیش گوئی کر کے اہل یورپ کو اداس کر دیا اگرچہ اس وقت مغربی تہذیب بام عروج پر تھی اور طاقتور اقوام ایشیا اور افریقہ کے قدرتی اور معدنی ذخائر پر قبضہ کر کے ان کو اپنی کالونی بنا چکی تھیں کہ پہلی جنگ عظیم چھڑ گئی۔جنگ و جدل کے اس منظر نے مغربی تاریخ دان کی پیش گوئی حرف بحرف درست ثابت کر دی۔

اس طرح ٹائن بی(Toyn Bee)  نے دس جلدوں پر مشتمل اپنی کتاب مطالعہ تاریخ (study of History) میں تمام دنیا سے 23 طاقتور اقوام کی تہذیبوں کا مطالعہ کر کے تقابلی جائزہ پیش کیا اور اہل یورپ کو یہ نوید سنائی کہ جو بھی اقوام پیش آمدہ مسائل کا جوانمردی سے سامنا کرتی ہیں وہ مزید نکھر کے صفحہ تاریخ پہ ابھرتی ہیں۔ جبکہ مسائل سے نظریں چرانے والی اقوام صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہیں۔آج علم و حکمت ٹیکنالوجی، مادی اور صنعتی ترقی جو یورپ کی مرہون منت ہے ٹائن بی کی بات کو سچ ثابت کرتی ہے۔ ٹائن بی کے نظریے (Theory of Challenges & Response) کی کامیابی کی بہترین مثال یہودی قوم ہے۔ یہودیوں کو فرانس،انگلینڈ،جرمنی اور سپین سے جلاوطن کیا گیا لیکن انہوں نے اسے مقدر کا لکھا سمجھ کر قبول کرنے کی بجائے چیلنج کے طور پر لیا اور یہودی خاندان روتھ شیلڈ نے اپنا بینکنگ نیٹ ورک جرمنی سے لے کر پورے یورپ تک پھیلا دیا۔ یہودی قوم کی کامیابی کی دوسری اہم کنجی ان کا قابل طلباء کو وظائف دے کر بہترین فلاسفر، مصنفین، سائنسدان اور معیشت دان پیدا کرنا تھا۔ یہودی اقوام کی چیلنجز سے نمٹنے کی اس صلاحیت نے اسے دھتکاری ہوئی قوم کی بجائے کامیاب کاروباریوں اور عظیم سائنسدانوں کی فہرست میں لاکھڑا کیا۔

ہمیں اس طرح کی بے شمار مثالیں مل سکتی ہیں کہ جب بھی کسی معاشرے یا قوم نے خواہ وہ اقلیت ہو یا اکثریت ،مسائل کو چیلنج کے طور پر قبول کیا وہ ہمیشہ سرخرو ہوئی۔ مثال کے طور پر سلطنت عثمانیہ میں عیسائی کمیونٹی نے خود کو بہترین بیورو کریٹ اور منتظم قوم ثابت کیا جبکہ پارسی قوم انڈیا میں بہترین تاجر کے طور پر سامنے آئی۔ پارسی اقلیت نے تجارت،کامرس ،ہوٹلنگ اور ایئر لائن کے کاروبار میں نام کمایا۔

ٹائن بی کے نظریے (Theory of Challenge & Response) کو سمجھنے کے لیے زرتشت کمیونٹی کی مثال اگلی کڑی ہے کہ جب وہ ہجرت کر کے انڈیا پہنچے تو انہوں نے اپنے مذہبی تشخص کو برقرار رکھتے ہوئے مہاراشٹرا کا مقامی کلچر اختیار کیا اور نہ صرف انڈیا بلکہ پاکستان میں کراچی تک اپنے کاروبار کو وسعت دی جبکہ برصغیر کے مسلمانوں کے ایک گروہ نے دارلعلوم دیوبند اور ندوۃالعلماء کی سرپرستی میں انگریزوں کے خلاف مزاحمت جبکہ دوسرے گروہ نے سرسید کی رہنمائی میں انگریزوں سے مفاہمت کی راہ اختیار کی لیکن جب اعلیٰ تعلیم کے باوجود ان کو ملازمتوں میں مقررہ حصہ اور دوسرے حقوق نہ ملے تو ایک طویل جدوجہد کے نتیجہ میں پاکستان معرض وجود میں آیا۔ مگر ستم ظریفی کہ پاکستانی اشرافیہ نے نوزائیدہ مملکت کے چیلنجز سے نبٹنے کی بجائے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لی جس کی وجہ سے مماکت پاکستان اپنوں اور غیروں کی ریشہ دوانیوں کا شکار ہو گئی۔ اب پنڈولم کی طرح جھولتا ہوا ہمارا معاشرہ کب تک اپنا وجود برقرار رکھے گا پیش گوئی کرنا تھوڑا مشکل ہے۔


Comments

FB Login Required - comments