گالیاں، طعنے اور جمہوریت  کا مقدمہ


1-yasir-pirzada’’مان لیا کہ پاکستان میں جمہوریت لاغر ہے ، مان لیا کہ یہاں بار بار آمروں نے شب خون مار کر جمہوریت کا بیڑہ غرق  کیا ، مان لیا کہ سیاست دان کمزور ہیں ، مان لیا کہ ان کے پاس مکمل اختیار نہیں اور یہ بھی مان لیا کہ مغربی ممالک سے ہمارا موازنہ درست نہیں مگر ہسپتالوں کی حالت بہتر بنانے سے جمہوری  حکمرانوں کو کون روکتا ہے ، سکولوں کی چار دیواری بنانے میں کون سا امر مانع ہے ، جرائم کی روک تھام کے لئے کس نے ان  منتخب حکمرانوں کے ہاتھ باندھ رکھے ہیں ، ٹریفک قوانین کی پاسداری کروانے میں کیا رکاوٹ حائل ہے ، پینے کا صاف پانی مہیا کرنے سے کون انہیں روکتا ہے ، سٹریٹ لائٹ ، سیوریج، تھانہ ، کچہری ، عدالت ، پٹوار ۔۔۔۔۔کون سے کام کی کل سیدھی ہے اور کہاں ان سیاسی حکمرانوں کے ہاتھ بندھے ہیں ؟  جمہوریت کا دفاع کرنے کے نام پر تم لوگ اس کرپٹ اور گٹر آلود نظام کا دفاع کرتے ہو حالانکہ  گٹر کو جتنا مرضی صاف کرلو وہاں سے گند ہی برآمد ہوگا  ، جب تک یہ نظام مسلط رہے گا ، کوئی تبدیلی نہیں آسکتی ! ‘ ‘ یہ ہے جمہوریت کے خلاف مقدمے کا مزیدخلاصہ!

کسی بھی کالم کا دوسرا حصہ لکھنا ایسا ہی ہے جیسے کسی کامیاب فلم کا پارٹ ٹو لکھنا اور پھر اس کے فلاپ ہونے کا انتظار کرنا ۔ یہ کالم البتہ اس امید کے ساتھ لکھا جا رہا ہے کہ وہ لوگ  جو  پاکستان میں جمہوریت اور آئین کی بالا دستی پر یقین رکھتے ہیں  کبھی اس کے مستقبل سے مایوس نہیں ہوں گے ۔ لیکن پاکستان عجیب ملک ہے ، یہاں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں (اور خدا کا شکر ہے  کہ وہ اکثریت میں نہیں ) جو جمہوریت کا دفاع کرنے پر بھی طعنے دینے دیتے ہیں ، کیونکہ ان لوگوں نے یہ فرض کر لیا ہے کہ جو شخص جمہوریت کا دفاع کرتا ہے وہ اس نظام سے مطمئن ہے اور اسے ٹھیک نہیں کرنا چاہتا ، یہی ان بیچاروں کا   سب سے بڑا مغالطہ ہے ۔ جمہوریت کا مقدمہ لڑنے  کا  یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس میں اصلاحات نہ کی جائیں ، جمہوریت کا دفاع کرنے کا مطلب صرف یہ ہے کہ اس  نظام کا کوئی بہتر  متبادل ہمارے پاس موجود نہیں اور ثبوت اس بات کا وہ چار مارشل لا ہیں جو جمہوریت کے متبادل کے طور پر پیش کئے گئے اور جن کا نتیجہ ملک ٹوٹنے ، دہشت گردی ، فرقہ پرستی اور لا قانونیت کی شکل میں برآمد ہوا۔ پاکستان میں جمہوریت بہتر بنانے کا یہ حل نہیں کہ جمہوریت کو ہی ختم کر دیا جائے ، کیونکہ اگر آپ کریلے گوشت بنانا چاہتے ہیں اور بنانے کے بعد آپ کو لگتا ہے کہ ذائقہ ٹھیک نہیں   تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ دوسری مرتبہ  ہانڈی میں گاجریں ڈال دی جائیں،ہر مرتبہ کریلے گوشت ہی بنائے جائیں گے تا وقتیکہ مطلوبہ ذائقہ حاصل نہ ہو جائے  ۔ اسی طرح ہمارے ہاں رائج جمہوریت کو ٹھیک کرنے کی دو شرائط ہیں ، پہلی یہ کہ جمہوریت موجود رہے اور دوسری یہ کہ جمہوریت کے اندر رہ کر اس کی خرابیاں دور کی جائیں۔

یہ تمام باتیں اپنی جگہ مگر ہمارے ہاں جمہوریت کا مقدمہ لڑنا آسان کام نہیں ، سادہ وجہ نظام کی وہ خرابیاں ہی جنہوں نے ہماری زندگیاں اجیرن کی ہوئی ہیں اور بظاہر کوئی بھی حکمران ان کے حل میں سنجیدہ نظر نہیں آتا ، ایک عام آدمی کے لئے انتخابی سیاست  چونکہ بساط سے باہرہے اس لئے وہ اس میں حصہ نہیں لے سکتا اور یوں ہم خود کو ایک ایسی بند گلی میں پاتے ہیں جہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ سجھائی نہیں دیتا ۔ ان حالات  میں اس نظام کے خلاف بولنے والے مجاہد ٹھہرتے ہیں اور اس کا دفاع کرنے والوں کو ایک مخصوص طبقہ گالیاں دیتا ہے ۔ لیکن حقیقت اتنی سادہ نہیں جتنی نظر آتی ہے ۔ جمہوریت کو گالیاں دیتے ہوئے ہم فرض کر لیتے ہیں کہ سیاسی طور پر منتخب نمائندوں کے پاس ہی مکمل اختیار ہے جبکہ یہ بات ایک بچہ بھی جانتا ہے کہ ایسا نہیں ہے  ، تاہم اس کے جواب میں یہ دلیل آتی ہے اگر یہ مان بھی لیا جائے تو باقی ماندہ اختیار میں جمہوری حکمران  کیا تیر مان لیتے ہیں ! ہسپتالوں کی مثال ہی لیتے ہیں ، کس نے جمہوری حکمرانوں کے ہاتھ باندھ رکھے ہیں کہ وہ عوام کو صحت کی سہولیات ہی فراہم نہ کریں ؟کسی نے ہاتھ نہیں باندھے مگر یہ بھی ملاحظہ ہو کہ ہمارے  عوام  سہولیات تو برطانیہ امریکہ والی چاہتے ہیں مگر اس کام کے لئے ہمارے پاس جو روپے ہیں ان کی صورتحال یہ ہے کہ پاکستان میں صحت پر انتالیس ڈالر فی کس خرچ ہوتا ہے جبکہ بھارت میں اکسٹھ ڈالر ، ملائشیا میں چار سو دس ڈالر اور ترکی میں چھ سو پینسٹھ ڈالر فی کس خرچ کئے جاتے ہیں ۔ اب سوال صرف یہ باقی رہ جاتا ہے کہ کیا یہ انتالیس ڈالر بھی صحیح طرح خرچ ہو پاتے ہیں یا نہیں ، اس کی نالائقی آپ بھلے سیاست دانوں کے کھاتے میں ڈال دیں !

ایک مغالطہ یہ ہے  کہ اب تک سیاست پر جاگیر داروں کا قبضہ ہے ، خاص طور سے دیہی علاقوں میں جہاں   اب بھی ان کے خلاف کوئی نہیں جیت سکتا ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ پنجاب میں نوّے فیصد قابل کاشت  زرعی رقبے کے مالک وہ لوگ ہیں جن کے پاس پانچ ایکڑ سے کم اراضی ہے  اور پورے پنجاب میں تقریبا نناوے فیصد لوگ وہ ہیں جو ایک مربع سے بھی کم قابل کاشت رقبے کے مالک ہیں ، کیا ایک مربع کا مالک جاگیر دار کہلائے گا ؟اور دوسری بات وہ جو میرے گزشتہ کالم میں کچھ لوگ سمجھ نہیں پائے ،جب میں نے جگنو محسن کی مثال دی تو بہت سے لوگوں نے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جگنو تو خود  ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھتی ہیں ، ان کے حمایت یافتہ امیدوار جیتے تو کون سی تبدیلی آ گئی !حالانکہ اصل بات یہ تھی کہ ان غریب  امیدواروں کے مخالف  وہ لوگ تھے جنہیں صحیح معنوں میں اشرافیہ کہا جا سکتا ہے جن میں جگنو کا اپنا بھتیجا بھی شامل تھا ،سو اگر کسی نے ان پسے ہوئے طبقے کے لوگوں کو اشرافیہ کے مخالف لا کھڑا کیا توتبدیلی کی ہی کوشش کی نہ کہ روایتی سیاست کی !  اہم نکتہ یہ بھی  تھا کہ گزشتہ دو دہائیوں کی قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ممبرا ن کی فہرستوں کا موازنہ کیا  جائے تو بیسیوں ایسے نام سامنے آئیں گے جن کا تعلق مڈل اور لوئر مڈل کلاس سے ہے اور وہ پارلیمنٹ میں بیٹھے ہیں  سو یہ کہنا درست نہیں کہ پاکستان میں سیاست صرف ایلیٹ کا شوق ہے۔

 وقت گذرنے کے ساتھ اسی جمہوریت کے اندر رہتے ہوئے جو بہت سے تبدیلیاں آئیں ان میں سے چند  مزید مثالیں میں پیش کئے دیتا ہوں ۔ ایک زمانے میں فلور کراسنگ کا بہت رواج تھا ، لوگ کسی پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہو کر آتے مگر وفاداری تبدیل کر لیتے ، حکومتیں ایسے ہی بنائی اور گرائی جاتی تھیں  ، کیا اب کسی نے فلور کراسنگ کا ذکر سنا ہے ؟اسی طرح گزشتہ چند برسوں میں میڈیا جس طرح  جمہوری حکومتوں کی گوشمالی کرتا ہے کیا اس کا تصور بھی پہلے موجود تھا ؟ کیاآ ج سے بیس برس پہلے  منتخب اراکین کے اثاثے یوں عوام کے سامنے رکھے جاتے تھے جیسے آج  ویب سائٹ پرموجود ہیں؟ ایسی لاتعداد مثالیں دی جا سکتی ہیں مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ میں یا مجھ ایسے لوگ اس سسٹم سے مطمئن ہیں، ہم بھی اسی عام آدمی کی طرح نالاں ہیں جس کے لئے زندگی گذارنا عذاب سے کم نہیں ، مگر مسئلہ صرف یہ ہے کہ جو لوگ اس نظام کو ڈس کریڈٹ کر رہے ہیں ان لوگوں کو یہ اچھی طرح علم ہے کہ  اس کا نتیجہ اس سے بھی زیادہ فرسودہ نظام کی راہ ہموار کرنے کی شکل میں  نکلے گا اور اسی میں ان کا مفاد ہے !جمہوریت رہی تو انہیں کون پوچھے گا!


Comments

FB Login Required - comments