تصویریں، کالم اور ادب 


naseer nasirآج کل تصویروں اور کالموں کا زمانہ ہے۔ جس طرح ہماری حکومتوں اور این جی اوز کے زیادہ تر کام صرف فائلوں اور اشتہاروں میں ہوتے ہیں، اصل میں نہیں ہوتے اسی طرح اکثر ملاقاتیں، تقریبات وغیرہ بھی اب حقیقت میں کم اور تصویروں اور کالموں میں زیادہ نظر آتی ہیں۔ بعض لوگ تو ایسے “تصویری” اور “کالمی” پروگراموں میں شرکت کے اتنے ماہر ہو گئے ہیں کہ صرف چند منٹوں کی شمولیت سے خبروں، تصویروں اور کالموں میں یوں پیش پیش دکھائی دیتے ہیں جیسے تقریب انہی کے لیے منعقد کی گئی ہو۔ کم وقت میں زیادہ رونمائی اور کوئی کار ہائے نمایاں سر انجام دیے بغیر مشہوری اب کرپشن اور منافقت کی طرح ایک باقاعدہ “تسلیم شدہ” آرٹ اور ایک مثالی معاشرتی معیار ( سوشل نارم ) کا درجہ حاصل کر چکی ہے۔

معاشرے کے دوسرے طبقات کی نسبت ادبی سماجیات میں “تصویر نمائی” کا فن کچھ زیادہ ہی تیزی سے پھولا پھلا اور پھیلا ہے۔ کسی کتاب کی رونمائی ہو، کسی شاعر کی پذیرائی ہو یا کوئی اور ادبی تقریب، صاحبِ تقریب کے ساتھ باقاعدہ کسی شادی کی تقریب کی طرح فوٹو سیشن ہوتے ہیں۔ تقریب سے پہلے، تقریب کے دوران، تقریب کے بعد، چائے یا کھانے کی میز پر حتیٰ کہ عمارت جس میں تقریب منعقد ہوتی ہے اس کے داخلی اور خارجی دروازوں پر، مین گیٹ پر اور بعض شوقین مزاج تو سرِ عام سامنے کی سڑک پر بھی تصویر بازی سے باز نہیں آتے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض اوقات کچھ بھی بہرِ تقریب نہیں ہوتا مگر تصویروں اور کالموں کے ذریعے اسے “بہت کچھ” بنا دیا جاتا ہے۔ ایسی فنکاری اور کرشماتی تصویر کشی پر تو آدمی خود تصویر ہو کر رہ جاتا ہے۔ فی زمانہ بعض شاعر اور ادیب اس فن کے خصوصی ماہر ہیں۔ اگر کسی تقریب میں کوئی اعلیٰ سرکاری افسر یا کوئی وزیر مشیر یا کوئی اہم سیاست دان مہمانِ خصوصی ہو تو وہاں حاضرین کم اور صحافی اور فوٹو گرافرز زیادہ نظر آتے ہیں۔ اور کیمروں کی فلیش لائیٹس اتنی زیادہ ہوتی ہیں کہ بجلی چلی بھی جائے تو پتا نہیں چلتا۔ اور تو اور حلقہ اربابِ ذوق جیسے خالص ادبی فورم کے اجلاسوں میں بھی اب بحثیں کم ہوتی ہیں اور تصویریں زیادہ بنتی ہیں۔ پہلے یار لوگ دوست احباب کو اس لیے حلقے میں ساتھ لے کر جاتے تھے کہ مخالفانہ تنقید کی صورت میں دوست جوابی کارروائی کر سکیں۔ اب لوگ کیمرے وڈیو والے موبائل اور تصویریں کھینچنے والے بندے ساتھ لے کر جاتے ہیں۔ اگر تصویریں اور وڈیوز اچھی بن گئیں تو سمجھو اجلاس بھرپور اورکامیاب ہو گیا۔

شاعر اور ادیب بننے کے لیے اب زیادہ محنت اور مطالعہ کی ضرورت نہیں رہی۔ کوئی ایک “آئٹم” لکھ پڑھ کر مہینوں سوشل میڈیا پر تصویروں اور ویڈیوز کے ذریعے اس کی تشہیر کی جاتی ہے۔ اس پر کالم لکھوائے جاتے ہیں۔ یوں تخلیق کار تو اِن فوکس رہتا ہے مگر اس کی تخلیق اور اس پر ہونے والی گفتگو کہیں سنائی اور دکھائی نہیں دیتی۔ اس رجحان نے ادبی نقادوں کو بڑا نقصان پہنچایا ہے اور ان کی فیس بلکہ فیس بک ویلیو کم ہو گئی ہے۔ اب ادیب اور شاعر اپنے کلام اور “کام” کی سند کالم نگاروں سے لیتے ہیں۔ اس کام میں بعض کالم نگاروں کو شہرتِ دوام اور ملکہ عام حاصل ہے۔ بلکہ یوں کہیں کہ ادبی سند دینے میں ان کا نام مستند ہے۔ ان کے پاس زندہ ادیبوں شاعروں کو مارنے اور مرے ہوؤں کو زندہ کرنے کا غیر سرکاری لائسینس ہے۔ ان کے ہاتھوں ہر روز کوئی نہ کوئی شاعر ادیب بغیر اڑان بھرے یعنی بغیر کچھ لکھے نویں آسمان پر پہنچ جاتا ہے یا کوئی نہ کوئی عمدہ تخلیق کار ان کے کالم کی مار سے پاتال کی سب سے نچلی تہہ میں ان کے تئیں زندہ درگور ہو جاتا ہے۔

پہلے کہا جاتا تھا کہ جو لاہور نہیں گیا وہ پیدا نہیں ہوا۔ دنیائے ادب میں یہ محاورہ اب یوں مستعمل ہے کہ جس پر فلاں نے کالم نہیں لکھا وہ شاعر ادیب نہیں بنا چاہے وہ کتنا ہی اچھا کیوں نہ لکھتا ہو۔ اس کالم ماری کا فائدہ یا نقصان شاعروں ادیبوں کو ہو نہ ہو مگر کالم نگاروں کے گرد گٹے گوڈے پکڑنے اور مٹھی چانپی کرنے والوں کی بھیڑ لگی رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب جو شاعر ادیب لکھنے سے یا نوکری سے فارغ ہوتے ہیں وہ نت نئے اخباروں میں کالم نگاری کا پیشہ اختیار کر لیتے ہیں اور اپنی باقی ماندہ عمر ادب کے بجائے ادیب گری، خود ستائشی اور ذاتی یا گروہی تعصبات کی بنیاد پر ادبی فتاویٰ جاری کرنے میں گزار دیتے ہیں۔ دوسری طرف جو شاعر و ادیب نیا نیا لکھنا شروع کرتا ہے یا کسی نئی جگہ جا کر بستا ہے تو سب سے پہلے درجہ بدرجہ وہاں کے کالم نگاروں کے در پر حاضری دیتا ہے تاکہ اس کے ادبی مقام و مرتبے کے جملہ حقوق اصیل لکھنے والوں سے نہ صرف محفوظ رہیں بلکہ وقتاً فوقتاً جینوئن لکھنے والوں پر اس کی فوقیت کے چرچے بھی ہوتے رہیں۔

جب حکومتیں اور سیاستدان ملک میں کوئی تبدیلی لاتے ہیں یا لانے کے خواہاں ہوتے ہیں تو اس کا پتا ملک کے روز مرہ حالات و معاملات سے نہیں بلکہ روزناموں اور ٹی وی چینلز کی اشتہاری مہم سے چلتا ہے۔ ضروری نہیں کہ درحقیقت بھی وہ تبدیلی آئی ہو لیکن اشتہاروں اور تصویروں کی حد تک وہ تبدیلی آ چکی ہوتی ہے اور عوام الناس کے ذہنوں اور دلوں میں یہ بٹھا دیا جاتا ہے کہ فلاں فلاں اچھے اور بڑے بڑے منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچ چکے ہیں اور اب ان کو یعنی عوام کو دنیا کی ہر سہولت گھر بیٹھے حاصل ہے۔ اسی طرح ادیب اور شاعر بھی اب لکھتے نہیں “پروجیکٹ کرتے” ہیں۔ اور تصویروں اور کالموں کے ذریعے اتنی تشہیر کرتے ہیں کہ ان کے اصل کام یعنی تخلیق کاری کی طرف کسی کا دھیان ہی نہیں جاتا۔ یوں وہ کچھ لکھے بغیر بھی برسوں ممتاز و معروف رہ سکتے ہیں۔ ادبی شہرت پیدا کرنے میں لکھنا یا اچھا لکھنا اب ایک ثانوی حیثیت اختیار کر گیا ہے، بعض شعبدہ باز لکھاریوں اور شہرت سازوں کے نزدیک تو سرے سے اس کی ضرورت ہی نہیں رہی۔ گویا ہمارا ادب اب لکھت اور لکھاری کا نہیں، تصویروں اور کالم نگاروں کا مرہونِ منت ہو کر رہ گیا ہے۔ یوں تو شعر و ادب پر اچھا وقت کبھی نہیں رہا مگر اس سے بُرا کبھی نہیں آیا۔

 


Comments

FB Login Required - comments