دہشت، صارفیت اور ادب


 nasir abbas nayyarدہشت گردی اورگلوبلائزیشن کی صارفیت میں کوئی تعلق تلاش کرنا شاید دور کی کوڑی لگے، یا مقبول عام سازشی نظریوں کی قبیل کی خیال آرائی محسوس ہو، لیکن دہشت زدگی اور صارفیت میں کچھ نہ کچھ تعلق ضرورہے۔ ہم پاکستانی حقیقی طور پر دہشت زدہ مخلوق ہیں۔ صرف اس حقیقت کی وجہ سے نہیں کہ ہم نے، ایک دفعہ نہیں درجنوں مرتبہ، اپنوں جیسے ہزاروں کو پل بھر میں بارودی آگ میں انتہائی بے بسی اور بے توقیری کے ساتھ چیتھڑوں میں بدلتے دیکھا ہے، بلکہ اس حقیقی خدشے کی وجہ سے بھی کہ یہی کچھ خود ہمارے ساتھ کسی وقت، کہیں بھی دہرایا جا سکتا ہے۔ بربادی کا حقیقی منظرآدمی کو کسی نہ کسی وقت بھول سکتا ہےکیوںکہ ہم ماضی بھلا کر آگے بڑھنے کا فطری میلان رکھتے ہیں مگرجب ہمارے مکمل اور بدترین اور ہیبت ناک انہدام کی حقیقی وجوہ موجود ہوں، اور یہ وجوہ، آگے کی طرف بڑھتے ہمارے ہر قدم سے لپٹتی محسوس ہوں تو دہشت ہماری روحوں میں اتر جاتی ہے۔

 کیا دہشت زدہ روحیں زیادہ لالچی ہوجایا کرتی ہیں؟ اور موت کا حقیقی خوف، زیادہ سے زیادہ چیزوں کو ہڑپ کرنے کی خواہش ابھارتا ہے؟ اس سوال کوسمجھنے کے کئی طریقے ہوسکتے ہیں۔ ایک طریقہ نفسیاتی ہے۔ نفسیاتی زاویے سے دیکھیں توموت کا حقیقی خوف ہماری اناﺅں پر حملہ آور ہوتا ہے۔ ہم سارے دکھ جھیل سکتے ہیں، مگراپنی انا کو زخمی کرنے والا دکھ آسانی سے نہیں جھیل سکتے، اور انا کے مکمل خاتمے کا دکھ تو ہرگز نہیں؛ موت، انا کا مکمل خاتمہ ہے۔ شاید اسی لیے موت کا حقیقی خوف ہمیں ان سب چیزوں کو حقیقی طور پرحاصل کرنے پر مائل کرتا ہے، جنھیں ہم اپنی انا کی ملکیت یا توسیع سمجھ سکیں۔ لیکن یہ طریقہ موت کا مقابلہ کرنے کا نہیں، موت کے خوف سے بچنے کا ہوتا ہے، اور اس کی نوعیت کم وبیش وہی ہوتی ہے جس کا مظاہرہ بچے کرتے ہیں، جو ڈر کر ماں کی گود میں پہنچ جانے کی کوشش کرتے ہیں، یا جس کا مظاہرہ بڑی عمر کے ڈرے ہوئے لوگ: ہجوم، ادبی مجلسوں، میلوں اور جلسے جلوسوں میں، یا مساجد، گرجوں، مندروں میں یا مزارات پرجانے کی صورت میں کرتے ہیں۔ اسے ہم اتفاق نہیں سمجھ سکتے کہ دہشت زدگی کے عالم میں لوگ ثقافتی تہواروں، ادبی میلوں، سیاسی جلسوں میں جو ق در جوق shopجانے لگتے ہیں، حالاں کہ وہاں دہشت گردی کا حقیقی خطرہ ہوتا ہے۔ بعض لوگوں کے خیال میں اس طرح دہشت گردوں کو پیغام دیا جاتا ہے کہ ’ہم تم سے ڈرنے والے نہیں، دیکھوہم اپنی روزمرہ کی زندگی جاری رکھے ہوئے ہیں‘۔ معاشرتی حوالے سے یہ اجتماعات یہی پیغام دیتے محسوس ہوتے ہیں، مگر ان اجتماعات کے ایک سے زیادہ محرکات ہیں؛ معاشرتی محرک تو ان میں سے ایک ہے۔ بعض تجارتی محرکات کے ساتھ ساتھ، موت کے خوف سے بچنے کا نفسیاتی محرک بھی کام کر رہا ہوتا ہے۔ ملکیت کا بے پایاں احساس اور صَرف کرنے کی بے لگام خواہش، موت کے خوف سے بچنے کی حکمت عملی ہے۔ جلسے جلوسوں میں شریک ہونے والے لوگوں میں یہ احساس بہت قوی ہوتا ہے کہ وہ اپنوں میں ہیں؛یہاں اپنی کمیونٹی، اپنی سیاسی جماعت، اپنی لیڈر شپ کی ملکیت کا جذبہ محسوس کیا جاتا ہے، اور وہاں جو کچھ کہا جاتا ہے، اسے غیر تنقیدی انداز میں تسلیم کیا جاتا ہے۔ جلسے جلوسوں کے سامعین ہوں یا ٹی وی اور نٹر نیٹ کے ناظرین، انھیں کنزیومر سمجھ کر ہی، ان تک خیالات اور دیگر ہرطرح کے مواد کی ترسیل کی جاتی ہے۔ کنزیومر، سوچنے والے افراد نہیں، صَرف کرنے والے مخلوق تصور کی جاتی ہے۔

یہاں ہمیں منٹو کا افسانہ ’پانچ دن‘ یاد آتا ہے، جس میں موت کی چوکھٹ پر پہنچا بوڑھا پروفیسر اپنی زندگی کے آخری پانچ دن، جواں سال سکینہ کے ساتھ ہوس وشہوت سے بھرپور گزارتا ہے۔ جن ہوس ناک خواہشات کو اس نے عمر بھر اخلاقی ضبط کے تابع رکھا تھا، وہ موت کی دستک سننے کے ساتھ ہی پوری طاقت سے بیدار ہوجاتی ہیں۔ وہ ہوس کی تسکین سے موت کی دہشت سے بچنے کی سبیل کرتا ہے، اورایک طرح سے اپنی موت کو پرسکون بناتا ہے۔ کسی سپر سٹور میں اندھا دھند خریداری کرتے لوگوں کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ جیسے منٹو کے بوڑھے پروفیسر کی دہشت زدہ روح، ان سب میں حلول کر گئی ہے۔ وہاں اس طور کھوے سے کھوا چھل رہا ہوتا ہے، حسن کی بہتات ہوتی ہے، آرائش اور سامان آرائش ہوتا ہے، اورکیا بچے، کیا جوان، کیا بزرگ سب، ایک دوسرے سے قطعی بے خبر، ٹرالیوں میں دنیا جہان کی الا بلا ٹھونس رہے ہوتے ہیں کہ تھوڑی دیر کے لیے لگتا ہے کہ جیسے ان سب کو یقین ہو چلا ہے کہ ان کی مہلت ہستی ختم ہونے والی ہے، اور وہ اپنی سب حسرتیں پوری کرنے کی عجلت میں ہیں۔ یہاں آ کر یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ ہم شاید کسی جادوئی دنیا میں آگئے ہیں، جہاں موت ودہشت جیسی سنگین حقیقتوں کا کہیں گزر نہیں۔ یہاں آنے والے چند لمحوں میں بھول جاتے ہیں کہ انھیں سپرسٹور کے اندر واک تھرو گیٹ کے ذریعے داخل ہونا پڑا تھا۔ ان کے دھیان میں ذرا سی دیر کے لیے آنے والا یہ احساس جلد محو ہو جاتا ہے کہ وہ کس قدر جلدی اس توہین کے عادی ہوگئے ہیں، جو تلاشی کے عمل کے دوران میں ان سے روا رکھی جاتی ہے۔

shoppp جب آپ کو قدم قدم پر یہ ثابت کرنا پڑے کہ آپ دہشت گردوں کے ساتھی نہیں ہیں اور آپ نے اپنی جیب، پرس، بغلوں، جانگیے وغیرہ میں کوئی خطرناک شے نہیں چھیائی ہوتو اسے توہین کے سوا کیا نام دیا جا سکتا ہے! ہمیں سیکورٹی اہل کاروں کے اس شک کو باقاعدہ ثبوت سے رفع کرنا پڑتا ہے کہ ہم اپنے ارد گرد موجود لوگوں اور تنصیبات کے لیے خطرہ نہیں ہیں۔ گویا ہم تب تک خطرہ سمجھے جاتے ہیں، جب تک جدید آلات کے ذریعے خود کو معصوم ثابت نہیں کرتے۔ ہم میں سے کتنے ہیں جو اس خوف ناک بات کو محسوس کرتے ہیں کہ اپنی معصومیت ثابت کرنے کے لیے معقولیت کی گنجائش ختم کردی گئی ہے۔ کاندھے پر گولیوں سے بھری بندوق لٹکائے محافظ کے لیے دلیل اور جرح سرے سے کوئی معنی نہیں رکھتی۔ (کیا کسی گولی والے کی نظر میں دلیل کی کوئی اہمیت ہے؟) دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لیے بندوق مناسب ہوسکتی ہے، مگر ہر ہر قدم پر بندوقوں کی نمائش سے دہشت گردی کا امکان ختم کیا جاتا ہے، یا دہشت گردی کے ہر لمحہ امکان کا یقینی احساس دلا کر ہمیں خوف کی مستقل حالت میں رکھا جاتا ہے، یہ ہم سب کے سوچنے کی بات ہے! خیر یہ سب باتیں، آپ سپر سٹور میں اشیائے صرف کی خریداری کا آغاز کرتے ہی بھول جاتے ہیں۔ بہت کچھ بھولنے کے لیے ہی تو آپ ادھر کا رخ کرتے ہیں۔

یہ جادوئی دنیا باہر کی حقیقی دنیا کی یادداشت کچھ دیر کے معطل کردیتی ہے۔ مثلاً آپ کے ذہن سے یہ بات محو ہوجاتی ہے کہ باہر کی دنیا میں کروڑوں لوگوں کو ایک وقت کی روکھی سوکھی روٹی بھی میسر نہیں۔ اسی طرح یہ بات بھی خیال میں نہیں آتی کہ سپر سٹور کی جادوئی دنیا اور کروڑوں افتادگان خاک کے درمیان کتنا فاصلہ ہے، اور کس نے قائم کیا ہے۔ آپ مکمل طور پر اس دنیا کے رحم وکرم پر ہوتے ہیں۔ یہ جادوئی دنیا صارفیت کی دنیا ہے۔ صارفی دنیا، آپ کوتنقیدی انداز میں سوچنے کی زحمت سے بچاتی ہے۔ یہ آپ کو صرف ترغیب دیتی ہے، اشتہارات کے ذریعے، سمارٹ نوجوان مسکراتی لڑکیوں اور لڑکوں کے خیر مقدمی کلمات کے ذریعے، ہلکی ہلکی موسیقی کے ذریعے، بڑے ڈسکاﺅنٹ کی پیش کش کے ذریعے، اور سب سے بڑھ کر بڑی مقدار میں سجی اشیا سے از خود پھوٹنے والی اشتہا کے ذریعے۔ آپ کو ترغیب دی جاتی ہے کہ آپ خریدیں، ہر شے خریدیں، کھانے پینے کی اشیا سے گھریلو آرائش کی چیزوں تک، کپڑوں سے نئے موبائل، گھڑیوں تک۔ نئے جوتوں سے لے کر نئے لیپ ٹاپ تک اور خریداری کے عمل کو بجائے خود ایک جشن تصور کریں۔ جی ہاں۔ ایک یکسر نئی چیز۔ صرف چیزیں آپ کو خوشی نہیں دیتی، نفاست سے سجی چیزوں کواٹھانا، انھیں ٹرالی میں ڈالنااور کاﺅنٹر تک لے جانا، اور فخر کے ساتھ بھاری بل ادا کرنا، اور ان کی ملکیت کے احساس سے خود کو ایک نئی طاقت سے سرشار محسوس کرنا ایک جشن ہے۔ آپ جانتے ہیں، ہر جشن کچھ دیر کا ہوتا ہے۔ چناں چہ صارفیت آپ کوایک طرف یہ یقین دلاتی ہے کہ چیزیں آدمی کی بنیادی ضرورت ہیں، اوردوسری طرف مسلسل اس بات کے لیے دباﺅ ڈالتی ہے کہ آپ تسلیم کرنے لگیں کہ چیزیں جلد پرانی ہوجاتی ہیں۔ ’پرانا جائے گا تو نیا آئے گا‘ یہ صارفیت کے مذہب کا اہم رکن ہے۔

shop4دنیا میں کسی شے کو ثبات حاصل نہیں:ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں۔ اس فلسفے کو صارفیت نے شد ومد سے اختیار کیا ہے۔ صنعتی عہد میں روٹی، کپڑا، مکان جیسی بنیادی ضرورتوں کو سامنے رکھ کر چیزیں بنائی جاتی تھیں، مگر جلد ہی احساس ہوا کہ اس طرح تو سرمائے کی افزائش ایک خاص حد سے آگے نہیں جائے گی۔ چناںچہ بیسویں صدی کے دوسرے نصف میں اس بات پر غور کیا جانے لگا کہ کیا انسانوں کی بنیادی ضرورتیں، بنیادی جبلتوں کی طرح ہیں، جن میں رد وبدل ممکن نہیں؟ اس نتیجے پر پہنچنے میں دیر نہیں لگی کہ نہ صرف انسانوں میں نئی ضرورتیں پیدا کی جا سکتی ہیں، بلکہ بنیادی و ثانوی و فوقی ضرورتوں کا فرق بھی مٹایا جا سکتا ہے۔ یہ فرق اگر قائم رہے تو لوگ اشیا کے ضروری اور غیر ضروری ہونے میں بھی فرق کرنے لگتے ہیں، اور یہ صارفیت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ صارفیت، ہر ضرورت کے بنیادی ہونے میں یقین ابھارتی ہے۔ اسی لیے مابعد صنعتی عہد میں، جس کا لازمی نتیجہ صارفیت ہے، اشیا کی لامتناہی پیداوار کو بے خوف وخطر جاری رکھا جانے لگا۔ مابعد صنعتی عہد کے سرمایہ دار کو یقین ہو گیا تھا کہ ہر شے کو بیچا جا سکتا ہے۔ یہی نہیں ثقافتی رسوم، تہواروں، مختلف مشاہیر، رشتوں سے منسوب دنوں کو بھی ’شے‘ میں تبدیل کیا جاسکتا ہے، اور انھیں بیچا جاسکتا ہے۔ صارفیت، اس سے بھی آگے جاتی ہے، اور دہشت کو ایک کموڈیٹی کی طرح بیچتی ہے۔ دہشت زدہ اور خود کو غیر محفوظ سمجھنے والے لوگ، زیادہ سے زیادہ اشیا، اسی طرح جمع کرنے اور صَرف کرنے لگتے ہیں، جس طرح قحط سے ڈرے ہوئے، لالچ کا شکار ہوکر ذخیرہ اندوزی کرنے لگتے ہیں۔ ذرا غورکیجیے: دہشت گردی کے مسلسل خطرے نے سیکورٹی آلات کی تجارت کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہے، اور سیکورٹی گارڈ فراہم کرنے والی فرمیں کس قدر دولت بٹور رہی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ صارفی دنیا اس یقین سے سرشار رہتی ہے کہ ہر شے کے لیے لوگوں کے یہاں ضرورت ’پیدا‘ کی جا سکتی ہے۔

shop5اس حقیقت کو قدیم مذاہب، خصوصاً بدھ مذہب نے دریافت کرلیا تھا کہ آدمی کے دکھ کا باعث خواہش ہے، یعنی اس کی ہستی کا مرکز خواہش ہے۔ یہ خواہش بلیک ہول کی طرح ہے۔ آدمی کا پیٹ بھر سکتا ہے، خواہش کا پیٹ نہیں بھرتا۔ مذاہب نے خواہش کو قابو میں لانے کے لیے تعلیمات کا نظام تیار کیا، مگر صارفیت نے خواہش کی افزائش کا سامان کیا۔ خواہش کی افزائش ”دوسرے“ کی مدد سے ہوتی ہے۔ فرانسیسی ماہر نفسیات ژاک لاکان نے کہا ہے ہماری شخصیت کے ارتقا کا پہلا مرحلہ، مراة کی منزل یا Mirror Stage ہے۔ جب ہم آئنے میں اپنا عکس دیکھتے ہیں تو اس عکس کی مدد سے خود کو پہچانتے ہیں۔ یہ عکس ہمارے لیے ”دوسرا“ ہے۔ بعد میں زبان، ثقافت اور مختلف بیانیے، ڈسکورس وغیرہ ”دوسرے“ کا کردارادا کرتے ہیں، اور ہم عمر بھر خود کو ان ”دوسروں “ کے ذریعے پہچانتے رہتے ہیں۔ یوں ہمارے اندر ”دوسروں “کی خواہش پیدا ہوتی ہے؛ ہم وہی چاہنے لگتے ہیں جو ”دوسرا“ چاہتا ہے۔ صارفیت بھی ہمارے اندر ”دوسرے “ کی خواہش کو ضرورت بنا کر ابھارتی ہے۔ اس کے لیے اشتہارات سے لے کر بعض ثقافتی و نفسیاتی طریقے اختیار کیے جاتے ہیں۔ صارفیت میں لامتناہی اشیا، ”دوسرے“ کا کردارادا کرتی ہیں، اوران کے ذریعے ہم خود کو پہچاننے لگتے ہیں۔ صارفیت میں اشیا یعنی گاڑی، فرنیچر، سیل فون، گھر، اس کی آرائش، فاسٹ فوڈ، کپڑوں کے برانڈ ہماری پہچان بنتے ہیں۔ گلوبلائزیشن (یعنی اشیا کی آزادانہ نقل وحرکت کو ممکن بنانے والامعاشی نظام) قوم، نسل، زبانوں کے فرق کو اسی لیے مٹانے کی سعی کرتی ہے، اور ثقافتی یکسانیت قائم کرنے کی کوشش کرتی ہے، تا کہ لوگ عالمی اشیا، ایک عالمی زبان، ایک عالمی ثقافت کے ذریعے اپنی پہچان بنائیں۔

صارفیت، شے سازی یعنی Commodification اور شے کے صَرف کے لیے لامتناہی طور پر کوشاں رہتی ہے۔ کسی شے کی اپنی کوئی قدر ہے، نہ کوئی معنی۔ وہ بعض اقدار اور معانی کی حامل سمجھی جا سکتی ہے، مگر یہ دونوں وقتی، عارضی اور قابل تبادلہ ہیں۔ ایک شے کی قدر، کسی دوسری شے کی قدر سے بدلی جا سکتی ہے۔ غالب نے اس حقیقت کو تقریباً دو صدی پہلے دریافت کر لیا تھا۔

اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا

ساغرِجم سے میراجام سفال اچھا ہے

غالب نے اس شعر میں اسی آئرنی کو پیش کیا ہے، جو ان کے اشعار میں عام طور پر موجود ہے، اور ان کی شاعرانہ عظمت کی بنیادوں میں سے ایک بنیاد بنتی ہے۔ وہ ساغر جم پر اپنے مٹی کے پیالے کو فوقیت دیتے ہیں۔ بہ ظاہر وہ کہتے ہیں کہ ایک جام سفال کا تبادلہ، دوسرے جام سفال سے ہو سکتا ہے، مگر شعر میں آئرنی یہ ہے کہ جمشید کا ساغر، بہ ہر حال ایک ساغر ہے، اور اس کی قدر اور ایک عام آدمی کے مٹی کے پیالے کی قدر، دونوں اضافی ہیں، اور اسی بنا پر دونوں کا تقابل کیا جانا ممکن ہے۔ چوں کہ اشیا کے معانی و اقدار، وقتی عارضی، اضافی ہیں، اور ان کے اپنے نہیں ہیں، اس لیے ان سے مستقل، گہرا، زندہ رشتہ قائم نہیں ہوسکتا۔ ایک شے، جلد یا بدیر صَرف ہوجاتی ہے، کوئی نقش قائم کیے بغیر؛اس کی جگہ نئی شے لے لیتی ہے۔ یہی وجہ سے کہ آدمی کا تعلق کسی ایک شے کے ساتھ نہ تو گہراجذباتی ہوتا ہے، نہ مستقل۔ چناں چہ صَرفیت، بالآخر سطحیت کو جنم دیتی ہے۔ ادب و آرٹ، چوں کہ اپنی اصل، اپنی نہاد میں معنی و قدر رکھتے ہیں، اس لیے وہ، صارفیت کی سطحیت سے نجات دلاسکتے ہیں۔ ادب و آرٹ کی تخلیق، معنی و (جمالیاتی ) قدر کی تخلیق ہے۔ ان کے معانی و اقدار عارضی، وقتی نہیں ہیں؛ یہ ایک زندہ وجود کی طرح نشوونما پاتے ہیں، اور پھلتے پھولتے ہیں۔ کیسا انوکھا پیراڈاکس ہے! آدمی، شے کے انتہائی قریب ہونے کے باوجود، اس سے داخلی تعلق قائم نہیں کرپاتا، مگر ادب و آرٹ، دنیا سے بہ ظاہر فاصلہ رکھنے کے باوجود، اس دنیا سے گہرا، حقیقی، پرجوش رشتہ استوار کرنے میں سب سے زیادہ مدد دیتے ہیں۔ آپ شے کو اپنی دسترس میں رکھنے کے باوجود، اس کی شیئت سے لاتعلق رہتے ہیں، جب کہ ادب وآرٹ اپنے شے ہونے کی نفی کرنے کے باوجود، یعنی تجرید و تصور اور ہیئت اختیار کرنے کے باوجود، دنیا کے مادی وجود کے ولولہ خیز لمس یعنی اس کی شئیت، اور اس کے معنی و قدر سے مطلع کرتے ہیں۔ ادب و آرٹ کا یہی پیراڈاکس، اور پیر اڈاکس کے ذریعے عظیم حقیقتوں تک رسائی، درج ذیل نثری نظم کا موضوع ہے۔

میں تمھاری روح میں سفر کرنا چاہتا ہوں

اس لیے تمھارے بدن کے ستار کے ایک ایک تار پر انگلی رکھتا ہوں

مجھے ایک رات خواب میں

شاید اس کا نام یوسف تھا

مجھے نام ٹھیک طرح یاد نہیں نام کو چھوڑو

اس نے بتایا تھا کہ جو

بدن کے راگ کو دریافت کر لیتا ہے

(اس نے یہ بھی بتایا تھا کہ ہر بدن کا اپنا راگ ہے اور ہر بدن کا اپنا گھرانہ ہے، اس کے باوجود)

وہ سب کی روحوں کی سرگوشیاں سن لیتا ہے


Comments

FB Login Required - comments