مذہب پر عصری تنقید


jamshed iqbal 2  مغربی فکر اور مذہب  کے مابین بدلتے ہوئے  تعلق  کو پانچ  ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ۔  پہلے  دور میں فلسفہ بطور مذہب متعارف کروایا گیا  ۔ اس دور میں فلاطونی   عیان ثابتہ  ، ارسطو کا تفکراتی آدرش  اور نو فلاطونی سری  فلسفہ و تصوف شامل ہیں  ۔ دوسرے دور میں فلسفے سے مذہب کی لونڈی   کا کام لیا گیا ۔اس دور کا آغاز سکندریہ  کے فائلو سے شروع ہوکر مسیحی فلاطونی متکلمین سے ہوتا ہوا قرونِ وسطیٰ  کی الہٰیات  تک اور پھر سینٹ ٹامس اکوائنس پر تمام ہوتا ہے ۔

  تیسرے  عہد میں مفکرین  کا کام مذہب کا جواز تلاش کرنا ٹھہرا ۔اس دور میں وحی کو علم کا معبتر ذریعہ قرار دینے والوں میں   پاسکل  استدلال قلب کا نظریہ لے کر آئے   تو ڈیوڈ ہیوم تشکیک و ایقان  کا  ۔ کانٹ  نے مذہب اور عملی  عقل   کو فلسفیانہ مباحث کا موضوع بنایا  تو  کیرکے  گارڈ نے  تفکر اور موضوعیت  جیسی عمیق دنیاؤں تک   رہنمائی کی  ۔لیکن مجموعی طور پر  اس دور میں فلسفیوں کا فکری  چلن لا ادرِيَت (agnosticism)   رہا  یعنی ان کے خیال  میں خُدا یا کسی ماورائی وجود کا علم  ناممکن  تھا ۔

 چوتھا  دور (دورِ جدید)  تحلیلی دور کہلاتا ہے جس میں مغربی مفکرین کی توجہ  مذہب اور مذہبی زبان  کے تجزیے و تحلیل  پر  مرکوز رہی ۔اس دور میں مذہب کو مابعد الطبیعات سے الگ کرکے دیکھا جانے لگا لیکن بعد میں جب    زبان کے تجزیہ و تحلیل کا آغاز ہوا تو  مابعد الطبیعات کوایک بار پھر  فلسفیانہ مباحث میں شامل کرلیا گیا  ۔  پانچواں  عہد  بعد از جدید دور ہے جس میں مذہب کی  بنیادیں   فلسفیانہ نقد (critique) کا نکتہ ماسکہ ہیں  ۔ یعنی عصری فلسفہ روایتی مذہب  کے اجزائے ترکیبی  کی چھان بین کررہا ہے ۔

یہاں ایک بات قابلِ ذکر ہے کہ  ،معاصر الحاد پسند ، مثال کے طور پر  رچرڈز ڈارکنز  اور دیگر،  مذہب پر تنقید کے دوران فلسفہ جدیدکےوہ  ہتھیار استعمال کررہے ہیں جو عصری  فلسفیوں کے ہاں  متروک ہوچکے ہیں ۔مذکورہ  ملحدین مذہب مخالف  دلائل کے لئے    نشاۃ ثانیہ  ،  خرد افروزی  کے ادوار  اور آرتھوڈوکس تاریخ  (جس پر آگے چل کر بات ہوگی )سے رجوع کرتے  ہیں ۔ بعد از جدید فکر  ان دونوں ادوار کے   فکری مزاج  کو  کڑی تنقید کا نشانہ بناتی ہے۔

تاہم عصری فکر ایسے سوالات  پر غور کررہی ہے جس کا نشانہ جدید  اورراسخ العقیدہ  مذہبی افکار ہیں ۔ زیرِ نظر مضمون میں   ہم صرف تاریخ   اور زبان  کے روایتی تصورات پر اٹھائے جانے والے سوالات پر بات کریں گے  جو منظم مذاہب میں عام رہے ہیں ۔

اٹھارویں صدی کے وسط تک تاریخ مبنی بر حقائق علم سمجھا جاتا تھا ۔ اس دور تک یہ تصور موجود تھا کہ تاریخی حقائق کو معروضی حقائق کے طور پر  پیش کیا جاسکتا ہے ۔ مذکورہ صدی کے وسط تک لوگ  وون رینکے(1795-1886) کی ہم نوائی میں  یہ سمجھتے تھے کہ مورخ واقعات کو بالکل ویسے بیان کرتا ہے جیسے وہ حقیقت میں وقوع پذیر ہوئے ہیں ۔اسے تاریخی معروضیت کا نظریہ کہا جاتا ہے  ۔

تاہم بیسویں صدی کے اوائل میں  تاریخی معروضیت کا نظریہ    کڑی تنقید کی زد میں تھا ۔ مثال کے طور پر 1920 کی دہائی   میں مفکرین نے مورخ کے   محرک  پر سوال اٹھا نے شروع کئے اور پھر  یہ کہنا شروع کردیا    کہ تاریخی معروضیت ایک واہمہ  اور طاقت کا ہتھیار ہےکیونکہ  مورخین واقعات کو موضوعی  زاویوں سے دیکھ کر  معروضی بناکر پیش کرتے ہیں  ۔  ایک واقعے کو کئی زاویوں سے دیکھا جاسکتا ہے اور ہرزاویہ موضوعی  صداقت کا حامل ہوتا ہے ۔ اس لئے تاریخی واقعات سے اخذ شدہ موقف مبنی برحقیقت نہیں بلکہ واقعات کی مفاد پرستانہ شرح سے کشید  کردہ  ہوتا ہے۔بیسویں صدی میں  تاریخی معروضیت کے نظریے کے ابطال کےاس سفر کا اختتام تاریخی اضافیت(historical relativism  (پر ہوا۔تاریخی اضافیت  پسندوں کا کہنا تھا ، ‘‘تاریخ کا ایک ورژن دُوسرے سے بہتر تو کہا جاسکتا ہے لیکن سچا نہیں ’۔

مثال کے طور پر فوکو عام لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے کہتے ہیں ‘‘جو بھی تاریخی علم کا دعویدار ہے آپ  کو غلام بنانا چاہتا ہے ’’۔ ماضی کے فرضی علم  پر علم کی بنیاد رکھنا تو دُور کی بات   ایک رائے  بھی قائم نہیں کی جاسکتی ۔ تاریخ کا پہلا ڈرافٹ صحافی حضرات تیار کرتے ہیں اور ایک واقعے کو مختلف لوگ اتنے زاویوں سے دیکھتے ہیں کہ اس کے وقوعے  کا  اعتبارہی  جاتا رہتا ہے ۔  اگر تاریخ کا پہلا ڈرافٹ  ہی قابلِ اعتبار نہیں   تو فائنل  ڈرافٹ کیسے ہوسکتا ہے ؟  یہاں پر یہ سوال بھی اٹھایا جاسکتا ہے کہ کیا تاریخ کا    فائنل ڈرافٹ  ممکن ہے ؟

تاریخ معروضیت کے  روایتی تصورات کے برعکس عصری  سماجی علوم تاریخ کی  چار اقسام  بتاتے ہیں  ۔ان میں  آرتھو ڈوکس  تاریخ ایسی تاریخ ہے جوبار بار دہرایے جانے کی  وجہ سے  کسی قوم کا ‘ بے لچک عقیدہ ’ بن جاتی ہے  ۔ ایسی تاریخ جنگوں ، فاتحین ، چنیدہ  عظمتوں  اور ایسے واقعات کا ملغوبہ  ہوتی ہے جن کی مدد سے ایک گروہ  اپنی اجتماعی انا کی تسکین کرتا ہے اور اپنے گروہ کے اندر دوسرے  گروہ کے لئے عصبیت پیدا کرتا ہے تاکہ (وہ گروہ) مربوط رہے ۔

 اس کے علاوہ   ’ مختلف تاریخ‘  شکست خوردہ گروہوں کی تاریخ ہے ۔ ایسی تاریخ میں الم ناک واقعات، شہدأ ، انتقام اور چنیدہ صدمات کو جگہ دی جاتی ہے  ۔واضح رہے کہ آرتھو ڈوکس اور مختلف تاریخ لکھتے وقت  امن ،  تعمیر اور عدم تشدد کی خوشبو کے حامل واقعات  کا تمام ریکارڈجلا دیا   جاتا ہے اس لئے   ‘جمہور’ اور پُرامن تصورات صرف ‘مدفون تاریخ’ میں ملتے ہیں  جو مشکل سے  رقم  ہوتی ہے اور اگر ہوبھی جائے توپھر  سرکاری سرپرستی سے محروم ہوکر مٹ جاتی ہے ۔

تاریخی معروضیت کی موت اور اس کی جگہ تاریخی اضافیت کا لے لینا سامی مذاہب کے لئے بہت بڑا  چیلنج ہے ۔ صرف سامی مذاہب کے لئے  اس لئے کیونکہ ان مذاہب میں یہ تعین ممکن نہیں کہ مذہب کہاں پر ختم ہوتا ہے اور تاریخ کہاں سے شروع ہوتی ہے  ۔ اس کے علاوہ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ تینوں سامی مذاہب (یہودیت، مسیحیت اور اسلام ) خُدا کو تاریخی واقعات میں تلاش کرتے ہیں ۔ تینوں مذاہب کا خُدا تاریخی واقعات میں مخل  دکھائی دیتا ہے ۔

تاریخ کے علاوہ  عصری  علم و فکر زُبان کو روایتی نظر سے نہیں دیکھتی ۔ مفکرین  اور ماہرین ِ لسانیات کا کہنا ہے کہ کسی بھی زُبان کے الفاظ  کے مطلق معانی ہرگز نہیں ہوسکتے  اور نہ ہی زُبان کا حقیقت سے کوئی تعلق ہوتا ہے ۔ مثال کے طور پر اگر لفظ دروازے  کا ’دروازے‘سے کوئی تعلق ہوتا تو دُنیا میں کہیں بھی اسے ڈور یا باب نہ کہا جاتا اور یوں دنیا میں ایک ہی زبان ہوتی  ۔ زبان  مطلق  معانی کی حامل نہیں ہوتی ، اس لئے شرح کی محتاج ہوتی ہے   ۔یہ محتاجی اس بات کا ثبوت ہے کہ زبان   کے مطلق معانی  وجود نہیں رکھتے ۔

مثال کے طور پر لفظ ‘ماں’ کے معانی  اُس عورت کے ہیں جس نے کسی کو جنم دیا ہو ۔ اس کے معانی پر شاید کسی  کو اختلاف نہ ہو لیکن ہر لفظ معانی کے ساتھ ساتھ تضمن (connotation)  کا حامل ہوتا ہے  جو اس کا جذباتی  یا موضوعی پہلو ہے ۔ اس لئے لفظ ‘ماں’ ہر ایک کے ذہن میں الگ تھلگ تصا ویر اور جذبات کے سلسلے  مہمیز کرے   گا جو وہ کسی سے پوری طرح  شئیر نہیں کرسکے گا ۔ ہر ایک کے ذہن میں اپنی ماں اور اس سے جڑے ہوئے جذباتی تعلقات اور واقعات   ابھر آئیں گے ۔ اس لئے زبان کو اگر آئس برگ سے تشبیہ دی جائے تو معانی اُس کا  ایک فی صد وہ حصہ جو سمندر سے باہر  اور تضمن ننانوے فی صد حصہ ہے جوہمیشہ  سمندر کے اندر رہتا ہے  جسے کوئی نہیں دیکھ سکتا ۔

زبان  کے انہی مسائل پر بات کرتے ہوئے  سارتر نے اپنے مضامین کے مجموعے ‘‘ادب کیا ہے’’ میں لکھا تھا کہ  ‘‘تحریر اور ابلاغ کے عمل میں  مصنف کے ساتھ ساتھ قاری  بھی فاعلِ مختار (active agent) ہوتا ہے اس لئے ہم  لکھاری قاری کو مجہول  سمجھنے کی غلطی نہیں کر  سکتے ’’۔  اس لئے یہ  کسی بھی  ادبی شہ پارے  (یا کسی تحریری مواد ) کو مطالب قاری ہی  عطا کرتا ہے اور یوں تخلیقی عمل میں شامل  ہوجاتا ہے۔ المختصر ، بعد از جدید  مفکرین زبان کو  ابلاغ کا سو فی صد معروضی ذریعہ نہیں  مانتے   کیونکہ بیس لوگوں کو قطار میں کھڑا کریں ۔   قطار میں کھڑے پہلے شخص کو ایک پیغام  دیں ،   جب وہ پیغام آخری آدمی تک پہنچے گا تو   وہ بدل چکا ہوگا ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ زُبان ایک موضوعی ذریعہ ہے اور ہر ایک اس میں اپنا رنگ دیکھتا ہے۔

زبان کی یہ بے اعتباری دیکھتے ہوئے  ہی سائنس نے الگ ریاضیاتی  سائنسی زبان تشکیل دی  تھی ۔ ایسی زبان جس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں  اور ایک سائنسی مساوات سے   جزائز غرب الہند سے لے چین تک لوگ ایک ہی مطلب لیتے ہیں  ۔ مثال  کے طور پر نظریہ اضافیت کی مساوات یا پھر پانی کا فارمولا۔ اس کے علاوہ  زبان چند سال کے اندر تبدیل ہوجاتی ہے ( اور موجودہ دور میں انفارمیشن ٹیکنالوجی نے  یہ عمل مزید سریع الرفتار کردیا ہے )۔

یہ دیکھتے ہوئے  عصری مفکرین یہ سوال اٹھاتے ہیں  کہ ‘قابلِ اعتبار ’  خُدا  پیغام پہنچانے کے لئے ناقابلِ اعتبارذریعے کا سہارا کیسے لے سکتا     ہے ؟

تاریخ اور زبان پر اٹھائے گئے یہ سوالات  سامی مذاہب کے لئے ماننے والوں کے لئے دردِ سر بنے ہوئے ہیں ۔تاہم مذہب کی  منظم  سرکاری شکلوں اورفرقوں کے برعکس   ان تینوں مذاہب کے باطنی سلاسل (کبالہ، سریت پسندی اور تصوف ) اس  تنقید سے محفوظ رہ سکتے ہیں  کیونکہ ، مثال کے طور پر صوفیوں کے وقت اور زبان کے  متعلق تصورات  معاصر فکر سے ملتے جلتے ہیں ۔جیسا کہ رومیؒ  سرکنڈے کی طرح وقت (تاریخ)  میں بٹنے کی ممانعت    اور وہ آواز سننے کی تاکید کرتے  ہیں جو الفاظ استعمال نہیں کرتی ’۔ تاہم یہ وہ تصوف ہرگز نہیں جو ہمارے ہاں  گدی نشینوں کے ہاتھوں روایتی مذہب بن گیا ہے ۔  یہ باطنی تنازعات کے حل اور انسان کے عمودی ارتقأ (vertical evolution) کی عالمگیر  باطنی سائنس ہے۔ ان  کے برعکس مذہب کی وہ شکلیں جو  تاریخ  اور زبان کی خاص تعبیر پر قائم ہیں شاید ان سوالات کی تاب  نہ لاسکیں۔

ان سوالات پر علم الکلام کے یہودی اور مسیحی  ادارے  قائم ہوچکے ہیں اور  متکلمین  ان سوالات کے جوابات  دینے کی سرتوڑ  کوشش کررہے ہیں ۔لیکن یہ سوالات اس قدر بدیہی اور بنیادی  ہیں کہ ان کا تسلی بخش جواب دینا اور پھر اس جواب کی علمی قدر (scientific value)  پیدا کرنا تقریباً ناممکن ہے ۔

جہاں تک مسلمانوں اور خاص طور پر پاکستانی مسلمانوں   کا تعلق ہے، سسی کی طرح انہیں بھی کوئی خبر نہیں کہ  ان کا شہر بھنبھور لٹ گیا ہے ۔   انہیں یہ خبرہی  نہیں  کہ وہ  ابھی جدیدیت  کا جواب تلاش نہیں کرپائے   تھے کہ بعد ازجدید فکر نے سامی مذاہب کی بنیادوں میں دراڑیں ڈال دی  ہیں   ۔پاکستان میں مذہبی  اداروں کی علمی استعداد  کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں ان سوالات  پر کوئی غور نہیں کیا جارہا ۔ یہاں ‘نظریاتی ’ ادارے اچھے بُرے طالبان ،     حقوقِ نسواں،   بے حیائی اور ڈی این اے  جیسے  ‘دقیق’ اور بحر آسا  ‘ علمی و فکری ’مسائل سے  پنچہ آزمائی  کرنے کو ہی نظریاتی فرائض کی بجاآوری سمجھتے ہیں ۔

 


Comments

FB Login Required - comments