بلوچستان کیس: یہ کرپشن نہیں کچھ اور ہے


wisi 2 babaبلوچستان کے سابق وزیر اعلی ڈاکٹر مالک کی مثال پر غور کرتے ہیں۔ سردار نہیں ہیں، متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے عام آدمی ہیں۔ کبھی آزاد بلوچستان کا علم اٹھائے ہوئے تھے۔ رابطہ عوام مہم کے دوران کہا کرتے، تم مجھے خون دو میں تمھیں آزادی دوں گا۔ ڈاکٹر اللہ نذر انہی سے متاثر تھے۔ پھر اللہ نزر کے متاثرین میں سارا ہی پاکستان تھا۔

اللہ نذر نے بندوق اٹھائی، ڈاکٹر مالک راستے سے لوٹ آئے۔ پارلیمانی سیاست کو انہوں نے اپنا راستہ مان لیا۔ بلوچستان ایک واضح خرابی کا شکار تھا۔ ڈاکٹر مالک بہتری لائے۔ ایک دن انہوں نے وزارت اعلی چھوڑ دی۔ یہ انہوں نے ایک معاہدے کے تحت کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ہم جس طاقت سے آئے تھے۔ اسی طاقت سے جا رہے ہیں۔ ہر جمہوریت پسند کا ووٹ کی طاقت پر اعتماد بڑھ گیا۔

ڈاکٹر مالک نے عزت کمائی۔ اب ہوا یہ ہے کہ بلوچستان کے سیکرٹری خزانہ مشتاق رئیسانی پکڑے گئے ہیں۔ ان کے گھر سے کچھ کم ستر کروڑ روپئے برامد ہوئے ہیں۔ خزانے کا محکمہ شروع سے ڈاکٹر مالک کی پارٹی کے پاس تھا۔ وہ خود اسے دیکھتے تھے۔ میر خالد لانگوو مشیر خزانہ تھے۔ ان کا تعلق ڈاکٹر مالک کی نیشنل پارٹی سے ہے۔ خالد لانگو اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مشیر کے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔

کچھ مزید افسران بھی پکڑے گئے ہیں ۔ سابق مشیر خزانہ کا نام بھی ای سی ایل پر ڈال دیا گیا ہے۔ نیب کی پہلی طلبی پر وہ پیش نہیں ہوئے۔ کیس کی تفصیلات ایسی ہیں کہ خالد لانگو ہی نہیں ان کی پارٹی بھی گہرے ابلتے گرم پانی میں جا گری ہے۔ کل ڈیڑھ ارب کا وہ پراجیکٹ تھا۔ جس کی تقریبا آدھی مالیت سیکیرٹری خزانہ کے گھر سے برامد ہوئی۔

ڈاکٹر مالک، خالد لانگو اور مشتاق رئیسانی یہ سب قابل احترام افراد ہیں۔ ہم ان پر کوئی الزام نہیں لگاتے۔ ان کے حوالے سے شائید ہی کوئی جذباتی ہو کر ان کو میڈیا میں ٹرائیل کرے۔ سب قانون کے مطابق عمل ہوتا ہی دیکھنا چاہیں گے۔ ساتھ ایک دعا بھی ہے کہ ڈاکٹر مالک اس مشکل صورت حال سے صاف بچ جائیں۔ ان جیسے سیاسی کارکن روز روز پیدا نہیں ہوتے۔

ایسا کیوں ہے، ہم سب بلوچستان کو پرامن دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہاں کے لوگوں کو خوشحال آباد اور سکھی دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ سب کچھ ہم متوازن انداز میں اس لئے لکھ اور پڑھ رہے ہیں کہ بلوچستان کے حوالے سے ہم سب ہی غیر جانبدار ہیں۔ وجہ یہ کے وہاں ہم سیاسی فریق نہیں ہیں۔ یہ سب کہانی کپتان نوازشریف پی پی اور مولانا سے متعلق نہیں ہے۔ اس لئے ابھی ہماری عقل کام کر رہی ہے۔ اس ایشو کو لے کر اوئے اوئے نہیں کی جا رہی۔

بلوچستان کو ہم نے پاکستان کا کباڑ خانہ ہی بنائے رکھا۔ وہاں کے معاملات سے غیر متعلق رہے۔ جب غیر متعلق رہا جائے تو پھر یہی کچھ ہوتا ہے جو ہوا۔

کچھ دن پہلے خبریں آئیں کہ آرمی چیف نے فوج میں احتساب کا بول بالا کر دیا ہے۔ بلے بلے جی صدقے قربان جائیے۔ شاید ہی کسی کا دھیان اس جانب گیا ہو کہ یہ سارے کے سارے بلوچستان میں ہی افسری کرتے پکڑے گئے اور انجام کو پہنچے۔ چیف صاحب کی اس کارروائی میں سب سے اہم طریقہ کار ہے۔ خاموشی سے ٹرائیل کیا گیا۔ الزامات ثابت ہوئے، تو جو بھی فیصلہ تھا اس پر عممل کر دیا گیا۔ عمل پہلے ہو گیا اعلان بعد میں کیا گیا۔

یہی ایک مناسب طریقہ کار ہے۔ اسی طریقہ کار کو سیاستدانوں پر سرکاری افسروں پر بھی لاگو کریں ۔ ایسا نہیں کریں گے تو اپنا ہی نقصان کریں گے جس کی تلافی بھی ممکن نہیں ہوگی۔ لوگوں کا میڈیا ٹرائیل بند کیا جائے۔ پانامہ پیپر کو لے کر دھول اڑائی جا رہی ہے۔ جس احمقانہ طریقے سے ہم لوگ معیشت جیسے حساس شعبے پر چاند ماری کر رہے ہیں۔ سرمایہ دار ایک لمبے عرصے کے لئے پاکستان سے دور بھی جا سکتے ہیں۔

پانامہ پیپر کی لسٹوں میں سیاستدان کچھ درجن ہیں۔ کاروباری لوگ سینکڑوں میں ہیں۔ دھاندلی کا اتنا سیاپا ڈالا گیا کہ پہلے ہمارا الیکشن کا عمل ایک مذاق بن کر رہ گیا۔ اب ہم اپنے سرمایہ داروں کو اچھوت بنائیں گے۔ ہم ایک اچھا موقع ضائع کر رہے ہیں۔ یہ وقت تھا کہ قانون سازی کی جاتی۔ ماضی میں جس کو بھی ریلیف دیا جا سکتا تھا دے دیا جاتا۔ مستقبل کے حوالے سے اتفاق رائے کر لیا جاتا۔ ایسا نہیں ہو سکا۔

بلوچستان واپس چلتے ہیں۔ جب آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہوں گے۔ جب آپ رات کو کسی وقت سو رہے ہوں گے۔ بلوچستان میں کہیں نہ کہیں کوئی خاتون سفر میں ہو گی۔ اسے ایک مددگار مہربان خاتون کی تلاش ہو گی۔ پورا پورا دن پیدل چل کے رات سفر میں گزار کر وہ اپنی مطلب کی جگہ پہنچے گی۔

کس لئے صرف اس لئے کہ وہ اپنے ہونے والے بچے کو خیریت سے اس دنیا میں خوش آمدید کہہ سکے۔

بلوچستان کے سیاستدان لوگ افسر اور ہم سب مجرم ہیں۔ وہاں پورے پورے پراجیکٹ کے پیسے کھا لیئے جاتے ہیں۔ بنیادی صحت کے مراکز، سڑکیں اور سکول اکثر کاغذوں ہی میں بنتے ہیں۔ یہ کرپشن نہیں ہے کچھ اور ہے۔ اس کا علاج ہمیں ڈھونڈنا پڑے گا۔


Comments

FB Login Required - comments