سعودی عرب اور ایران کی معاشی مجبوریاں


mujahid aliدنیا بھر کی کمپنیاں ایران میں سرمایہ کاری کے لئے پر تول رہی ہیں۔ گزشتہ ہفتے کے دوران جوہری معاہدے کی شرائط کے مطابق امریکہ اور دیگر مغربی ممالک نے ایران پر سے اقتصادی پابندیاں اٹھانے کا اعلان کیا تھا۔ اس طرح اب ایران آزادی سے اپنا تیل دنیا کے ملکوں کو فروخت کر سکے گا جبکہ نئے وسائل کے حصول کے بعد دنیا کے سب بڑے ملک ایران میں منڈیاں تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس دوران اس سال کے شروع میں سعودی عرب میں شیخ نمر الباقر النمر کی سزائے موت پر عملدرآمد کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان جو تنازعہ کھڑا ہوا تھا، اس کی وجہ سے کئی خدشات بھی موجود ہیں۔ ان میں سب سے بڑا اندیشہ تو اگرچہ شدت پسندی ، دہشت گردی اور فرقہ وارانہ تقسیم کے بارے میں ہے لیکن اس کے ساتھ ہی تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کے سبب مشرق وسطیٰ کے دو اہم اور تیل پیدا کرنے والے ملکوں کے درمیان تصادم کے اثرات خطے کے علاوہ دنیا کے دوسرے حصوں میں بھی محسوس کئے جا سکتے ہیں۔ اس پس منظر میں پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے دونوں ملکوں کا دورہ کر کے مصالحانہ سفارتی کوششوں کے ذریعے صورتحال کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔

وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان مصالحت کروانے کا فیصلہ کسی کے مشورے پر نہیں کیا اور نہ ہی ریاض یا تہران کی طرف سے انہیں اس کی دعوت دی گئی تھی۔ لیکن وہ اپنے طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ دو برادر اسلامی ملکوں کے درمیان اختلافات کو ختم کروانے کے لئے کوشش کرنا سب کے فائدے میں ہے۔ اس حوالے سے یہ پہلو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ملک کی سیاسی حکومت کے سربراہ اور پاک فوج کے کمانڈر مل کر کسی عالمی سفارتی اور مصالحاتی مشن پر گئے ہیں۔ دونوں لیڈر کل ریاض پہنچے تھے جہاں سعودی عرب کی طرف سے ان کا پرتپاک خیر مقدم کیا گیا۔ شاہ سلمان نے مہمانوں کے اعزاز میں ظہرانہ دیا۔ نواز شریف اور جنرل راحیل شریف نے شاہ سلمان سے تفصیل سے سارے معاملات پر بات چیت کی۔ اس کے علاوہ جنرل راحیل نے سعودی وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان کے علاوہ سعودی کمانڈروں سے بھی مذاکرات کئے۔ پاکستانی رہنما آج تہران پہنچے جہاں ایران کی اعلیٰ قیادت سے ان کی ملاقات ہوئی ہے۔ صدر حسن روحانی نے پاکستانی وزیراعظم سے بات چیت کی ہے اور سعودی عرب سے تصادم ختم کرنے کے سوال پر پاکستانی قائدین کی باتوں کو توجہ سے سنا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے اس دورہ کے بعد اس مصالحاتی عمل کو جاری رکھنے کے لئے نمائندہ خصوصی مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایران اور سعودی عرب سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ بھی اپنے نمائندے مقرر کریں تا کہ بات چیت کو آگے بڑھایا جا سکے۔

پاکستان اگرچہ ایٹمی طاقت ہے اور مسلمان ملکوں میں اپنے حجم اور عسکری صلاحیت کی وجہ سے اسے خاص مرتبہ و مقام حاصل ہے۔ لیکن اس کے پاس ایسے وسائل اور دوسرے ملکوں کو قائل کرنے کی وہ عملی صلاحیت نہیں ہے جس کا مظاہرہ دنیا کی دیگر بڑی طاقتیں کرتی رہتی ہیں۔ اس کے باوجود جب پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے اس مشن کا بیڑا اٹھایا تھا تو اسے دونوں ملکوں کی طرف سے کچھ مثبت اشارے ضرور ملے ہوں گے۔ اس کے علاوہ دنیا کی دیگر بڑی طاقتیں بھی جن میں امریکہ ، روس اور چین شامل ہیں، اس مصالحاتی مشن سے مطمئن ہوں گے۔ ریاض اور تہران کی طرف سے اگرچہ پاکستانی لیڈروں کے دورہ کے حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے لیکن جس طرح ان دونوں دارالحکومتوں میں ان کا استقبال کیا گیا ہے، اس سے یہ اندازہ قائم کرنا غلط نہیں ہو گا کہ سعودی عرب اور ایران دونوں ہی اس ناخوشگوار صورتحال سے باہر نکلنا چاہتے ہیں جو جلد بازی میں کئے گئے بعض فیصلوں اور تند و تیز بیانات کی وجہ سے پیدا ہو چکی ہے۔

ایران بارہ برس بعد اقوام متحدہ کی عائد کردہ اقتصادی پابندیوں سے نجات حاصل کر رہا ہے۔ اس کے کئی ارب ڈالر کے اثاثے امریکہ ، برطانیہ ، فرانس اور جاپان سے واگزار ہوں گے۔ وہ یہ دولت ملک میں انفرا اسٹرکچر کی تعمیر اور لوگوں کی فلاح پر صرف کر کے ملک میں بیروزگاری اور اقتصادی احتیاج کا خاتمہ کر سکتا ہے۔ اسی طرح اب وہ اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ تیل بھی پیدا کر سکے گا اور عالمی منڈیوں میں اسے آزادی سے فروخت بھی کر سکے گا۔ دنیا کے متعدد ملک ایران سے گیس حاصل کرنے میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں جن میں ترکی سرفہرست ہے۔ البتہ ان مواقع سے پوری طرح استفادہ کرنے کے لئے ایران کو تصادم اور علاقائی تنازعہ سے اجتناب کرنے کی ضرورت ہے۔ اس لئے موجودہ حالات اس کے طویل المدت اقتصادی مفادات اور سیاسی و سفارتی ضرورتوں کے لئے خوش آئند نہیں ہیں۔ اسی طرح سعودی عرب کے لئے بھی ایران جیسے ملک سے ٹکر لینے یا تنازعہ کو طویل دینے کے خطرناک اقتصادی ، سیاسی اور سفارتی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ بات درست ہے کہ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک سعودی عرب کو اسرائیل کے بعد اپنا سب سے قابل اعتبار حلیف سمجھتے ہیں۔ لیکن دنیا میں انتہا پسندی کے فروغ اور دہشت گرد گروہوں کے قوت پکڑنے میں سعودی سرمائے اور نظریات کے اثر کے سبب مغرب میں سعودی عرب کے خلاف رائے عامہ بھی استوار ہو رہی ہے۔ متعدد مغربی مبصرین سعودی بادشاہت اور اس کے سخت گیر نظام کو داعش کے طرز عمل کا پرتو قرار دیتے ہیں۔ ان حالات میں اگر سعودی عرب پر غیر ضروری دباﺅ ڈالنے سے گریز کیا جا رہا ہے تو اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ مغرب لیبیا ، عراق اور شام کے تجربات کے بعد مشرق وسطیٰ کے اس اہم ترین ملک کو غیر مستحکم ہوتے نہیں دیکھنا چاہتا۔ اس طرح انتہا پسند گروہوں کو سخت گیر سعودی نظام میں گھسنے اور قوت پکڑنے کا موقع مل سکتا ہے۔

دوسری طرف ایران کے ساتھ طویل دوری کے سبب ابھی تک بداعتمادی اور اندیشوں کا رشتہ موجود ہے۔ اقتصادی پابندیاں ختم ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ مغرب فوری طور پر ایران کی پالیسیوں کو قبول کر لے گا یا خطے میں اس کی حکمت عملی کی تائید کی جائے گی۔ ایران میں سخت گیر مذہبی گروہ کو تمام فیصلے کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ ابھی تک ملک کے لبرل اور آزاد خیال لوگ مذہبی رہنماﺅں کی قوت کو محدود کرنے یا ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ اسی لئے بیرونی دنیا میں بھی ایران کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ابھی مسلسل سرد مہری اور بیگانگی دیکھنے میں آئے گی۔ اس کے باوجود دنیا کے لیڈر یہ سمجھتے ہیں کہ ایران اور سعودی عرب ایک دوسرے کے آمنے سامنے نہ آئیں اور ایک دوسرے کی دشمنی میں علاقے میں انتہا پسند گروہوں کی سرپرستی نہ کریں۔

ان باتوں سے قطع نظر سعودی عرب اور ایران کے لئے باہمی چپقلش سے پیدا ہونے والی اقتصادی صورتحال تباہ کن ہو سکتی ہے۔ سعودی عرب کی تیل پیدا کرنے کی صلاحیت بارہ ملین بیرل روزانہ کے لگ بھگ ہے۔ سعودی حکمرانوں نے روس اور ایران کو نیچا دکھانے کے لئے تیل کی پیداوار میں کمی سے گریز کیا ہے جس کی وجہ سے گزشتہ برس کے دوران تیل کی قیمتیں سوا سو ڈالر فی بیرل کی شرح سے 30 ڈالر فی بیرل تک گر چکی ہیں۔ اب ایران بھی پانچ سے چھ ملین بیرل تیل روزانہ پیدا کر سکے گا۔ یہ تیل مارکیٹ میں آنے سے تیل کی قیمتوں میں ڈرامائی کمی واقع ہو گی۔ بعض ماہرین کے نزدیک اگر سعودی۔ ایران مقابلے بازی جاری رہی تو یہ قیمت دس ڈالر تک گر سکتی ہے۔ اس صورت میں سعودی عرب کو ایران کے مقابلے میں زیادہ نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔ کیونکہ ایران فی الوقت اس آمدنی سے محروم ہے۔ اس کے علاوہ اسے منجمد اثاثوں کی صورت میں کثیر وسائل میسر آ جائیں گے۔ جبکہ سعودی عرب کے جمع شدہ اثاثے تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ سال رواں کے سعودی بجٹ میں خسارہ کا اندازہ ڈیڑھ سو ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔

اس صورت میں اگر سعودی حکمران جوش کی بجائے ہوش سے حالات کا جائزہ لیں گے تو انہیں ایران کے ساتھ مقابلہ بازی کو ختم کر کے تعاون کو فروغ دینا ہو گا۔ اس طرح دونوں ملک مل کر تیل کی پیداوار کم کر کے قیمتوں کو مستحکم کر سکتے ہیں۔ اس طرح اس تعاون سے دونوں ملکوں کو مالی طور سے زبردست فائدہ ہو سکتا ہے۔ علاقے کی سیاسی اور اسٹریٹجک صورتحال اور مالی ضرورتوں کی وجہ سے دونوں ملک ایک دوسرے کو قبول کرنے پر مجبور ہوں گے۔ یہ کام جس قدر جلد ہو، اتنا ہی بہتر ہے۔ اگرچہ یہ امکان موجود رہے گا کہ عرب عجم تاریخی پس منظر کی وجہ سے یہ دونوں ملک کبھی دل سے ایک دوسرے کو قبول نہ کریں۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 417 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali