بلندی چھتیس ہزار فٹ اور یوسف فالودہ شاپ


khawar jamalمعذرت کے ساتھ، لیکن ہمارے یہاں نوے فیصد لوگ اب تک جہاز میں سفر کرنا نہیں سیکھ پائے۔ عربی کا مقولہ ہے کہ السفر سقر، یعنی کہ سفر عذاب ہے۔ عوام الناس اس عذاب کو ایسے ” پارٹی ہارڈ ” انداز سے جھیلتی ہے کہ کیا ہی کہنے۔

چلیں اگر آپ نے کراچی سے لاہور جانا ہے یا اسلام آباد سے ملتان آنا ہے تو آپ بھلے تھری پیس سوٹ پہن کر آ جائیں کیونکہ سفر کی مدّت کم ہے، لیکن اگر آپ نے پاکستان سے یورپ یا امریکا کی طرف سفر کرنا ہے تو آپ (خاص طور سے خواتین ) ایسے تیار ہو کر تو نہ آئیں کہ ٹھیک 8 گھنٹے 40 منٹ کی پرواز کے بعد جہاز سے اترتے ہی آپ نے مہندی کا فنکشن اٹینڈ کرنا ہے۔ اس 8 گھنٹے 40 منٹ کے علاوہ 4 گھنٹے پہلے ائیرپورٹ پہنچنا اور مقررہ مقام پر اترنے کے بعد کسٹم امیگریشن سے فارغ ہو کر گھر پہنچنے تک پندرہ سولہ گھنٹے بنتے ہیں.

کچھ سال پہلے ایسی ہی ایک طویل دورانیے کی پرواز پر ایک صاحب تشریف لائے۔ گرم کپڑے کا تھری پیس سوٹ پہن رکھا تھا۔ مہینہ اکتوبر کا تھا۔ پاکستان میں تو سردی آتے آتے آتی ہے لیکن یورپ میں موسم کافی ٹھنڈا ہو چکا ہوتا ہے۔ دوران پرواز میری ان صاحب پر نظر پڑی تو سیٹ کے اوپر پینل میں لگے ہوی لائٹ بلب کو اپنی طرف کھینچ رہے تھے اور گھما رہے تھے (چونکہ کچھ جہازوں میں ایئر کنڈیشننگ centralized ہوتی ہے اس لیےوہ اسے ایئر وینٹ یعنی پنکھا سمجھ رہے تھے)۔ میرے پوچھنے پر ذرا گرمی کھا گئے اور کہنے لگے، “اے پائن! تہاڈا اے سی کم نی جے کر ریا، تے اتوں تسی پکھے اچ لے ٹاں بالیاں نے ” ( بھائی آپ کا اے سی کام نہیں کر رہا اور اوپر سے آپ نے پنکھوں کی جگہ لائٹیں جلائی ہوئی ہیں)۔ مختصر یہ کہ میں ان کو اپنے ساتھ galley میں لے گیا، وہ جگہ جس کو زیادہ تر لوگ کچن کہتے ہیں۔ اور کچھ مہربان تو یہ تک سمجھتے ہیں کہ ہم نے وہاں تندور لگائے ہوتے ہیں اور بریانی کی دیگیں چڑھائی ہوتی ہیں۔ ان صاحب کو ٹھنڈا پانی پلایا، ان کا کوٹ، واسکٹ اور ٹائی اتروائی، کالر کا اوپر والا بٹن کھلوایا، آستین اوپر چڑھوائی۔ پھر انکا درجہ حرارت آیا نیچے اور انہوں نے محسوس کیا کہ جہاز کا اے سی بھی چل پڑا ہے۔

جہاز کے سفر میں کم سے کم کھانا چاہئیے۔ زیادہ پانی پینا چاہئیے۔ تحقیق یہ کہتی ہے کے جہاز میں ٣ گھنٹے کا سفر آپ کے جسم سے ١ لیٹر پانی چوس لیتا ہے۔ ہلکے پھلکے کپڑے پہننے چاہیئیں۔ دوسرے مسافروں کا بھی خیال کرنا چاہئیے اور جہاز کے عملے سے تعاون کرنا چاہئیے، ورنہ وہ ” پیپسی ” والی بات تو پڑھ ہی چکے ہیں آپ!

ایک دوست نئے نئے سٹیورڈ بھرتی ہوئے، پہلی مرتبہ ایک اعلی ہوٹل میں قیام کیا. شاور میں گئے، باتھ ٹب کے اندر کھڑے ہیں، کوئی ٹونٹی نظر نہیں آتی، ایک لیور لگا ہوا تھا، اسے اٹھایا تو نل میں پانی جاری ہو گیا۔ یا خدا ! اب یہ پانی اوپر کیسے جائے کہ شاور میں آئے اور نہانا شروع کیا جائے۔ کوئی بالٹی بھی نہیں تھی آس پاس۔ باوجود کوشش کے وہ “کنورٹر ہک” تلاش نہ کر سکے جو اکثر شاور میں نل کے بالکل اوپر لگا ہوتا ہے۔ آخر اسی نل کے نیچے سر دے کر نہانا شروع کر دیا۔

کمر دوہری ہو رہی تھی، منہ نہ چاہتے ہوئے بھی اس جالی (ڈرین) کے بوسے لینے پر مجبور تھا جہاں سے فاضل پانی کا اخراج ہو رہا تھا۔ یوں سمجھیں الٹا لیٹ کر نہانا شروع کر دیا۔ سر پر شیمپو لگا کر بوتل ٹب کی سائیڈ پر رکھنے لگے تو ہاتھ اتفاقاً اس کنورٹر ہک پر جا لگا اور شاور سے ایک دم پانی برسنے لگا۔ اس گھبراہٹ میں کہ یہ پانی کہاں سے آنے لگا اور کہیں کوئی باتھروم میں گھس تو نہیں آیا، ایک دم انہوں نے سر جو اٹھایا تو سیدھا نل میں جا لگا، “ٹھاہ!!!”… وائی…. کی آواز نکلی اور سر کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر جو اٹھنے کی کوشش کی تو ٹب (جو شیمپو گرنےکی وجہ سے سلیپپری ہو گیا تھا ) کے اندر پھسل گئے اور دھڑام سے چاروں شانے چت۔ ہوٹل مالکان کے گھر والوں کو نازیبا الفاظ میں پکار کر غصہ ٹھنڈا کیا اور جدید غسل خانے میں نہانا سیکھ کر باہر نکلے۔

جہاز میں آپ جتنی دیر سفر کرتے ہیں، اس دوران آپ کو مصنوعی آکسیجن پر رکھا جاتا ہے. یعنی جتنی آکسیجن کم از کم سانس لینے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ ورنہ چھتیس ہزار فٹ کی بلندی اور کے ٹو پر چڑھ کے سانس لینا ایک ہی بات ہو گی۔ ایک مرتبہ جدّہ جاتے ہوے ایک بوڑھی خاتون نے مجھے بلایا اور کہنے لگیں ” پتر ! اے کھڑکی نی کھلدی؟ میرا تے ساہ گھٹ ریا اے” ( بیٹا یہ کھڑکی نہیں کھلتی؟ میرا سانس رک رہا ہے) اور یہ حقیقت ہے کہ بوڑھے اور کمزور لوگوں کو سانس لینے میں واقعی مشکل ہو سکتی ہے۔

cabin 2مجھے یقین ہے ک آپ جاننے کے لیے بیتاب ہوں گے تو بتاتا چلوں کہ میں نے کھڑکی نہیں کھولی۔

یہ نوکری کرنے کے لیے مستقل مزاجی چاہئیے۔ بہت سی باتوں پر سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے، عید، شب برات، شادی،غمی اور بہت سی دیگر تقریبات پر آپ کا ہونا یا نہ ہونا آپ کی فلائٹ پر منحصر ہوتا ہے۔ ایک مرتبہ میں اور ایک لڑکا اکانومی کلاس میں کام کر رہے تھے، سروس (دوران پرواز مہمان نوازی) اپنے عروج پر تھی، سر کھجانے کی فرصت نہ تھی، ایک صاحب galley میں آئے اور میرے ساتھی سے کہنے لگے ” ایک گلاس ٹھنڈا دودھ مل جائے گا؟” اور انہی کے پیچھے ایک اور صاحب آئے اور میرے ساتھی کو ہی مخاطب کر کے کہنے لگے ” بھائی جان! ایک گلاس گرم گرم دودھ دے دیں (ساتھ میں انہوں نے ذرا سی آنکھیں میچ کر خوشامدی شکل بھی بنائی جو کہ جہاز کے عملے کو بالکل پسند نہیں ہوتی، صرف ہمارے یہاں نہیں بلکہ تمام دنیا میں)۔ میں نے ان دودھ لوور اشخاص کا سیٹ نمبر نوٹ کر کے انھیں سیٹ پر بھیج دیا. میرے ساتھی نے جو کہ ایک غیر مستقل مزاج لڑکا تھا، ایک عام فہم نازیبا لفظ ادا کر کہ کہنے لگا خاور بھائی! ہم ایئر لائن میں کام کرتے ہیں یا (نازیبا لفظ) یوسف فالودہ شاپ میں۔

وہ لڑکا اب نوکری چھوڑ چکا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

خاور جمال

خاور جمال پیشے کے اعتبار سے فضائی میزبان ہیں اور اپنی ائیر لائن کے بارے میں کسی سے بات کرنا پسند نہیں کرتے، کوئی بات کرے تو لڑنے بھڑنے پر تیار ہو جاتے ہیں

khawar-jamal has 18 posts and counting.See all posts by khawar-jamal