پاکستان کی خارجہ پالیسی یا مداری کا کھیل


ajmal jamiوہی ہوا جس کا خدشہ تھا، سیانے لائن لینتھ ناپ چکے تھے، اشارے یہی تھے کہ چیف جسٹس انکار کردیں گے، پچھلے ہفتے ایک درویش صفت خاتون سے ملاقات ہوئی، وہ لاہور میں کچھ صوفیا کے ہاں حاضری کے لئے ہماری مہمان تھیں، سرکاری اور باوردی یعنی ہر قسم کا پروٹوکول اور سہولیات انہیں دستیاب تھیں لیکن انہوں نے ہمارے ساتھ عامیانہ انداز میں اپنا کام پورا کیا، ان کی مقتدر حلقوں تک رسائی اور مثالی فقر کا امتزاج آج تک سمجھ نہیں آسکا۔ ذات کا صحافی اخلاقیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ان سے اندر کی خبر پوچھنے پر مجبور کر رہا تھا، کہ انہوں نے ہماری بے تابی کو بھانپ لیا، کہا پریشانی تو ہے، مزید بڑھے گی، حتیٰ کہ اثرات فرد تک منتقل ہوں گے، خون خرابہ عارضی طور پر رکا ہے، دعا کیجئے مولا وطن عزیز کی خیر کرے۔ اس سے پہلے کہ مزید کچھ دریافت کرنے کی جسارت کرتا کہنے لگیں کسی سے کیا شکایت کیجئے کہ حکمران آپ اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہے ہیں۔ رہی بات مقتدر حلقوں کی تو وہ فی الحال مہم جوئی کے موڈ میں ہر گز نہیں ہیں۔ شیخ رشید مائنڈ سیٹ تمام تر طبقہ ہائے فکر میں پاپولر ہو رہا ہے یعنی ایف سی افسران کے خلاف محکمانہ کاروائی ہو یا آرمی چیف اور وزیر اعظم کی حالیہ ملاقات، دونوں اہم واقعات پر آئی ایس پی آر مکمل خاموش رہا، اور دونوں بار مذکورہ بالا مائینڈ سیٹ کے حامل حلقوں نے خوفناک لیکس کے ذریعے ‘پینک’ پھیلانے کی کامیاب کوشش کی۔ پانامہ لیکس جیسے معاملات پر براہ راست گفتگو نہیں ہوئی بلکہ پیغامات کی ترسیل دیگر ذرائع سے ممکن بنائی گئی۔

رات گئے کچھ سینئر دوستوں سے ملاقات ہوئی، بھانت بھانت کی بولیوں کے بیچ سنجیدگی کا فقدان تھا، بات سیدھی سی ہے، نام اور الزام دستیاب نہیں اور اسی وجہ سے چیف جسٹس نے پانامہ پر کمیشن بنانے سے انکار کیا ہے، چھپن کے ایکٹ کے تحت بنے کمیشن کے اختیارات خاصے محدود ہوتے ہیں جب کہ حکومتی ٹرمز آف ریفرنسنز اس کے بر عکس خاصے وسیع ہیں، جن کی تحقیقات کے لئے چھپن کے ایکٹ کے تحت بنا کمیشن کمزور ثابت ہوسکتا تھا۔اور یقیناََ اسی وجہ سے اپوزیشن کے ٹی او آرز میں واضح طور پر پانامہ پیپرز کی تحقیقات کے لئے نئے ایکٹ کے قیام پر زور دیا گیا ہے۔ چیف جسٹس کے انکار کے بعد حکومتی باڈی لینگوئج میں خاصی تبدیلی آئی ہے، یعنی خورشید شاہ کے مطالبے پر پرویز رشید قومی اسمبلی کا پیر کو ہونے والا اجلاس براہ راست نشر کرنے پر تیار ہو گئے ہیں، یہی نہیں بلکہ اب تو وزیر موصوف اپوزیشن رہنماؤں کی تقاریر بھی براہ راست نشر کرنے پر بصد احترام راضی دکھائی دے رہے ہیں۔

قصہ مختصر یہ کہ اب بال حکومتی کورٹ میں ہے، اور اس پر فری ہٹ کسی صورت بھی دستیاب نہیں ہو گی کیونکہ اس مدعے کا فیلڈ ایمپائر اپوزیشن ہے، اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے سوا حکومت کے پاس کوئی چارہ نہیں، حکومت بیک فٹ پر ہے اور اسے اب اپوزیشن کو ہر حال میں منانا ہوگا۔ لیکن داد دیجئے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ صاحب کو جنہوں نے سپریم کورٹ کے انکار کے بعد اپنی پریس کانفرنس میں انتہائی بالغ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت کو واضح پیغام دیا کہ حکومت تعاون کرے، جمہوریت ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے۔ وزیر اعظم کو پہلے ہی روز پارلیمنٹ کی طاقت سے مستفید ہونا چاہیے تھا، قوم سے خطاب اور پارلیمنٹ سے دوری کا فیصلہ انتہائی گمراہ کن اور غیر جمہوری رویے پر مبنی تھا جس کے بھیانک نتائج اب حکومتی وزرا کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔ پارلیمنٹ میں وزیر اعظم کی موجودگی اور اپوزیشن سے تعمیری مذاکرات کے علاوہ حکومت کے پاس یقیناََ اور کوئی آپشن باقی نہیں ہے۔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ کالم اس موضوع پر لکھنے کا قطعاََ کوئی ارادہ نہیں تھا، کیونکہ کل رات پاک امریکہ تعلقات پر نیو یارک ٹائمز کا اداریہ نظر سے گزرا تھا جس کا ایک ایک لفظ دن بھر آنکھوں کے سامنے ہیڈ لائنز کی طرح چلتا رہا۔ یعنی ہم کن چکروں میں الجھے ہیں اور امریکہ بہادر ہمارے بارے کیا سوچ رہا ہے ؟ کسی کو کوئی پرواہ نہیں۔ ٹائمز کے اداریے میں انتہائی تلخ زبان استعمال کی گئی، اخبار لکھتا ہے کہ کہ نائن الیون کے پندرہ سال بعد بھی افغانستان میں جاری جنگ مزید تیز ہو رہی ہے جس کا سب سے زیادہ ذمہ دار پاکستان ہے۔ تینتیس بلین ڈالر کی امداد ہو یا بار بار امریکہ کی جانب سے باہمی تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں ہوں، حقیقیت یہ ہے کہ پاکستان امریکہ اور افغانستان کے لئے اپنی دوغلی پالسیوں کی وجہ سے خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔ اوبامہ کا افغانستان میں فوجیوں کی تعداد کم کرنے کا فیصلہ غیر دانشمندانہ تھا لیکن افغانستان میں دیر پا امن کی واحد امید طالبان کے کچھ دھڑوں کے ساتھ امن مذاکرات عمل سے مشروط ہے جس کی چابی پاکستان کے پاس ہے۔ نیو یارک ٹائمز کے اداریے نے پاکستان پر حقانی نیٹ ورک کو سپورٹ کرنے کا الزام عائد کیا ہے اور کہا ہے کہ پاک فوج کے دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن کے باوجود حقانی نیٹ ورک قبائلی علاقوں میں فعال ہے۔ اخبار نے پاکستان کے اس رویے کو ڈبل گیم سے تعبیر کرتے ہوئے امریکی انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان پر مزید دباؤ بڑھائے۔

اس اداریے پر تشویش کی بجائے مجھے امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر اور سابق وزیر خارجہ صاحبزادہ یعقوب خان یاد آگئے جنہوں نے بظاہر عمیق مدعے کو ایک مثال کے ذریعے عام فہم بنا دیا۔ ان سے پاکستانی خارجہ پالیسی بارے پوچھا گیا، جواب میں انہوں نے مداری کی مثال دی اور کہا کہ مداری جب اپنے ہاتھوں میں تین چار گیندیں ایک خاص ہنر کے تحت اچھالتا ہے تو اسے سٹیج کی ضرورت ہوتی ہے، اور سٹیج پر وہ یہ مہارت ایک خاص دورانیے تک ہی دکھا سکتا ہے، یہ نہیں ہوسکتا کہ شعبدہ باز مداری اپنی یہ مہارت چوبیس گھنٹوں تک دہراتا رہا، بس پاکستان کی خارجہ پالیسی بھی اس مداری جیسی ہی ہے۔ لیکن نہ جانیں ہم کب سمجھیں گے کہ نہ تو اب ہمارے پاس وہ سٹیج ہے اور نہ ہی ہم مسلسل تین چار گیندیں طویل دورانیے کے کھیل میں اچھال سکتے ہیں۔

باقی معاملہ سی پیک دا ہیگا جے، فوجاں اگلیاں نے نیں کڈنیاں۔


Comments

FB Login Required - comments

اجمل جامی

اجمل جامی پیشے کے اعتبار سے صحافی ہیں، آج کل دنیا ٹی وی کے لئے لائیو ٹالک شو کرتے ہیں، خود کو پارٹ ٹائم لکھاری اور لیکچرار کے علاوہ فل ٹائم ملنگ مانتے ہیں، دوسری بار ملا جائے تو زیادہ پسند آسکتے ہیں۔ دل میں اترنے کے لئے ٹویٹر کا پتہ @ajmaljami ہے۔

ajmal-jami has 14 posts and counting.See all posts by ajmal-jami