دو چیفس کے بیچ پھنسا نواز شریف


mujahid aliپاناما پیپرز کا انکشاف ہونے کے بعد وزیراعظم نواز شریف تیسری بار ملک سے باہر جا رہے ہیں۔ اس بار وہ ایک روز کے لئے انقرہ جا رہے ہیں جہاں وہ ترک صدر رجب طیب اردگان سے صلاح مشورہ کریں گے اور یہ پوچھیں گے کہ وہ موجودہ سیاسی بحران سے نکلنے کے لئے کیا کر سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے آج قومی اسمبلی میں پاناما پیپرز میں سامنے آنے والی معلومات کی روشنی میں اپنے خاندان کے اثاثوں کے بارے میں تقریر کرنے سے گریز کیا۔ اب وہ یہ تقریر سوموار کو کریں گے۔ یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا یہ موقف سامنے آنے کے بعد کیا گیا تھا جس میں انہوں نے عدالتی کمیشن قائم کرنے کی بجائے حکومت سے کہا ہے کہ وہ ان لوگوں ، خاندانوں اور کمپنیوں کے نام اور تفصیلات بتائے جن کے بارے میں تحقیقات مطلوب ہیں۔ دوسرے لفظوں میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے بھی اپوزیشن کی طرح حکومت سے تحقیقاتی کمیشن کے لئے بنائے ہوئے قواعد و ضوابط کو ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ لیکن خود کوئی اقدام کرنے کی بجائے حکومت سے کہا ہے کہ وہ کمیشن کی تشکیل کے حوالے سے واضح اور دو ٹوک معلومات فراہم کرے۔

عدالت عظمیٰ کے خط میں حکومت کے فراہم کردہ قواعد کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس طرح ایک ایسا پنڈورا بکس کھل جائے گا کہ ان تحقیقات میں کئی برس صرف ہو جائیں گے لیکن پھر بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ حکومت کو روانہ کئے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ 1956 کے ایکٹ کے تحت بنایا گیا تحقیقاتی کمیشن بے اختیار ہو گا جس کی تحقیقات سے کوئی مقصد حاصل نہیں کیا جا سکے گا۔ بلکہ اس کارروائی سے کمیشن کا نام ہی خراب ہو گا۔ خط میں کمیشن کی ساخت کے حوالے سے حکومت کو مشورہ دیا گیا ہے کہ اسے محدود مقصد کے لئے بنایا جائے، متعلقہ لوگوں ، خاندانوں یا کمپنیوں کی فہرستیں اور ان کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں۔ مجوزہ ٹی او آراز TORs کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ اس طرح کی تحقیقات میں کئی برس صرف ہو سکتے ہیں۔ اس لئے حکومت کو بااختیار کمیشن بنانے کے لئے قانون سازی پر غور کرنا چاہئے۔ گویا چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے بھی حکومت کو وہی مشورہ دیا ہے جس کا مطالبہ اپوزیشن کر رہی ہے۔ کہ صدارتی آرڈیننس یا قانون سازی کے ذریعے چیف جسٹس کی سربراہی میں بااختیار عدالتی کمیشن بنایا جائے جو صرف پاناما پیپرز کے معاملہ کی تحقیقات کا کام کرے۔ اور سب سے پہلے وزیراعظم کے خاندان کے مالی معاملات کی تحقیقات ہوں۔ اپوزیشن کا خیال ہے کہ کمیشن یہ کام تین ماہ میں پورا کر سکتا ہے جبکہ باقی آف شور کمپنیوں کے مالک باقی سینکڑوں پاکستانیوں کے معاملات 9 ماہ میں پرکھے جا سکتے ہیں۔ اس طرح ایک سال کی مدت میں مجوزہ کمیشن پاناما پیپرز کے حوالے سے سامنے آنے والے تنازعہ کا قابل قبول حل فراہم کر سکے گا۔

پاناما پیپرز کا معاملہ پیچیدہ اور مشکل ہے اور اس میں متعدد ملکوں کے قانونی تقاضوں کو پیش نظر رکھنا ضروری ہو گا۔ اس لئے یہ کہنا مشکل ہے کہ پاکستان میں اپوزیشن کے مطالبے اور چیف جسٹس کے تقاضے کے مطابق کمیشن کا قیام اتنی ہی آسانی سے مسئلہ حل کر سکے گا۔ تاہم حکومت نے اس تہہ در تہہ مشکلات کو سمجھتے ہوئے بھی معاملہ حل کرنے کے لئے کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا ہے۔ دو بار قوم سے خطاب اور متعدد تقریریں کرنے کے باوجود نواز شریف نے اپنے خاندان کے اثاثوں کی نوعیت اور قانونی حیثیت کے بارے میں وہ معلومات فراہم کرنے سے گریز کیا ہے، جس کا تقاضہ اپوزیشن سات سوالوں کی صورت میں کر رہی ہے۔ اس حوالے سے دوسرا اقدام یہ کیا جا سکتا تھا کہ حکومت اپوزیشن کی طرف سے متبادل ٹی او آرز کی تجاویز سامنے آنے کے بعد مخالفانہ بیانات میں ان کا خاکہ اڑانے کی بجائے فوری طور پر مذاکرات کا آغاز کرتی اور کمیشن کے قیام کے طریقہ کار اور اس کے قواعد کے حوالے سے کسی متفقہ نتیجہ پر پہنچا جاتا۔ اور سب سے مستحسن اور آسان طریقہ یہ ہو سکتا تھا کہ جمہوری روایت کے مطابق نواز شریف وقتی طور پر وزارت عظمیٰ سے علیحدہ ہو جاتے اور اپنے کسی وفادار کو وزیراعظم بنوا کر اپوزیشن سے یہ معاملہ طے کرنے کی کوشش کرتے۔ اس طرح اپوزیشن کی اخلاقی اور سیاسی پوزیشن کو کمزور کیا جا سکتا تھا۔

نواز شریف ان میں سے کوئی بھی قدم اٹھانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ اس کی بجائے انہوں نے اپوزیشن کو الجھانے اور وقت ضائع کرنے کا رویہ اختیار کیا۔ اس لئے گزشتہ پانچ چھ ہفتوں سے ملک پاناما پیپرز کے حوالے سے بحث میں الجھا ہوا ہے اور اہم قومی معاملات پس منظر میں جا رہے ہیں۔ افغانستان کے ساتھ سرحد پر باڑ لگانے کے سوال پر تصادم کی کیفیت پیدا ہو چکی ہے، امریکہ کے ساتھ تعلقات کشیدگی کی نئی سطح تک پہنچ چکے ہیں، بھارت کے ساتھ مذاکرات شروع ہونے کی ہر امید دم توڑ چکی ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے اقدامات عدم توجہی کا شکار ہیں۔ کیونکہ حکومت کی پوری توجہ اس امر پر مرکوز ہے کہ کس طرح پاناما پیپرز سے پیدا شدہ بحران سے نکلا جا سکے لیکن یہ بحران گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ کوئی بھی مسئلہ خود سے حل نہیں ہو سکتا۔ اس کا حل تلاش کرنے کے لئے اس کا سامنا کرنے اور امکانات پر غور کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ نواز شریف فیصلہ کرنے کی اس صلاحیت کا مظاہرہ کرنے میں ناکام ہیں۔ اسی رویہ کی وجہ سے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے بدھ کو وزیراعظم سے ملاقات میں واضح کیا کہ انہیں یہ بحران جلد ختم کرنا چاہئے کیونکہ اس کی وجہ سے قومی سلامتی اور دیگر اہم معاملات التوا کا شکار ہیں۔

وزیراعظم کا خیال تھا کہ وہ قومی اسمبلی میں تقریر کر کے فوج کو بھی خوش کر لیں گے اور اپوزیشن بھی راضی ہو جائے گی کہ قائد ایوان بالآخر ان سے بات کرنے کے لئے تشریف لائے ہیں۔ تاہم وزیراعظم کے جمعہ کے روز قومی اسمبلی میں آنے کا اعلان ہوتے ہی اپوزیشن کی طرف سے سات سوال جاری کر دئیے گئے اور تقاضہ کیا گیا کہ وہ ان سوالوں کے جواب فراہم کریں۔ نواز شریف اور حکومت ان سوالوں کے براہ راست جواب دینے سے گریز کر رہی ہے اور یہی خرابی کی جڑ بھی ہے۔ اب سپریم کورٹ نے بھی اپنی آواز اس مطالبے میں شامل کر دی ہے کہ پاناما پیپرز کی تحقیقات کے لئے با اختیار کمیشن بنایا جائے اور نام لے کر بتایا جائے کہ کس شخص یا خاندان کی تحقیقات مطلوب ہیں۔

اس بات کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہے کہ چیف جسٹس کا یہ خط ایک ایسے وقت روانہ کیا گیا ہے جب حکومت، اپوزیشن اور فوج کے دباﺅ میں تھی اور اس کی واحد دلیل یہ تھی کہ چیف جسٹس کو کمیشن قائم کرنے کے لئے خط لکھ دیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی میں وزیراعظم کی تقریر سے عین پہلے یہ خط جاری کر کے وزیراعظم اور ان کے ساتھیوں کو اس اہم ترین عذر اور دلیل سے محروم کیا گیا ہے اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ حکومت کے تجویز کردہ ٹی او آرز کے ذریعے ویسی تحقیقات نہیں ہو سکتیں جن کے ذریعے واقعی کسی خاندان کی بدعنوانی کا پردہ فاش ہو جائے۔ گویا چیف جسٹس نے اپوزیشن کی تائید کرتے ہوئے خصوصی قانون کے تحت خصوصی اختیارات کے ساتھ خصوصی کمیشن بنانے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس طرح اب حکومت ایک طرف ہے اور سپریم کورٹ ، فوج اور اپوزیشن دوسری طرف ہیں۔ اس لحاظ سے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی طرف سے آج ہی خط روانہ کرنے کا فیصلہ یہ واضح کرتا ہے کہ یہ خط صرف قانونی تقاضہ پورا کرنے کے لئے نہیں لکھا گیا بلکہ یہ سپریم کورٹ کی سیاسی چال بھی ہے۔ یوں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے عدالت عظمیٰ کی خود مختاری کو سیاست سے آلودہ کرنے کی روایت کو برقرار رکھا ہے جو باوقار اور غیر جانبدار عدلیہ کے اصول سے متصادم ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ حکومت کے ٹی او آراز کے ذریعے جو تحقیقات کروانے کے لئے کہا گیا ہے وہ بہت جامع اور لامحدود ہیں۔ یہ بات کسی حد تک درست ہے۔ حکومت بھی دراصل معاملہ کو الجھانا ہی چاہتی ہے۔ لیکن یہ چیف جسٹس کے اختیار میں تھا کہ وہ کمیشن مقرر کرتے ہوئے اسے پہلے پاناما پیپرز کا معاملہ طے کرنے کا پابند کرتے اور واضح کیا جاتا کہ اس حوالے سے تحقیقات مکمل ہو جانے کے بعد دیگر شعبوں یا ادوار کی طرف توجہ دی جا سکتی ہے۔ یا حکومت سے کمیشن کے بارے میں استفسار کے لئے لکھے گئے خط کو سیاسی بیان کی بجائے قانونی تقاضہ پورا کرنے کی دستاویز بنایا جاتا۔ چیف جسٹس نے تین ہفتے غور کرنے کے بعد یہ خط لکھا ہے، اس لئے یہ سمجھنے میں مشکل نہیں ہونی چاہئے کہ یہ سپریم کورٹ کے سربراہ کا سوچا سمجھا اور واضح موقف ہے۔ جب اس مرحلہ پر چیف جسٹس کے ایک خط سے ان کے ارادے ظاہر ہو رہے ہوں تو سرکاری حلقوں میں سپریم کورٹ کے بارے میں بے چینی اور پریشانی پیدا ہونا فطری بات ہے۔ اس کے برعکس آرمی چیف نے یہ واضح نہیں کیا ہے کہ وہ پاناما پیپرز کا معاملہ کیسے حل کروانا چاہتے ہیں۔ ان کی کہی گئی بات کے حوالے سے جو خبر دی گئی ہے اس میں صرف بحران سے نکلنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ یہ ایک فطری اور ضروری رویہ بھی ہو سکتا ہے۔

اب تک کی اطلاعات کے مطابق وزیراعظم سوموار کو قومی اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ انہیں اس اہم تقریر سے پہلے صدر اردگان کی بجائے اپنے قریب ترین سیاسی ساتھیوں اور اہل خاندان سے صلاح مشورہ کرنا چاہئے تھا۔ اب ان کے پاس بحران سے نکلنے کے دو ہی باوقار راستے ہیں:

الف) وہ مستعفی ہو جائیں اور مسلم لیگ (ن) کا دوسرا نمائندہ وزیراعظم بن کر بحران سے نمٹے۔

ب) سپریم کورٹ کے مشورہ کے مطابق قانون سازی کے ذریعے عدالتی کمیشن قائم کیا جائے اور اسے پاناما پیپرز میں سامنے آنے والی معلومات کی تحقیقات کا کام سونپا جائے۔ اور کہا جائے کہ سب سے پہلے نواز شریف کے خاندان کے معاملات دیکھے جائیں۔

ان دو میں سے کوئی ایک طریقہ اختیار نہ کیا گیا تو موجودہ بحران سنگین صورت اختیار کرتا رہے گا۔ پھر وہ پارٹیاں بھی جو درحقیقت حکومت گرانے کی حامی نہیں ہیں، اسی راہ پر چلنے پر مجبور ہوں گی۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 415 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali